خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام عز بن عبد السلام رحمہ اللہ کی ولادت 577 ہجری (بمطابق 1181 عیسوی) میں شام کے تاریخی دارالحکومت دمشق میں ہوئی۔ آپ کا پورا نام عبد العزيز بن عبد السلام السلمی تھا اور آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنو سلیم سے تھا۔ آپ کا خاندان نہایت غریب اور تنگ دست تھا، جس کی وجہ سے آپ نے بچپن میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ آپ نے جوانی کے آغاز میں جامع اموی دمشق کے دروازے پر ایک غریب خادم کے طور پر زندگی شروع کی، جہاں آپ دلی حظ اور شوقِ علم کی تڑپ کے باوجود کتب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔
ایک مرتبہ دمشق میں سخت سردی کی رات آپ مسجد کے صحن میں سوئے تو غسل کی حاجت پیش آئی۔ شدید سرد پانی سے غسل کرنے کے بعد آپ شدید بیمار پڑ گئے، اسی حالت میں آپ کو خواب میں رہنمائی ملی۔ آپ نے پختہ عزم کیا اور حصولِ علم کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ دمشق کے نامور محدثین اور فقہا کی مجالس میں بیٹھنا شروع کیا۔ اگرچہ آپ نے حصولِ علم کا آغاز تاخیر سے کیا، لیکن اپنی بے پناہ ذہانت، شبانہ روز محنت اور اخلاص کی بدولت جلد ہی اپنے عہد کے تمام ہم عصروں پر سبقت لے گئے اور دمشق کے سب سے بڑے مفتی، مجتہد اور محدث بن کر ابھرے۔
علمی مقام، فقہی بصیرت اور القاب
امام عز بن عبد السلام فقہ شافعی کے عظیم ترین مجتہدین میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کے معاصر عظیم مالکی فقیہ امام ابن الحاجب نے آپ کی علمی جلالت کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو سب سے پہلے "سلطان العلماء” (علما کے بادشاہ) کا لقب دیا، جو رہتی دنیا تک آپ کی پہچان بن گیا۔ آپ نے اصولِ فقہ، مقاصدِ شریعت اور تصوف میں اجتہاد کا درجہ حاصل کیا۔ آپ کی تصنیف "قواعد الأحكام في مصالح الأنام” مقاصدِ شریعت پر لکھی گئی اسلامی تاریخ کی سب سے جامع اور بنیادی دستاویز مانی جاتی ہے، جس میں آپ نے ثابت کیا کہ اسلام کا ہر حکم انسانیت کے فائدے کے لیے ہے۔
آپ نے دمشق کی جامع مسجد اموی میں خطابت اور تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔ آپ کی درسگاہ میں شام، مصر اور دیگر اسلامی علاقوں کے سینکڑوں طلبہ زانوئے تلمذ طے کرتے تھے۔ آپ کے ممتاز ترین شاگردوں میں امام ابن دقیق العید (جو خود مجتہد تھے) شامل ہیں، جو اپنے استاد کے علم اور زہد کے گواہ بنے۔
سیاسی و سماجی خدمات اور جراتِ رندانہ
امام عز بن عبد السلام کی شہرت محض ان کی کتب کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے بے باک کردار اور حکمرانوں کے سامنے کلمۂ حق کہنے کی وجہ سے ہے۔ آپ کی زندگی کے دو تاریخی واقعات سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں:
1۔ دمشق کا فتنہ اور قید و بند: جب دمشق کے حاکم صالح اسماعیل نے اپنے مسلمان بھائیوں (مصر کے ایوبیوں) کے خلاف صلیبیوں (Franks) سے اتحاد کر لیا اور انہیں مسلمانوں کے قلعے اور اسلحہ فروخت کرنے کی اجازت دی، تو امام عز بن عبد السلام نے اموی مسجد کے منبر پر کھڑے ہو کر اس غداری کی شدید مذمت کی اور حاکمِ دمشق کا خطبے سے نام خارج کر دیا۔ اس جرات پر انہیں قید کر دیا گیا۔ جب قید خانے میں صلیبی وفد نے آپ کے قرآن پڑھنے کی آواز سنی تو صالح اسماعیل نے فخر سے کہا کہ ‘یہ مسلمانوں کے سب سے بڑے عالم ہیں جنہیں میں نے تمہاری خاطر قید کر رکھا ہے’، تو صلیبیوں نے جواب دیا: ‘اگر ایسا عالم ہمارے ہاں ہوتا تو ہم اس کے پاؤں دھو کر پیتے!’ بعد ازاں آپ دمشق سے ہجرت کر کے مصر تشریف لے گئے۔
2۔ بائع الملوک (سلاطین کو فروخت کرنے والا): مصر پہنچنے پر مملوک سلاطین کے دور میں آپ کو قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) مقرر کیا گیا۔ آپ نے دیکھا کہ سلطنت کے بڑے بڑے عسکری جرنیل اور وزرا دراصل ماضی کے خریدے ہوئے غلام (مملوک) ہیں جنہیں باقاعدہ آزاد نہیں کیا گیا، لہذا شرعی طور پر وہ نہ تو آزادانہ تصرف کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے معاہدات جائز ہیں۔ آپ نے شاہی محل کے دباؤ کی پروا کیے بغیر فتویٰ دیا کہ ان تمام وزرا اور امرا کو بازار میں غلاموں کی طرح فروخت کیا جائے اور ان کی قیمت بیت المال میں جمع کی جائے۔ جب نائب السلطنت نے آپ کو قتل کی دھمکی دی، تو آپ اپنا بوریا بستر اٹھا کر گدھے پر سوار ہو کر قاہرہ سے چل دیے۔ قاہرہ کی عوام آپ کے پیچھے چل پڑی، جس پر سلطان خود دوڑا آیا اور معافی مانگ کر آپ کے فتوے پر عمل کیا۔ چنانچہ اسلامی تاریخ میں پہلی بار وزرا اور جرنیلوں کو بازار میں نیلام کیا گیا اور امام صاحب نے خود بولی لگا کر انہیں فروخت کیا، اسی وجہ سے آپ کو "بائع الملوک” کہا جاتا ہے۔
3۔ معرکہ عین جالوت میں کردار: جب تاتاریوں (منگولوں) نے بغداد کو تباہ کرنے کے بعد مصر کا رخ کیا، تو سلطان سیف الدین قطز نے جنگ کے لیے عوام پر ٹیکس لگانے کا ارادہ کیا۔ امام عز بن عبد السلام نے تاریخی فتویٰ دیا کہ ‘جب تک شاہی خاندان کی عورتوں کے زیورات، وزرا کے محلات اور شاہی خزانہ خالی نہ ہو جائے، عوام پر ایک درہم بھی ٹیکس لگانا حرام ہے’۔ سلطان نے اس پر عمل کیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں وہ اتحاد پیدا ہوا جس نے معرکہ عین جالوت میں تاتاریوں کو تاریخ کی پہلی عبرتناک شکست دی۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
سلطان العلماء امام عز بن عبد السلام نے اپنی طویل اور پر آشوب زندگی کا بڑا حصہ اسلام کی علمی و سیاسی سربلندی کے لیے وقف رکھا۔ بالآخر 10 جمادی الاولیٰ 660 ہجری (بمطابق 1262 عیسوی) کو قاہرہ، مصر میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ کے جنازے میں مصر کے سلطان رکن الدین بیبرس، وزرا، امرا، علما اور لاکھوں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ سلطان بیبرس نے آپ کے جنازے کو دیکھ کر حسرت سے کہا: ‘آج میری سلطنت مستحکم ہوئی ہے، کیونکہ اگر یہ بوڑھا شخص لوگوں کو میرے خلاف خروج کا حکم دیتا، تو میری سلطنت پلک جھپکتے ہی چھن جاتی۔’ آپ کو جبلِ مقطم کے دامن میں قرافہ صغریٰ میں سپردِ خاک کیا گیا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- تاج الدین السبکی (طبقات الشافعیہ الکبریٰ)
- امام شمس الدین الذہبی (سیر اعلام النبلاء)
- ابن کثیر دمشقی (البدایہ والنہایہ)
- ابن عماد الحنبلی (شذرات الذہب فی اخبار من ذہب)
- جلال الدین السیوطی (حسن المحاضرہ فی تاریخ مصر والقاہرہ)
مبارک اقوال و ارشادات
1۔ "شریعتِ اسلامیہ کے تمام احکام کا واحد مقصد بندوں کے مصالح (بھلائی) کو حاصل کرنا اور ان سے مفاسد (نقصانات) کو دفع کرنا ہے۔"
2۔ "جب حکمران اللہ کی حدود کو پامال کرنے لگیں، تو علما پر فرض ہے کہ وہ خاموشی توڑیں، چاہے اس کی قیمت ان کی جان ہی کیوں نہ ہو۔"
3۔ "کسی مفتی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مسئلے میں رخصت کا فتویٰ دے جبکہ وہ جانتا ہو کہ سائل اس رخصت کو حرام کام کا ذریعہ بنائے گا۔"
