مفسرین قرآن و متکلمین

امام ابو الحسن علی بن اسماعیل اشعری

« أبو الحسن علي بن إسماعيل بن إسحاق بن سالم بن إسماعيل بن عبد الله بن موسى بن بلال بن أبي بردة بن أبي موسى الأشعري اليمني البصري »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام ابو الحسن علی بن اسماعیل اشعری کی ولادت ۲۶۰ ہجری (مطابق ۸۷۴ء) میں بصره، عراق میں ہوئی۔ آپ کا تعلق جلیل القدر صحابیِ رسول سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے معزز خاندان سے ہے۔ آپ کا نسبی تعلق یمن کے مشہور قبیلہ بنو اشعر سے ہے۔ اوائل عمری ہی سے آپ بے پناہ ذہانت اور کمالِ حفظ کے مالک تھے۔ ابتدائی تعلیم کے دوران آپ نے حدیث، فقہ اور علم کلام کی طرف توجہ مبذول کی۔ پہلے آپ اپنے سوتیلے والد اور نامور معتزلی عالم ابو علی جبائی کی تربیت میں معتزلہ کے عقائد کے زیر اثر رہے اور چالیس سال تک معتزلی مکتبہ فکر کے بڑے حامی اور متکلم رہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ سے دین کی تجدید کا عظیم کام لینا تھا، اس لیے آپ کو حق کی معرفت عطا فرمائی۔

معتزلہ سے توبہ اور مسلکِ اہل السنت کی ترویج

امام اشعری کی زندگی کا سب سے بڑا اور تاریخی موڑ وہ تھا جب انہوں نے معتزلہ کے عقل پرستانہ عقائد (صفاتِ باری تعالیٰ کی تاویل و انکار) سے بیزاری اور تائب ہونے کا اعلان کیا۔ تاریخ میں منقول ہے کہ انہوں نے رمضان المبارک میں رسول اللہ ﷺ کی خواب میں زیارت کی، جس میں آپ ﷺ نے انہیں سنت کی نصرت کا حکم دیا۔ اس کے بعد امام اشعری بصره کی جامع مسجد کے منبر پر تشریف لائے اور بآوازِ بلند اعلان کیا: ‘جو مجھے جانتا ہے وہ تو جانتا ہی ہے، اور جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ میں علی بن اسماعیل ہوں، میں پہلے معتزلی عقائد رکھتا تھا، اب میں ان تمام عقائد سے توبہ کرتا ہوں اور معتزلہ کے رد میں کتابیں لکھنے کا عزم کرتا ہوں۔’ اس کے بعد انہوں نے قرآن و سنت اور سلف صالحین کے عقائد (عقیدہ اہل السنت والجماعت) کے دفاع کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔

نمایاں علمی خدمات، تصانیف اور عقائد

امام ابو الحسن اشعری نے علمِ کلام کو ایک نیا رخ دیا، جہاں انہوں نے عقلی دلائل کو وحی اور سنت کے تابع بنا کر فتنہ معتزلہ کا علمی قلع قمع کیا۔ ان کی علمی خدمات کی بدولت انہیں ‘ناصر السنۃ’ (سنت کا مددگار) کا لقب ملا۔ ان کا مرتب کردہ عقیدہ ‘اشعری مکتبہ فکر’ کہلایا، جو اجماعِ امت کے مطابق اہل السنت والجماعت کا اساسی ستون بن گیا۔ آپ نے متعدد معرکۃ الآراء کتب تصنیف کیں جن میں درج ذیل انتہائی مشہور ہیں:

  • الإبانة عن أصول الديانة: جس میں آپ نے سلف صالحین اور امام احمد بن حنبل کے عقائد کی ترجمانی کی ہے۔
  • مقالات الإسلاميين واختلاف المصلين: اسلامی فرقوں کے عقائد اور کلامی اختلافات پر لکھی گئی سب سے پہلی اور مستند ترین کتاب۔
  • اللمع في الرد على أهل الزيغ والبدع: گمراہ فرقوں کے عقائد کے رد اور علمِ کلام کی باریکیوں پر بے مثال کتاب۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام اہل السنت ابو الحسن اشعری نے اپنی زندگی کے آخری ایام بغداد میں علم و عمل کی ترویج اور دفاعِ سنت میں گزارے۔ بالآخر ۳۲۴ ہجری (مطابق ۹۳۶ء) میں آپ نے بغداد میں وفات پائی۔ آپ کی وفات پر بغداد کے بازاروں میں منادی کروائی گئی: ‘آج سنت کا حقیقی ناصر رخصت ہو گیا’۔ آپ کو بغداد کے معروف قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی علمی میراث آج بھی پوری دنیا کے مسلمانوں (خصوصاً جامعات جیسے الازہر، زیتونہ، دیوبند وغیرہ) میں عقیدے کی بنیاد کے طور پر پڑھائی جاتی ہے، اور دنیا کی اکثریتی مسلم آبادی (شافعی، مالکی، اور حنفی و حنبلی کا ایک بڑا طبقہ) عقیدے میں اشاعرہ اور ماتریدیہ کی پیروکار ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن عساکر (تبيين كذب المفتري فيما نسب إلى الإمام أبي الحسن الأشعري)
  • امام تاج الدین السبکی (طبقات الشافعية الكبرى)
  • امام شمس الدین الذہبی (سير أعلام النبلاء)
  • امام ابن کثیر (البداية والنهاية)
  • ابن خلکان (وفيات الأعيان)

مبارک اقوال و ارشادات

میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہیں کہتا، کیونکہ وہ سب ایک ہی معبود کی عبادت کرتے ہیں اور یہ علمی مباحث محض تعبیرات کا اختلاف ہیں۔

حق وہ ہے جس پر کتاب اللہ، سنتِ رسولﷺ اور صحابہ و تابعین کا اجماع قائم ہے۔

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
#Imam Abul Hasan Ali Bin Ismail Ashari #Imam Abul Hasan Ali Bin Ismail Ashari History in Urdu #Islami Shakhsiyat #Islami Waqiat in Urdu #Islamic History in Urdu #Mufassireen e Quran #Tafseer ul Quran #Tareekh e Islam
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام ابو الحسن علی بن اسماعیل اشعری

لقب و کنیت: ابو الحسن (کنیت)، امام اہل السنت، ناصر السنۃ والحدیث، امام المتکلمین، شیخ الاسلام (القاب)
قبیلہ: بنو اشعر (یمنی قبیلہ، جلیل القدر صحابی سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسل)
سن پیدائش و وفات: 260 ھ – 324 ھ / 874 ء – 936 ء
مقام تدفین: بغداد، عراق (مشرقی بغداد، محلہ کرخ کے قریب)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com