خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سیدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام حضرت ہاجرہ (علیہا السلام) تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کبر سنی (تقریباً 86 سال کی عمر) میں سخت دعاؤں کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک حلیم اور بردبار بیٹے کی بشارت دی، جس کا نام اسماعیل رکھا گیا۔
ولادت کے کچھ ہی عرصے بعد، الٰہی حکم کے تحت حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی شریکِ حیات حضرت ہاجرہ اور شیر خوار اسماعیل کو مکہ کے غیر آباد، سنگلاخ اور بے آب و گیاہ میدان میں چھوڑ آئے۔ جب زادِ راہ اور پانی ختم ہو گیا، تو تپتے ہوئے صحرا میں ننھے اسماعیل کی پیاس بجھانے کے لیے حضرت ہاجرہ نے صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات چکر لگائے۔ اس اضطراب اور توکل کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور ننھے اسماعیل کے قدم رگڑنے والی جگہ سے زمزم کا تاریخی چشمہ جاری ہوا، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے بقائے حیات کا سامان بن گیا۔
واقعہ ذبح (ذبیح اللہ) اور عظیم قربانی
حضرت اسماعیل علیہ السلام جب دوڑ دھوپ کی عمر (لڑکپن) کو پہنچے، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کا خواب وحی الٰہی ہوتا ہے۔ جب والد نے بیٹے سے اس خواب کا ذکر کیا تو سعادت مند بیٹے نے کمالِ تسلیم و رضا کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرِ تسلیم خم کر دیا اور کہا کہ ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے اسے پورا کیجیے۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لختِ جگر کو پیشانی کے بل لٹایا اور چھری چلانے لگے، تو اللہ رب العزت نے ان کی اس عظیم آزمائش کو قبول فرماتے ہوئے جنت سے ایک دنبہ بھیج دیا جسے ذبح کر دیا گیا، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا گیا۔ یہی وہ عظیم قربانی ہے جس کی یاد میں امتِ مسلمہ ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر سنتِ ابراہیمی ادا کرتی ہے۔
تعمیرِ کعبہ اور مکہ کی آبادی
جب حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہوئے، تو انہوں نے مکہ کے اطراف میں آباد ہونے والے یمنی قبیلے ‘بنو جرہم’ سے عربی زبان سیکھی اور ان میں شادی کی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے مل کر روئے زمین پر عبادتِ الٰہی کے پہلے مرکز یعنی بیت اللہ (خانہ کعبہ) کی ازسرِ نو تعمیر کی۔
تعمیرِ کعبہ کے دوران باپ بیٹا پتھر لاتے اور دیواریں بلند کرتے ہوئے اللہ کے حضور دعا کرتے تھے: "رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”۔ کعبہ کی دیواروں کو بلند کرنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی وادی میں حج کا عام اعلان کیا، جس کے بعد دنیا بھر سے توحید پرستوں کا وہاں تانتا بندھ گیا۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
قرآن مجید نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شخصیت کو ‘صادق الوعد’ (وعدے کا سچا) اور صابر قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا”۔ آپ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے اور بارگاہِ الٰہی میں پسندیدہ شخصیت تھے۔
آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ آپ عربِ مستعربہ کے جدِ اعلیٰ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کے انسانوں کے لیے رہبرِ اعظم اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو سیدنا اسماعیل علیہ السلام ہی کی پاکیزہ نسل (قبیلہ قریش) سے منتخب فرمایا۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مکہ مکرمہ اور گرد و نواح کے قبائل بشمول بنو جرہم، عمالقہ اور یمن کے لوگوں کو دینِ توحید کی دعوت دی۔ آپ نے اپنی وفات تک مکہ میں کعبہ کی تولیت اور حج کے مناسک کی نگرانی کی۔ مستند روایات کے مطابق، آپ کی وفات 137 سال کی عمر میں ہوئی اور آپ کو خانہ کعبہ کے متصل شمالی حصے ‘حجرِ اسماعیل’ (حطیم) میں آپ کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے جوار میں دفن کیا گیا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر (البداية والنهاية، باب ذکر قصۃ إسماعيل علیہ السلام)
- امام طبری (تاريخ الأمم والملوك، ذکر اخبار إسماعيل بن إبراهيم)
- ابن اثیر جزری (الكامل في التاريخ)
- امام ابن جریر طبری (جامع البيان في تأويل القرآن)
- امام بخاری (صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء)
مبارک اقوال و ارشادات
يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِن الصَّابِرِينَ (اے میرے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہ کر گزریے، انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔)
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّك أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (اے ہمارے رب! ہم سے یہ عمل قبول فرما، بے شک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔)
