صحابیات و امہات المؤمنین

ام المومنین حضرت سیدہ ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا

« رملة بنت أبي سفيان صخر بن حرب بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف القرشية الأموية »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

ام المؤمنین حضرت سیدہ ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ آپ کا اصل نام رملہ تھا جبکہ ام حبیبہ آپ کی کنیت تھی۔ آپ کے والد مشہور سردار قریش حضرت ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ تھے جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے۔ آپ کی والدہ کا نام صفیہ بنت ابی العاص تھا جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو امیہ سے تھا۔ آپ کی ولادت ہجرت سے تقریباً 35 سال قبل 588ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ اوائل زندگی میں آپ کا نکاح عبیداللہ بن جحش اسدی سے ہوا، جو رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے، یعنی آپ کے چچا زاد بھائی۔ اس نکاح سے آپ کی ایک بیٹی حبیبہ پیدا ہوئیں، جن کے نام پر آپ کی کنیت ‘ام حبیبہ’ مشہور ہوئی۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ان اولین لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے اپنے آبائی مذہب کی شدید مخالفت کے باوجود اسلام قبول کیا اور حق کی آواز پر لبیک کہا۔ آپ اور آپ کے شوہر عبیداللہ بن جحش دونوں نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا۔ جب مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اپنی انتہا کو پہنچ گیا تو رسول اللہ ﷺ کے حکم پر آپ نے اپنے شوہر اور بیٹی حبیبہ کے ہمراہ دوسرے مسلمانوں کے قافلے کے ساتھ حبشہ (ایتھوپیا) کی طرف ہجرت کی۔ یہ ہجرت نبوت کے پانچویں سال میں ہوئی اور اسے ہجرت ثانیہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ حبشہ میں قیام کے دوران آپ کو ایک بڑی آزمائش سے گزرنا پڑا جب آپ کے شوہر عبیداللہ بن جحش نے عیسائیت اختیار کر لی اور کچھ عرصے بعد وہیں وفات پا گئے۔ اس کڑے وقت میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دین اسلام پر غیر متزلزل استقامت کا مظاہرہ کیا اور ہر مشکل میں اپنے ایمان کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔

رسول اللہ ﷺ سے نکاح اور ازواجِ مطہرات میں مقام

آپ کے صبر اور دین پر استقامت کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور آپ کے لیے عزت و رفعت کا ایک عظیم مقام مقدر کیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کو عبیداللہ بن جحش کی وفات کی خبر ملی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حبشہ میں تنہا رہ گئی ہیں، تو آپ ﷺ نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو پیغام بھیجا کہ وہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کر دیں۔ نجاشی نے بخوشی اس پیغام کو قبول کیا اور آپ ﷺ کی طرف سے مہر ادا کیا جو 400 دینار تھا۔ سن 7 ہجری میں نجاشی نے اپنی موجودگی میں آپ ﷺ کے وکیل کے طور پر حضرت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ذریعے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کر دیا۔ اس کے بعد نجاشی نے آپ کو عزت و اکرام کے ساتھ دوسرے مہاجرین کے ساتھ مدینہ منورہ بھیجا۔ اس نکاح کے بعد آپ ام المؤمنین کے شرف سے سرفراز ہوئیں۔ آپ کا نکاح اس وقت ہوا جب آپ کے والد ابوسفیان ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ اس نکاح نے رشتوں کے ذریعے آپ ﷺ اور بنو امیہ کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

نمایاں فضائل و مناقب اور سیرتِ طیبہ کے اہم پہلو

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی سیرت تقویٰ، صبر اور سخاوت کا بہترین نمونہ تھا۔ آپ فقیہہ تھیں اور کئی احادیث کی راوی بھی تھیں۔ آپ سے تقریباً 65 احادیث مروی ہیں جن کو آپ کے بھائی حضرت معاویہ، حضرت عروہ بن زبیر، حضرت زینب بنت ابی سلمہ اور دیگر صحابہ و تابعین نے روایت کیا۔ آپ رسول اللہ ﷺ سے بے پناہ محبت کرتی تھیں اور ان کے بستر پر کسی مشرک کو بیٹھنے نہ دینا آپ کے شدید احترام اور محبت کا مظہر تھا۔ ایک مرتبہ ابوسفیان فتح مکہ سے قبل مدینہ آئے اور اپنی بیٹی حضرت ام حبیبہ کے گھر گئے تو رسول اللہ ﷺ کے بستر پر بیٹھنا چاہا۔ آپ نے بستر لپیٹ لیا اور فرمایا کہ ‘یہ اللہ کے رسول ﷺ کا بستر ہے اور آپ مشرک ہیں۔’ آپ کثرت سے نوافل ادا کرنے والی تھیں اور خاص طور پر بارہ رکعات نفل ادا کرنے کی فضیلت پر بہت زور دیتی تھیں، جیسا کہ مشہور حدیث میں ہے۔ آپ سخی تھیں اور آپ کی سیرت اسلامی تعلیمات پر مکمل عمل پیرا ہونے کی زندہ مثال تھی۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

ام المؤمنین حضرت سیدہ ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں گزارا اور اسلام کی خدمت کی۔ آپ نے مدینہ منورہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سن 44 ہجری (بعض روایات کے مطابق 42 ہجری) میں وفات پائی۔ آپ کی عمر مبارک اس وقت تقریباً 79 سال تھی۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا جہاں دیگر ازواج مطہرات اور صحابہ کرام آرام فرما ہیں۔ آپ کی زندگی، خصوصاً آپ کی ہجرت حبشہ، دین پر استقامت اور رسول اللہ ﷺ سے آپ کا نکاح، اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ آپ کی مرویات احادیث امت مسلمہ کے لیے علمی میراث کا حصہ ہیں اور آپ کی سیرت خواتین اسلام کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)

مبارک اقوال و ارشادات

1. جب ابوسفیان (فتح مکہ سے قبل) مدینہ آئے اور نبی اکرم ﷺ کے بستر پر بیٹھنا چاہا تو آپ نے بستر لپیٹ لیا اور فرمایا: 'یہ اللہ کے رسول ﷺ کا بستر ہے اور آپ مشرک ہیں۔'

2. 'جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں (فرض کے علاوہ) ادا کیں، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جاتا ہے۔'

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
#Umm Ul Momineen Hazrat Sayyida Umm Habibaa Ramalaa Bint Abi Sufyan #Umm Ul Momineen Hazrat Sayyida Umm Habibaa Ramalaa Bint Abi Sufyan History in Urdu #Islami Khawateen #Islami Shakhsiyat #Islami Waqiat in Urdu #Islamic History in Urdu #Sahabiyat in Urdu #Seerat e Sahabiyat #Tareekh e Islam
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ام المومنین حضرت سیدہ ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا

لقب و کنیت: ام المؤمنین، ام حبیبہ، سیدہ ام حبیبہ
قبیلہ: قریش، بنو امیہ
سن پیدائش و وفات: سن پیدائش: 35 ق ھ / 588ء | سن وفات: 44 ھ / 664ء
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com