خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت جَرهَد بن خُویلد رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے اطراف میں آباد عرب کے مشہور قبیلہ بنو اسلم سے تھا، جو قبیلہ خُزاعہ کی ایک شاخ تھی۔ آپ کا مکمل نام جرهد بن خویلد الاسلمی تھا۔ آپ ان خوش نصیب صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ظہورِ قدسی کے ابتدائی ایام میں ہی اسلام قبول کیا اور آپ ﷺ کی براہ راست رفاقت کا شرف حاصل کیا۔ انہیں عموماً "جرهد الاسلمی” کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور ان کا قبیلہ ان کی شناخت کا ایک اہم جزو تھا۔ تاریخ میں ان کا کوئی خاص اضافی لقب یا کنیت مذکور نہیں۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت جرهد رضی اللہ عنہ نے اپنی ابتدائی زندگی عرب کے قبائلی معاشرتی ڈھانچے میں گزاری۔ جب نبی اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا تو آپ ﷺ کی پر اثر دعوتِ حق اور صداقت کو قبول کرنے والوں میں حضرت جرهد رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ آپ نے صدقِ دل سے اسلام قبول کیا اور اپنی زندگی کو احکاماتِ الٰہی اور سنتِ نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھال لیا۔ آپ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی دشوار کن منازل میں رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا اور آپ کے ہر حکم کی تعمیل میں پیش پیش رہے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت جرهد بن خویلد رضی اللہ عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ اور امت مسلمہ کے لیے ان کی سب سے بڑی خدمت ایک نہایت اہم حدیث کی روایت ہے جو ستر کے احکام اور حیاء کے متعلق ہے۔ یہ حدیث اسلامی فقہ میں ستر پوشی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور اس بارے میں ایک بنیادی اصول فراہم کرتی ہے کہ مرد کے لیے ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا حصہ ستر ہے۔
اس واقعہ کا خلاصہ یوں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جرهد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے یا آپ ﷺ کے پاس موجود تھے۔ اتفاقاً ان کی ران (فخذ) کا کچھ حصہ کھلا ہوا تھا یا انہوں نے اپنی ران ننگی کر رکھی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے ان پر نظر ڈالی اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اپنی ران ڈھانپ لو، کیونکہ ران ستر میں سے ہے۔” (غَطِّ فخذَكَ فإن الفخذَ عورةٌ)
یہ حدیث سنن ابی داؤد (حدیث نمبر 4014) اور جامع ترمذی (حدیث نمبر 2795) سمیت دیگر کتب حدیث میں موجود ہے۔ یہ واقعہ نبی اکرم ﷺ کی امت کو حیاء و پاکیزگی کی تعلیم دینے اور اسلامی معاشرت کے اصولوں کو واضح کرنے کی ایک عملی مثال ہے۔ حضرت جرهد رضی اللہ عنہ نے اس اہم نبوی تعلیم کو محفوظ کیا اور اس کی روایت کے ذریعے آئندہ نسلوں تک پہنچایا، جس پر فقہاء کرام نے ستر کے احکام کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ، آپ ان خوش نصیب صحابہ کرام میں سے تھے جو حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شامل ہوئے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان صحابہ سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا۔ حضرت جرهد رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی اطاعتِ رسول اور ایمانی تقاضوں کی تکمیل میں گزاری۔
میراث اور وصال
حضرت جرهد بن خویلد رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں تاریخ میں کوئی خاص تفصیلی روایت موجود نہیں، جس سے ان کی تاریخ یا مقامِ وفات کا علم ہو سکے۔ تاہم، انہوں نے ایک سچے مسلمان کے طور پر اپنی زندگی گزاری اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وقت گزارنے کا شرف حاصل کیا۔ ان کی سب سے بڑی میراث وہی حدیث ہے جس کی روایت انہوں نے کی، اور جس کی وجہ سے انہیں یاد کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث اسلامی معاشرت میں ستر پوشی اور حیاء کی اہمیت کو واضح کرتی ہے اور ہر مسلمان کے لیے ایک دائمی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپ اسلام کے ان ابتدائی داعیوں اور معاونین میں سے تھے جنہوں نے دینِ حق کی اشاعت اور اس کی تعلیمات کو محفوظ کرنے میں اپنا خاموش مگر گہرا کردار ادا کیا۔
مستند حوالہ جات
- سنن ابی داؤد، کتاب الحمام، باب ما جاء في كشف العورة، حدیث نمبر 4014
- جامع ترمذی، کتاب الأدب عن رسول اللہ ﷺ، باب ما جاء أن الفخذ عورة، حدیث نمبر 2795
- مسند احمد بن حنبل، جلد 3، صفحہ 479
- ابن الاثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، جرہد بن خویلد
- ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، جرہد بن خویلد الاسلمی
- الذہبی، سیر اعلام النبلاء، جرہد بن خویلد الاسلمی (مختصر تذکرہ)
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
