Sahaba (صحابی)

حضرت شقران مولیٰ رسول اللہ ﷺ رضی اللہ عنہ

« صالح بن عدي (وقيل صالح بن لقمان) المعروف بشقران، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت شقران رضی اللہ عنہ کا اصل نام ‘صالح بن عدی’ یا ‘صالح بن لقمان’ تھا۔ وہ حبشی النسل تھے اور تاریخِ اسلام میں اپنے لقب ‘شقران’ سے زیادہ مشہور ہوئے۔ لفظ ‘شقران’ عربی لفظ ‘شقرة’ سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب سرخی مائل رنگت ہے۔ اوائل زندگی میں وہ مکہ مکرمہ میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، جن سے بعد میں انہیں رسول اللہ ﷺ نے خریدا یا انہوں نے بارگاہِ رسالت میں تحفتہً پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی بہترین تربیت فرمائی اور بعد میں انہیں آزاد فرما دیا۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت شقران رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ میں اسلام کے ابتدائی دور میں ہی حق کو قبول کر لیا تھا۔ انہوں نے ہجرتِ مدینہ کا شرف حاصل کیا اور مدینہ منورہ پہنچ کر مستقل طور پر رسول اللہ ﷺ کے خادمِ خاص کے طور پر خدمات سرانجام دینا شروع کیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے ان جلیل القدر اصحاب اور موالی میں شمار ہوتے ہیں جو سفر و حضر میں آپ ﷺ کی خدمت گزاری کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت شقران رضی اللہ عنہ کو غزوہ بدر میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ چونکہ وہ اس وقت تک باقاعدہ طور پر آزاد نہیں ہوئے تھے، اس لیے انہیں غنیمت کے عام حصوں کے بجائے رسول اللہ ﷺ نے مالِ غنیمت میں سے اپنے مبارک حصے سے خصوصی طور پر نوازا۔ بعد ازاں انہوں نے تمام اہم غزوات میں بھرپور شرکت کی۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا فضیلت کا پہلو وہ نازک وقت ہے جب رسول اللہ ﷺ کا وصالِ مبارک ہوا۔ حضرت شقران رضی اللہ عنہ ان چند برگزیدہ ہستیوں میں شامل تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ کے غسلِ مبارک اور تجہیز و تکفین کی سعادت نصیب ہوئی۔ انہوں نے غسل کے دوران جسمِ اطہر پر پانی ڈالا اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر قبرِ انور میں اترنے کی سعادت بھی حاصل کی۔ روایات کے مطابق، انہوں نے ہی رسول اللہ ﷺ کی قبرِ انور میں وہ سرخ چادر (قطیفہ) بچھائی تھی جسے حضور ﷺ کثرت سے اوڑھتے تھے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد حضرت شقران رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں ہی مقیم رہے اور یادِ رسول ﷺ میں زندگی بسر کی۔ ان کا وصالِ مبارک حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے اواخر (تقریباً 20 ہجری) میں ہوا۔ انہیں مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی نسل مدینہ منورہ اور بعد میں بغداد منتقل ہوئی۔ علمِ رجال کے ائمہ نے انہیں نہایت سچا، دیانتدار اور وفادار صحابی قرار دیا ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة، ترجمہ صالح بن عدي شقران)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 1، سیرت شقران مولیٰ رسول اللہ)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة فی معرفة الصحابة، باب الصاد)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، ذکر وفات شقران مولیٰ النبی ﷺ)
  • ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، ذکر موالی رسول اللہ ﷺ)

مبارک اقوال و ارشادات

میں نے رسول اللہ ﷺ کے غسلِ مبارک کے وقت آپ ﷺ کے جسمِ اطہر پر پانی ڈالا تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن مالِ غنیمت کی تقسیم کے وقت مجھے خصوصی طور پر اپنے پاس سے عطیہ فرمایا کیونکہ میں اس وقت مملوک تھا۔

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت شقران مولیٰ رسول اللہ ﷺ رضی اللہ عنہ

لقب و کنیت: ابو مسروق (الکنية)، شقران (لقب)، مولیٰ رسول اللہ، خادمِ خاص
قبیلہ: حبشی الاصل (پہلے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مملوک تھے، پھر رسول اللہ ﷺ کی ملکیت میں آئے اور آزاد ہوئے)
سن پیدائش و وفات: وفات: تقریباً 20 ہجری / 641ء (عہدِ خلافتِ فاروقی)
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com