صحابیات و امہات المؤمنین

حضرت ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا

« أم سليم سهلة (وقيل الرميصاء أو الغميصاء) بنت ملحان بن خالد بن زيد بن حرام الأنصارية الخزرجية »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا کا تعلق مدینہ منورہ کے معزز قبیلے خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا۔ ان کا اصل نام سہلہ یا رميصاء تھا، مگر وہ اپنی کنیت "ام سلیم” سے زیادہ مشہور ہوئیں۔ ان کے والد ملحان بن خالد اور والدہ ملیکہ بنت مالک تھیں۔ وہ مشہور صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ اور ام حرام بنت ملحان (شہیدہ بحر) کی بہن تھیں۔ ان کا خاندان شروع ہی سے مروت، سخاوت اور شجاعت کے لیے مدینہ میں ممتاز مقام رکھتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ سے ان کا نسبی رشتہ یوں بنتا ہے کہ بنو نجار رسول اللہ ﷺ کے دادا عبدالمطلب کے ننھیال تھے، اسی وجہ سے حضور ﷺ ان کے گھر تشریف لایا کرتے اور ان سے گہرا قلبی و خاندانی لگاؤ رکھتے تھے۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا مدینہ منورہ کی ان اولین خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے ہجرتِ مدینہ سے قبل ہی داعیِ اسلام حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اسلام قبول کیا۔ ان کے پہلے شوہر مالک بن نضر (حضرت انس کے والد) نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور غصے میں شام کی طرف نکل گیا جہاں وہ مارا گیا۔ حضرت ام سلیم نے شدید مخالفت کے باوجود اپنے اسلام پر استقامت دکھائی اور اپنے بیٹے انس بن مالک کی بہترین اسلامی خطوط پر تربیت کی۔ شوہر کی موت کے بعد، مدینہ کے رئیس اور نامور شہسوار ابو طلحہ انصاری نے ان سے شادی کی خواہش ظاہر کی، جو ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے۔ حضرت ام سلیم نے مادی مہر کے بجائے ابو طلحہ کے سامنے اسلام لانے کی شرط رکھی۔ ابو طلحہ ان کے اس تقوے اور ایمان سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے فوری اسلام قبول کر لیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ تاریخِ اسلام میں اس سے زیادہ بابرکت اور انوکھا مہر کوئی نہیں تھا، جسے "مہرِ اسلام” کہا جاتا ہے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کا شمار جلیل القدر، عقلمند اور بہادر ترین صحابیات میں ہوتا ہے۔ غزوات کے دوران ان کی شجاعت اور جنگی خدمات بے مثال تھیں۔ غزوہ احد میں وہ حاملہ ہونے کے باوجود پانی کی مشکیں بھر کر زخمیوں کو پانی پلاتیں اور دوا کرتی تھیں۔ غزوہ حنین میں انہوں نے اپنی کمر پر خنجر باندھ رکھا تھا؛ جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ یہ خنجر کس لیے ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اگر کوئی مشرک میرے قریب آئے گا تو میں اس سے اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔”

ان کے فضائل میں سب سے نمایاں واقعہ ان کے بیٹے ابو عمیر کی وفات کا ہے۔ جب بچہ فوت ہوا تو انہوں نے بے صبری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے بچے کو غسل دے کر چھپا دیا، اپنے شوہر ابو طلحہ کو پرسکون انداز میں کھانا کھلایا اور پھر ایک خوبصورت مثال کے ذریعے بیٹے کی وفات کی خبر دی، جس پر رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ ان کا بہت احترام کرتے تھے اور اکثر ان کے گھر قیلولہ فرماتے تھے۔ حضور ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا: "میں نے جنت میں اپنے آگے قدموں کی چاپ سنی تو دیکھا کہ وہ غمیصاء بنت ملحان (ام سلیم) تھیں۔”

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک طویل اور بھرپور مجاہدانہ زندگی گزاری۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین کے دور کو بھی دیکھا اور مدینہ منورہ کے علمی و سماجی حلقوں میں اپنا فعال کردار برقرار رکھا۔ ان کا وصال تقریباً 30 ہجری (عہدِ خلافتِ عثمانی) میں ہوا۔ انہیں مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی سب سے بڑی میراث ان کے نامور بیٹے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (خادمِ خاص رسول ﷺ) اور ان کی وہ نسل ہے جس نے علمِ حدیث، فقہ اور خدمتِ اسلام میں لازوال نقوش چھوڑے۔ ان کی زندگی صبر و رضا، غیرتِ ایمانی، اور شجاعت کا وہ تابندہ باب ہے جو رہتی دنیا تک مسلم خواتین کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، الاصابة في تمييز الصحابة، ترجمہ ام سلیم بنت ملحان۔
  • امام شمس الدین الذہبی، سير أعلام النبلاء، جلد دوم، سیرت ام سلیم۔
  • ابن الاثیر الجزری، اسد الغابة في معرفة الصحابة، باب النساء۔
  • ابن کثیر، البداية والنهاية، واقعات عہدِ عثمانی۔
  • صحیح البخاری وصحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب فضائل ام سلیم۔

مبارک اقوال و ارشادات

1۔ مہرِ اسلام: "اے ابو طلحہ! تمہارے جیسے مرد کا رشتہ رد نہیں کیا جا سکتا، لیکن تم کافر ہو اور میں مسلمان ہوں۔ اگر تم اسلام قبول کر لو تو یہی میرا مہر ہوگا اور میں تم سے اس کے علاوہ کوئی مہر نہیں مانگوں گی۔"

2۔ صبر و رضا کا اعلیٰ نمونہ: "اے ابو طلحہ! اگر کچھ لوگ کسی خاندان کو کوئی چیز عاریتہً (امانت) دیں، پھر وہ اپنی امانت واپس مانگیں، تو کیا انہیں روکنے کا حق ہے؟ اگر نہیں تو اپنے بیٹے کی موت پر اللہ سے اجر کی امید رکھو۔"

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا

لقب و کنیت: ام سلیم، الرمیصاء، الغمیصاء، ام انس، خاتونِ انصار
قبیلہ: انصار (قبیلہ خزرج، بنو نجار)
سن پیدائش و وفات: تقریباً 30 سال قبل ہجرت – 30 ہجری / 590ء – 650ء
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com