خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الطبریؒ کا شمار امتِ مسلمہ کے جلیل القدر ائمہ، مفسرین، محدثین، فقہاء اور مؤرخین میں ہوتا ہے۔ آپ 224 ہجری (839 عیسوی) میں طبرستان کے شہر عمول میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق فارسی النسل خاندان سے تھا جس نے اسلام قبول کیا تھا۔ آپ کی غیر معمولی ذہانت اور قوتِ حافظہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا، آٹھ سال کی عمر میں امامت کے فرائض انجام دینے لگے تھے اور نو سال کی عمر سے احادیث لکھنا شروع کر دی تھیں۔ آپ کے والد نے آپ کی علمی صلاحیتوں کو بھانپ لیا تھا اور آپ کو حصولِ علم کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی، یہانتک کہ ایک روایت کے مطابق انہوں نے آپ کو خواب میں دیکھا تھا کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے پتھر پھینک رہے ہیں، جس کی تعبیر ایک عالمِ دین نے یہ بتائی کہ آپ علمِ شریعت کی خدمت کریں گے اور باطل کا رد کریں گے۔
اوائل عمری ہی میں آپ نے علم کی پیاس بجھانے کے لیے سفر کا آغاز کر دیا۔ سب سے پہلے آپ نے اپنے آبائی علاقے سے رے کا سفر کیا جہاں آپ نے کئی نامور شیوخ سے حدیث اور فقہ کا علم حاصل کیا۔ آپ کا ایک مقصد امام احمد بن حنبلؒ سے علم حاصل کرنا بھی تھا، مگر جب آپ بغداد پہنچے تو امام احمدؒ کا انتقال ہو چکا تھا۔ تاہم، آپ نے ان کے شاگردوں اور ہم عصر علماء سے خوب استفادہ کیا۔
علمی مقام، کارنامے اور خدمات
امام طبریؒ نے حصولِ علم کے لیے ایک وسیع اور طویل علمی سفر کیا، جس میں آپ نے رے، کوفہ، بصرہ، واسط، مصر، شام اور بالآخر بغداد میں سکونت اختیار کی۔ آپ نے اس سفر کے دوران سینکڑوں علماء و شیوخ سے استفادہ کیا اور تفسیر، حدیث، فقہ (چاروں مذاہب فقہ کا گہرا مطالعہ)، تاریخ، لغت اور شاعری سمیت مختلف علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ کو فنونِ کثیرہ کا امام تسلیم کیا جاتا ہے۔
آپ کے علمی کارناموں میں سب سے نمایاں آپ کی دو عظیم تصانیف ہیں:
- جامع البيان عن تأويل آي القرآن (تفسیر طبری): یہ قرآن کی تفسیر پر ایک جامع اور قدیم ترین تصنیف ہے جو آج بھی مفسرین کے لیے ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں آپ نے ہر آیت کی تفسیر کے لیے اقوالِ صحابہ، تابعین اور دیگر ائمہ کے تفسیری اقوال کو سند کے ساتھ جمع کیا اور لسانی، فقہی اور تاریخی نکات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
- تاريخ الرسل والملوك (تاریخ طبری): یہ اسلامی تاریخ پر ایک ضخیم اور مستند کتاب ہے جس میں کائنات کی تخلیق سے لے کر 302 ہجری تک کے واقعات کو مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس میں آپ نے روایات کو سند کے ساتھ نقل کیا ہے، جس کی وجہ سے یہ تاریخ کے طلباء اور محققین کے لیے ایک بنیادی ماخذ ہے۔
ان کے علاوہ آپ نے حدیث، فقہ اور دیگر علوم پر بھی کئی اہم کتب تصنیف کیں جن میں تهذيب الآثار (جو نامکمل رہی)، اختلاف الفقهاء اور صريح السنة شامل ہیں۔ آپ نے ایک مستقل فقہی مذہب ‘جریریہ’ کی بھی بنیاد رکھی، اگرچہ وہ بعد میں باقی نہ رہ سکا، مگر اس سے آپ کی فقہی گہرائی اور اجتہادی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔
فضائل، مناقب اور اوصاف حمیدہ
امام طبریؒ صرف ایک عظیم عالم نہیں تھے بلکہ زہد و تقویٰ، ورع، سچائی اور استقامت کے بھی پیکر تھے۔ آپ نے کبھی کسی حکومتی عہدے یا مالی مدد کو قبول نہیں کیا اور اپنی تمام زندگی علم کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی قوتِ حافظہ ضرب المثل تھی؛ کہا جاتا ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ ایک کثیر حدیثی مجموعہ بغیر لکھے ہی حفظ کر لیا تھا۔ آپ کی علمی آزادی اور حق بات کہنے کی جرأت غیر معمولی تھی۔ آپ نے کسی بھی مذہب کی تقلید پر اصرار نہیں کیا بلکہ براہ راست قرآن و سنت سے مسائل کا استنباط کرنے میں یقین رکھتے تھے۔ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ چالیس سال تک روزانہ چالیس صفحات لکھتے رہے، جس سے آپ کی علمی تندہی اور شغف کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کو اپنے دور کا مجدد (دین کو نیا کرنے والا) قرار دیا جاتا تھا۔
وفات، تدفین اور تاریخی میراث
امام محمد بن جریر الطبریؒ نے 310 ہجری (923 عیسوی) میں 86 سال کی عمر میں بغداد میں وفات پائی۔ آپ کی وفات پر علمی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ آپ کی تدفین کے موقع پر بعض حنبلی حضرات کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے آپ کی نمازِ جنازہ اور تدفین ابتدا میں خفیہ طور پر کی گئی، لیکن بعد میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ آپ کے جنازے میں شامل ہوئے اور کئی دنوں تک آپ کے گھر کے پاس نمازیں ادا کرتے رہے۔
امام طبریؒ کی علمی میراث آج بھی زندہ ہے۔ آپ کی کتب، بالخصوص تفسیر طبری اور تاریخ طبری، اسلامی علوم کے بنیادی مآخذ میں شمار کی جاتی ہیں اور ہر دور میں علماء و محققین ان سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔ آپ کا نام تاریخِ اسلام کے ان چند چمکتے ستاروں میں شامل ہے جنہوں نے اپنے علم، تقویٰ اور غیر معمولی کاوشوں سے امتِ مسلمہ کو بے مثال علمی خزانے عطا کیے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- تاریخ بغداد، خطیب بغدادی
- سیر أعلام النبلاء، ذہبی
- وفیات الأعیان، ابن خلکان
- البدایہ والنہایہ، ابن کثیر
- معجم الأدباء، یاقوت حموی
- الکامل فی التاریخ، ابن اثیر
مبارک اقوال و ارشادات
1. "میں نے اپنی زندگی کے چالیس سال لکھنے میں صرف کیے، اور ہر روز چالیس ورق (صفحات) لکھے ہیں۔"
2. "کیا تم یہ پسند کرو گے کہ میں تمہارے لیے حدیث، تفسیر اور تاریخ پر (30-30 ہزار صفحات پر مشتمل) کتابیں لکھوں؟"
3. "اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے تجاوز کرنا جائز نہیں، اور ہر اس بات کو رد کرنا ضروری ہے جو ان کے خلاف ہو۔"
