خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کا تعلق مصر کے قدیم قبطی خاندان سے تھا، جو اسکندریہ کے علاقے حفن سے تھے۔ وہ قبطیوں کے سردار شمعون کی بیٹی تھیں۔ ان کی ولادت کی صحیح تاریخ معلوم نہیں، البتہ یہ اندازہ ہے کہ وہ 6 ہجری سے کچھ عرصہ قبل پیدا ہوئی ہوں گی۔ ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں، سوائے اس کے کہ وہ مصر کے حکمران مقوقس کے تحت تھیں۔
سن 6 ہجری (628ء) میں نبی کریم ﷺ نے مختلف حکمرانوں کو اسلام کی دعوت کے خطوط ارسال فرمائے۔ اسی سلسلے میں آپ ﷺ نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو مصر کے حکمران مقوقس کے پاس بھیجا۔ مقوقس نے نبی کریم ﷺ کا پیغام اکرام سے سنا، اگرچہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا، مگر اس نے جواب میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کچھ تحائف پیش کیے، جن میں دو کنیزیں، حضرت ماریہ قبطیہ اور ان کی بہن حضرت سیرین، ایک خصی غلام جریح، ایک سفید گدھا عُفَیر اور ہزار مثقال سونا شامل تھے۔
قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ مقوقس کے تحائف لے کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں حضرت حاطب رضی اللہ عنہ نے حضرت ماریہ قبطیہ اور حضرت سیرین رضی اللہ عنہما کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی اور نبی کریم ﷺ کی عظمت و فضیلت بیان کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل فرمایا اور دونوں بہنوں نے اسلام قبول کر لیا۔ مدینہ پہنچنے پر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش ہوئیں۔ آپ ﷺ نے حضرت ماریہ کو اپنے لیے منتخب فرمایا اور حضرت سیرین کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیا۔
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم ﷺ نے اپنی رہائش کے لیے مدینہ سے باہر ایک باغ میں جگہ دی، جسے آج بھی مشربہ ام ابراہیم (ام ابراہیم کا باغیچہ) کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کا حضرت ماریہ قبطیہ سے ایک خاص تعلق تھا، جس سے آپ کے گھر میں ایک نئی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کی سب سے بڑی فضیلت اور نمایاں کارنامہ یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے اکلوتے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں۔ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی ولادت ذوالحجہ 8 ہجری (مارچ 630ء) میں ہوئی۔ نبی کریم ﷺ اپنے بیٹے کی پیدائش پر بہت خوش ہوئے، کیونکہ آپ ﷺ کے تمام بیٹے بچپن میں ہی وفات پا چکے تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں اپنا بیٹا قرار دیا اور ان کا نام اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا۔ یہ ایک ایسا شرف تھا جو صرف حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو حاصل ہوا۔
حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ نے تقریباً 18 ماہ کی عمر پائی اور 10 ہجری (جنوری 632ء) میں مدینہ منورہ میں وفات پا گئے۔ ان کی وفات نبی کریم ﷺ کے لیے ایک عظیم صدمہ تھی، اور آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے کی وفات کے بعد بھی صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور نبی کریم ﷺ کے خاندان کا حصہ بنی رہیں۔ وہ اپنی پاکدامنی، تقویٰ اور نبی کریم ﷺ سے گہری محبت کے لیے مشہور تھیں۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے وصال (11 ہجری) کے بعد بھی تقریباً پانچ سال تک زندہ رہیں۔ ان کا وصال رجب 16 ہجری (نومبر 637ء) میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ جب ان کی وفات ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے جنازے کی نماز پڑھائی اور انہیں جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی وفات پر مسلمانوں میں غم کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کے بیٹے کی والدہ تھیں اور آپ ﷺ کے اہل بیت میں سے تھیں۔
حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ایک عاجزانہ اور پرہیزگار خاتون کی تھی، جو اسلام کے لیے اپنی سابقہ زندگی اور ثقافت کو ترک کر کے نبی کریم ﷺ کے گھر میں ایک ممتاز مقام پر فائز ہوئیں۔ وہ اسلام کے پیغام کی عالمگیریت اور نبی کریم ﷺ کی رحمت و انصاف کی علامت ہیں۔ ان کی میراث نہ صرف حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہونے کی وجہ سے ہے، بلکہ اس بات کی بھی کہ کیسے ایک غیر عرب پس منظر سے تعلق رکھنے والی خاتون کو اہل بیت کا حصہ بننے کا شرف حاصل ہوا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
- ابن الاثیر (اسد الغابة)
- ابن کثیر (البداية والنهاية)
مبارک اقوال و ارشادات
کوئی مشہور قول منقول نہیں
