خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام بدر الدین محمد بن عبد اللہ (جن کا اصل نام محمد بن بہادر بن عبد اللہ الزرکشی ہے) کی ولادت با سعادت 745 ہجری بمطابق 1344 عیسوی میں قاہرہ، مصر میں ہوئی۔ آپ کے والد بہادر عبد اللہ ایک ترکی مملوک تھے جو بعد میں آزاد ہو کر مصر میں آباد ہو گئے۔ بچپن ہی سے آپ میں علم کا غیر معمولی شوق پایا جاتا تھا۔ ابتدا میں آپ نے زری بافی (سونے کے تاروں سے کڑھائی کرنے کا فن) سیکھنا شروع کیا، جس کی وجہ سے آپ کو ‘الزرکشی’ کہا جانے لگا، لیکن جلد ہی آپ نے اس پیشے کو چھوڑ کر خود کو مکمل طور پر علمِ دین کے لیے وقف کر دیا۔
علمی اسفار، تحصیلِ علم اور اساتذہ
امام زرکشی رحمہ اللہ نے حصولِ علم کے لیے قاہرہ کے ساتھ ساتھ دمشق اور حلب کا سفر بھی کیا۔ آپ نے اپنے وقت کے نامور شیوخ سے فیض حاصل کیا۔ فقہ شافعی اور اصولِ فقہ آپ نے امام جمال الدین الاسنوی اور امام سراج الدین البلقینی سے سیکھی۔ حدیث کا سماع آپ نے مشہور مورخ اور محدث حافظ ابن کثیر اور شہاب الدین الاذرعی سے کیا۔ آپ کتب خانوں میں وقت گزارنے اور نایاب مسودات کی نقول تیار کرنے کے حوالے سے بہت مشہور تھے اور علم کی تلاش میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے۔
نمایاں علمی خدمات، تصانیف اور فقہی مقام
امام زرکشی رحمہ اللہ کا شمار آٹھویں صدی ہجری کے ممتاز ترین شافعی فقہاء، محدثین اور اصولی علما میں ہوتا ہے۔ علومِ قرآن پر آپ کی مایہ ناز تصنیف ‘البرہان فی علوم القرآن’ اسلامی تاریخ کی سب سے جامع ترین کتاب سمجھی جاتی ہے، جس کی بنیاد پر بعد میں امام جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب ‘الاتقان’ لکھی۔ اس کے علاوہ اصولِ فقہ میں آپ کی کتاب ‘البحر المحیط’ اور ‘سلاسل الذہب’ کو اس فن کے بنیادی مراجع میں شمار کیا جاتا ہے۔ آپ نے علومِ حدیث، فقہ اور عربی زبان و ادب پر بھی گراں قدر کتب تصنیف کیں جو آپ کی وسعتِ علمی کی منہ بولتی تصویر ہیں۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
امام بدر الدین زرکشی رحمہ اللہ نے محض 49 سال کی مختصر عمر پائی، لیکن اس قلیل عرصے میں انہوں نے علم کا وہ عظیم اثاثہ چھوڑا جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے کام آتا رہے گا۔ آپ کا وصالِ ملال 3 رمضان المبارک 794 ہجری بمطابق 1392 عیسوی کو قاہرہ میں ہوا۔ آپ کو قاہرہ کے تاریخی قبرستان ‘قرافہ’ میں باب النصر کے باہر سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی تصانیف آج بھی دنیا بھر کے مدارس اور جامعات میں بطورِ متن اور مرجع پڑھائی اور پڑھائی جاتی ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (الدرر الکامنة في أعيان المائة الثامنة)
- جلال الدین سیوطی (حسن المحاضرة في تاريخ مصر والقاهرة)
- امام سخاوی (الضوء اللامع لأهل القرن التاسع)
- ابن العماد الحنبلي (شذرات الذهب في أخبار من ذهب)
مبارک اقوال و ارشادات
علمِ اصولِ فقہ دین کے باریک اور پوشیدہ احکام کو پرکھنے کا سچا ترازو ہے۔
قرآن مجید کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے اور اس کے علوم کا کما حقہ احاطہ کرنا انسانی بس سے باہر ہے۔
