خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
تیسرے عباسی خلیفہ محمد المہدی بن ابو جعفر المنصور 126 ہجری (بمطابق 744ء) میں حمیمہ (اردن) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نسب محمد بن عبداللہ (المنصور) بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس ہے۔ ان کی والدہ کا نام ارویٰ بنت منصور حمیری تھا جو یمن کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ المہدی کی پرورش علم و ادب کے گہوارے میں ہوئی۔ ان کے والد ابو جعفر المنصور نے ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی اور انہیں اس دور کے جید علماء، محدثین اور فقہاء سے تعلیم دلوائی جس کی وجہ سے وہ ایک فصیح و بلیغ، شفیق اور عادل حکمران بن کر ابھرے۔
خلافت اور سیاسی نظامِ حکومت
اپنے والد ابو جعفر المنصور کی وفات کے بعد 158 ہجری میں المہدی نے خلافت کا منصب سنبھالا۔ المنصور کا دور جہاں سختی اور سلطنت کے استحکام کا دور تھا، وہیں المہدی نے اپنے دورِ خلافت میں نرمی، عفو و درگزر اور رفاہِ عامہ کی پالیسی اپنائی۔ انہوں نے قید خانوں سے ان تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا جن پر سنگین جرائم کے مقدمات نہیں تھے۔ انہوں نے ڈاک کا نظام (دیوان البرید) انتہائی مربوط کیا، مکہ اور مدینہ کے درمیان مسافروں کے لیے سرائے اور کنویں بنوائے اور کعبۃ اللہ کے غلاف کو تبدیل کرنے اور مسجد حرام کی توسیع کا عظیم کام انجام دیا۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
خلیفہ مہدی اپنے زہد، سخاوت اور رعایا پروری کے لیے مشہور تھے۔ انہوں نے بیت المال کا دروازہ عام لوگوں کے لیے کھول دیا۔ ان کے دور میں زنادقہ (ملحدین) کا فتنہ اٹھا جس کا انہوں نے علمی اور عسکری دونوں محاذوں پر سختی سے سدِ باب کیا اور عقیدہِ ختمِ نبوت اور اسلامی نظریات کے تحفظ کے لیے ایک مستقل شعبہ قائم کیا۔ بازنطینی سلطنت (روم) کے خلاف ان کے دور میں کامیاب مہمات بھیجی گئیں جن کی قیادت ان کے بیٹے ہارون الرشید نے کی اور رومیوں کو جزیہ دینے پر مجبور کیا۔ المہدی سادگی پسند تھے اور علم و ادب اور فقہ کی سرپرستی دل کھول کر کرتے تھے۔
وصال اور تاریخی میراث
خلیفہ محمد المہدی کا وصال 22 محرم الحرام 169 ہجری (بمطابق 785ء) کو شکار کے دوران پیش آنے والے ایک حادثے کے نتیجے میں ہوا۔ بعض مؤرخین کے مطابق انہیں زہر دیا گیا تھا لیکن مستند ترین روایت کے مطابق وہ شکار گاہ میں گھوڑے کے گرنے کے باعث جاں بحق ہوئے۔ ان کی نمازِ جنازہ ان کے بیٹے ہارون الرشید نے پڑھائی اور انہیں ماسبذان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کا تیرہ سالہ دورِ حکومت عباسی خلافت کا سنہرا دور سمجھا جاتا ہے جس نے بعد میں ہارون الرشید کے مثالی دور کی بنیاد رکھی۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام ابن جریر الطبری (تاریخ الرسل والملوک)
- امام ابن کثیر (البدایہ والنہایہ، جلد 10)
- امام جلال الدین السیوطی (تاریخ الخلفاء)
- امام ذہبی (سیر اعلام النبلاء)
- ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ)
مبارک اقوال و ارشادات
عدل و انصاف کے بغیر بادشاہت ایسے ہی ہے جیسے بغیر ستون کے چھت۔
رعایا کے دلوں کو خوف کے بجائے عفو و درگزر اور انصاف سے فتح کرنا میری پہلی ترجیح ہے۔
سخاوت وہ نیک نامی ہے جو انسان کے مرنے کے بعد بھی اس کا نام زندہ رکھتی ہے۔
