خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام ابن عساکر دمشقی رحمہ اللہ کی ولادت 499 ہجری میں شام کے تاریخی شہر دمشق میں ہوئی۔ آپ کا تعلق دمشق کے ایک انتہائی معزز، علمی اور دیندار گھرانے سے تھا، جس کی علمی جلالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے والد، بھائی اور بیٹے سبھی اپنے وقت کے جید علماء اور فقہاء تھے۔ اسی پاکیزہ اور علمی ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی۔ آپ نے بچپن ہی سے حصولِ علم کی طرف توجہ دی اور دمشق کے کبار شیوخ سے کسبِ فیض کیا۔ آپ کا حافظہ انتہائی قوی تھا، اور آپ نے اوائلِ عمر ہی میں قرآن کریم اور بنیادی متونِ حدیث کو حفظ کر لیا تھا، جس نے آگے چل کر آپ کو وقت کا سب سے بڑا محدث اور مورخ بنایا۔
علمی سفر اور تحصیلِ حدیث
امام ابن عساکر نے حصولِ علم کے لیے اسلامی دنیا کے تمام بڑے مراکز کا سفر کیا، جسے علمِ حدیث کی اصطلاح میں ‘رحلہ’ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے دمشق سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور پھر بغداد، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، اصفہان، نیشاپور، ہرات اور ہمدان جیسے بڑے علمی شہروں کا رخ کیا۔ اس طویل علمی سفر کے دوران انہوں نے 1300 سے زائد شیوخ اور اساتذہ سے علمِ حدیث، فقہ شافعی، اور تاریخ کا درس لیا۔ ان کے شیوخ میں مردوں کے ساتھ ساتھ تقریباً 80 سے زائد جید خواتین شیوخ (محدثات) بھی شامل تھیں، جن سے انہوں نے سماعِ حدیث کیا۔ ان کی علمی پیاس اور انتھک محنت کا یہ عالم تھا کہ وہ دن رات علمی مذاکروں اور کتب کی نقل نویسی میں مصروف رہتے تھے۔
نمایاں علمی خدمات، تاریخِ دمشق اور فضائل
امام ابن عساکر کی علمی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع ہے، لیکن ان کا سب سے بڑا اور لازوال کارنامہ ان کی تصنیف ‘تاریخ مدینۃ دمشق’ (تاریخ دمشق) ہے۔ یہ تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی اور تفصیلی سوانحی کتب میں سے ایک ہے، جو کہ اصل مخطوطات میں 80 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف دمشق کی تاریخ لکھی، بلکہ ان تمام انبیاء، صحابہ، تابعین، محدثین، فقہاء، سلاطین اور شعراء کے تفصیلی حالاتِ زندگی اور ان کی مرویات کو جمع کیا جنہوں نے دمشق کا سفر کیا یا وہاں قیام کیا۔ اس کتاب کو اسماء الرجال اور تاریخ کا انسائیکلوپیڈیا مانا جاتا ہے۔ سلطان نور الدین زنگی ان کی علمی جلالت کے بے حد معترف تھے اور انہوں نے خاص طور پر امام ابن عساکر کے لیے دمشق میں ‘دار الحدیث النوریہ’ قائم کیا، جہاں بیٹھ کر انہوں نے درسِ حدیث دیا اور اپنی کتب تصنیف کیں۔
وصال اور علمی میراث
امام ابن عساکر دمشقی نے 11 رجب 571 ہجری (بمطابق 1176ء) کو دمشق میں وفات پائی۔ ان کی وفات کا صدمہ پورے عالمِ اسلام بالخصوص دمشق کے عوام اور حکمرانوں کو تھا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں اس وقت کے عظیم مجاہد اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے بذاتِ خود شرکت کی اور ان کے جنازے کو کندھا دیا۔ انہیں دمشق کے مشہور تاریخی قبرستان ‘باب الصغیر’ میں ان کے والد کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آپ نے اپنے پیچھے تصنیفات کا ایک ایسا عظیم ذخیرہ چھوڑا جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کی علمی رہنمائی کرتا رہے گا۔ تاریخِ دمشق کے علاوہ ‘تبیین کذب المفتری’، ‘اربعون حدیثا فی الحث علی الجہاد’ اور ‘فضائل الشام’ ان کی مشہور ترین کتب ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 20)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 12)
- تاج الدین السبکی (طبقات الشافعية الكبرى، جلد 7)
- ابن خلکان (وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان)
- ياقوت الحموی (معجم الأدباء)
مبارک اقوال و ارشادات
علماء کا گوشت زہریلا ہوتا ہے (یعنی ان کی غیبت ہلاکت خیز ہے)، اور جو شخص علماء کی عیب جوئی کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے موت سے پہلے دل کی موت میں مبتلا کر دے گا۔
میں نے علم دنیاوی جاہ و جلال یا شہرت کے لیے طلب نہیں کیا، بلکہ اس لیے حاصل کیا کہ یہ مجھے آخرت میں نفع دے۔
وقت کی قدر کرو، کیونکہ گزرا ہوا لمحہ کبھی واپس نہیں آتا اور عمر کا سرمایہ تیزی سے گھٹ رہا ہے۔
