خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سیدنا حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ (پیدائش تقریباً 21 ہجری بمطابق 642 عیسوی، دورِ خلافتِ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ) امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے جلیل القدر صاحبزادے اور کبار تابعین کے امام ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام خولہ بنت جعفر تھا جن کا تعلق قبیلہ بنو حنیفہ سے تھا، اسی نسبت سے آپ تاریخِ اسلام میں ‘ابن الحنفیہ’ کے نام سے مشہور ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خصوصی طور پر اجازت مرحمت فرمائی تھی کہ وہ اپنے اس بیٹے کا نام ‘محمد’ اور کنیت ‘ابو القاسم’ رکھیں۔ آپ کا بچپن مدینہ منورہ میں جلیل القدر صحابہ کرام کی آغوشِ تربیت میں گزرا، جہاں سے آپ نے علم و زہد کے اعلیٰ اوصاف حاصل کیے۔
میدانِ جنگ میں شجاعت اور خدمات
محمد بن حنفیہ جسمانی طور پر انتہائی قوی اور بہادر تھے۔ آپ نے اپنے والدِ گرامی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جنگِ نہروان میں بھرپور شرکت کی۔ جنگِ جمل میں آپ سیدنا علی کے لشکر کے علمبردار (صاحب الرایۃ) تھے۔ تاریخِ اسلام میں درج ہے کہ جب کسی معترض نے ان سے پوچھا کہ ‘آپ کے والد آپ کو جنگ کی سختیوں میں آگے رکھتے ہیں جبکہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو محفوظ رکھتے ہیں؟’ تو آپ نے کمالِ فصاحت سے جواب دیا: ‘حسن اور حسین میرے والد کی دو آنکھیں ہیں، اور میں ان کا داہنا ہاتھ ہوں، اور وہ اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھوں کا دفاع کرتے ہیں۔’ یہ جواب آپ کے ادب، اخلاص اور فہم کا عکاس ہے۔
علمی مقام، مرویات اور اساتذہ و تلامذہ
علمِ رجال اور تاریخِ حدیث کے ائمہ کے نزدیک محمد بن حنفیہ ایک بلند مرتبہ، ثقہ اور کثیر الحدیث فقیہ تھے۔ آپ نے علمِ حدیث اور فقہ براہِ راست اپنے والد سیدنا علی المرتضیٰ، سیدنا عمر بن الخطاب، سیدنا عثمان بن عفان، ام المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے حاصل کیا۔ آپ کے علمی حلقے سے مدینہ منورہ کے کبار محدثین نے فیض حاصل کیا۔ آپ کے نامور تلامذہ میں آپ کے صاحبزادگان (عبد اللہ اور حسن)، سیدنا امام جعفر الصادق کے والدِ گرامی امام محمد الباقر، عمرو بن دینار اور سالم بن ابی الجعد شامل ہیں۔ علمِ عقائد اور علمِ کلام کی تاریخ میں بھی آپ کا مقام انتہائی بلند ہے۔
سیاسی فتنوں سے دوری اور زہد و تقویٰ
سانحہ کربلا اور سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب امتِ مسلمہ شدید فتنوں اور سیاسی انتشار کا شکار ہوئی، تو محمد بن حنفیہ نے انتہائی پرہیزگاری اور عزلت نشینی کا راستہ اختیار کیا۔ جب مختار ثقفی نے ان کے نام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تو آپ نے اس کے غلو اور باطل افکار کی سخت مذمت کی اور خونِ مسلم کی حرمت پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ عبد اللہ بن زبیر اور بنو امیہ کے مابین خلافت کی کشمکش کے دوران بھی آپ غیر جانبدار رہے اور مسلمانوں کے مابین امن و صلح کی کوششوں کو ترجیح دی۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
سیدنا محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کا وصال 81 ہجری (بمطابق 700 عیسوی) میں اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دور میں ہوا۔ اکثریتی تاریخی روایات کے مطابق آپ کی تدفین مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان ‘جنت البقیع’ میں ہوئی، جبکہ بعض مورخین نے طائف کا بھی ذکر کیا ہے۔ آپ کی زندگی زہد، تقویٰ، فتنوں سے دوری اور اتباعِ سنت کا ایک روشن اور لازوال باب ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، جلد 5)
- امام ذہبی (سیر اعلام النبلاء، طبقه ثانیہ)
- ابن حجر عسقلانی (تہذیب التہذیب، ترجمہ محمد بن علی)
- ابن کثیر (البدایہ والنہایہ، حوادث سنہ 81 ھ)
- ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ)
مبارک اقوال و ارشادات
جس کے نفس کی قیمت اس کی نظر میں بلند ہو جائے، دنیا کی ہر مادی چیز اس کی نگاہ میں ہیچ ہو جاتی ہے۔
جو شخص لوگوں کے ساتھ اس وقت تک حسنِ اخلاق اور مصلحت سے پیش نہیں آتا جب تک اللہ اسے کوئی متبادل راستہ نہ دے، وہ دانشور نہیں ہے۔
فتنہ و فساد کے ادوار میں امن و سلامتی کو لازم پکڑو اور مسلمانوں کی اجتماعیت سے جدا نہ ہو۔
