انبیائے کرام و رسل علیہم السلام

سیدنا حضرت سلیمان علیہ السلام (سلطان الانبیاء)

« سليمان بن داود بن إيشا بن عويد بن باعر بن سلمون بن نحشون بن عمينا داب بن رام بن حصرون بن فارص بن يهوذا بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم عليهما السلام »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سیدنا حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی اور رسول تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبوت کے ساتھ ساتھ ایک ایسی بے مثال سلطنت عطا کی جو ان سے پہلے اور ان کے بعد کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ آپ کا نسب مبارک حضرت داؤد علیہ السلام سے ملتا ہے اور آپ بنو اسرائیل کے سبطِ یہودا سے تعلق رکھتے تھے۔ تورات اور اسلامی روایات کے مطابق، آپ یروشلم (بیت المقدس) میں پیدا ہوئے اور اپنے والدِ گرامی کی زیرِ نگرانی تربیت پائی۔

بچپن ہی سے آپ غیر معمولی ذہانت، غیر فانی دانائی اور عدل و انصاف کی بے مثال صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔ قرآنِ مجید کی سورہ الانبیاء میں ایک مشہور واقعے کا ذکر ہے جہاں آپ نے بچپن میں ایک کھیتی کے تنازع کا ایسا حکیمانہ فیصلہ فرمایا جس کی توثیق خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی اور آپ کی فہم و فراست کی تعریف فرمائی۔

سلطنتِ سلیمانی، تسخیرِ کائنات اور معجزات

حضرت داؤد علیہ السلام کے وصال کے بعد، حضرت سلیمان علیہ السلام ان کے وارث بنے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت و بادشاہت دونوں سے سرفراز فرمایا اور آپ کی دعا (ربّ اغفر لي وهب لي ملكاً لا ينبغي لأحد من بعدي) کو قبول فرما کر کائنات کی کئی قوتوں کو آپ کے تابع کر دیا۔ آپ کے نمایاں معجزات درج ذیل ہیں:

  • تسخیرِ ہوا: ہوا آپ کے حکم کے تابع تھی، جو صبح کے وقت ایک مہینے کی مسافت اور شام کے وقت ایک مہینے کی مسافت طے کرتی تھی۔
  • تسخیرِ جنات: سرکش اور طاقتور جنات آپ کے حکم کے پابند تھے، جو آپ کے لیے عمارات، تالاب، قلعے اور پگھلے ہوئے تانبے کے ظروف تیار کرتے تھے۔
  • زبانِ پرندگان (منطق الطیر): آپ کو تمام چرند، پرند اور حیوانات کی زبانیں سکھائی گئی تھیں، جس کا مظاہرہ چیونٹی اور ہدہد کے واقعے میں قرآنِ کریم نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔
  • تانبے کا چشمہ: اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا ایک چشمہ جاری فرما دیا تھا، جس سے مختلف آلات اور عمارات کی تعمیر میں مدد لی جاتی تھی۔

ملکہ سبا (بلقیس) کا واقعہ اور قبولِ اسلام

سیدنا سلیمان علیہ السلام کی دعوت و توحید کا ایک عظیم الشان باب ملکہ سبا (بلقیس) کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے۔ آپ کے جاسوس پرندے ‘ہدہد’ نے یمن کے علاقے ‘سبا’ میں سورج پرست قوم اور ان کی ملکہ بلقیس کے بارے میں اطلاع دی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ کو ایک مکتوب ارسال فرمایا جس کا آغاز ‘بسم اللہ الرحمن الرحیم’ سے تھا، اور انہیں سرکشی چھوڑ کر مطیع ہو کر حاضر ہونے کی دعوت دی۔

ملکہ بلقیس نے پہلے تحائف بھیجے، جنہیں حضرت سلیمان علیہ السلام نے رد فرما دیا۔ بعد ازاں، ملکہ خود حاضرِ خدمت ہوئی۔ ان کے پہنچنے سے قبل، آپ کے ایک مقرب صحابی (جن کا نام مفسرین آصف بن برخیا بتاتے ہیں، جن کے پاس کتاب کا علم تھا) نے ملکہ کا عظیم تخت پلک جھپکنے میں حاضر کر دیا۔ جب ملکہ نے یہ معجزات اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا شیشے کا محل (صرح) دیکھا، تو پکار اٹھیں: ‘اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔’

ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر اور وصالِ مبارک

سیدنا سلیمان علیہ السلام کا ایک عظیم ترین تاریخی کارنامہ بیت المقدس میں مسجدِ اقصیٰ (ہیکلِ سلیمانی) کی ازسرِ نو عظیم الشان تعمیر ہے۔ آپ نے جنات کی تسخیر کے ذریعے اس مقدس عمارت کو نہایت خوبصورتی اور پائیداری کے ساتھ مکمل کروایا۔

آپ کی وفات کا واقعہ بھی ایک منفرد معجزہ اور عبرت کا نشان ہے۔ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا، تو آپ محرابِ عبادت میں اپنے عصا (لاٹھی) کے سہارے کھڑے ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کی روح قبض کر لی گئی، لیکن آپ کا جسم مبارک عصا کے سہارے اسی طرح کھڑا رہا۔ جنات یہ سمجھ کر کہ آپ زندہ ہیں اور انہیں دیکھ رہے ہیں، سخت ترین کاموں میں مصروف رہے۔ یہاں تک کہ ایک طویل عرصے بعد، اللہ کے حکم سے ایک دیمک (دابة الارض) نے آپ کے عصا کو کھا لیا، جس سے عصا کمزور ہو کر ٹوٹ گیا اور آپ کا جسمِ مبارک زمین پر تشریف لایا۔ اس واقعے سے جنات اور انسانوں پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ جنات غیب کا علم نہیں رکھتے، ورنہ وہ اس ذلت آمیز مشقت میں مبتلا نہ رہتے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • القرآن الکریم: سورہ البقرہ، سورہ الانبیاء، سورہ النمل، سورہ سبا، اور سورہ ص۔
  • امام ابن کثیر: قصص الانبياء (باب ذکر سیدنا سلیمان علیہ السلام) اور البداية والنهاية (جلد اول)۔
  • امام طبری: تاريخ الامم والملوک (تاريخ الطبري – ذکر ملوک بنی اسرائیل)۔
  • ابن الاثیر: الکامل فی التاریخ (جلد اول)۔
  • امام ذہبی: تاريخ الاسلام (عہدِ انبیاء بنی اسرائیل)۔

مبارک اقوال و ارشادات

١۔ 'اے میرے پروردگار! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر نازل فرمائیں، اور ایسے نیک اعمال کروں جو تجھے پسند آئیں۔'

٢۔ 'حکمت کا آغاز اللہ کا تقویٰ ہے، اور معبودِ برحق کا خوف ہی دانائی کی بنیاد ہے۔'

٣۔ 'غرور انسان کی ہلاکت کا پیش خیمہ ہے، اور عاجزی و انکساری ہی بلندی کا اصل راستہ ہے۔'

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سیدنا حضرت سلیمان علیہ السلام (سلطان الانبیاء)

لقب و کنیت: ابو عبد اللہ، سلطان الانبیاء، حاکمِ انس و جن، صاحبِ خاتم، صاحبِ محراب، سلیمان ذو الأيدي والابصار
قبیلہ: بنو اسرائیل (سبطِ یہودا - خاندانِ داؤد علیہ السلام)
سن پیدائش و وفات: تقریباً 990 قبل مسیح – 931 قبل مسیح (دسویں صدی قبل مسیح)
مقام تدفین: بیت المقدس (یروشلم)، مقبرہ سلاطینِ یہودا، فلسطین
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com