خاندانی پس منظر، معجزانہ ولادت اور اوائل زندگی
سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر اولوالعزم رسولوں میں سے ایک ہیں جنہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بغیر باپ کے محض اپنے حکم "کُن” سے پیدا فرمایا۔ آپ کا خاندان آلِ عمران (عمران کا گھرانہ) ہے، جو بنی اسرائیل کا ایک انتہائی نیک اور چنیدہ خاندان تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم علیہا السلام تھیں، جو ایک پاکدامن، عابدہ اور زاہدہ خاتون تھیں اور انہوں نے بیت المقدس کی محراب میں زندگی گزاری۔
قرآنِ مجید کی سورہ آلِ عمران اور سورہ مریم میں آپ کی ولادت کا تذکرہ انتہائی تفصیل سے ملتا ہے۔ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سیدہ مریم کو ایک پاکیزہ بیٹے کی بشارت دی، تو انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کیونکہ انہیں کسی مرد نے چھوا تک نہ تھا۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ کے لیے یہ نہایت آسان ہے۔ ولادت کے بعد جب قوم نے سیدہ مریم پر تہمت لگانے کی کوشش کی، تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے گہوارے (جھولے) میں موجود نوزائیدہ بچے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے کلام کیا اور اپنی نبوت، کتاب اور والدہ کی پاکدامنی کی گواہی دی، جس سے مخالفین کے منہ بند ہو گئے۔
بعثت، شریعت اور عظیم الشان معجزات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا اور انہیں تورات کی تصدیق کرنے والی کتاب "انجیل” عطا فرمائی۔ آپ نے بنی اسرائیل کو گمراہی، مادہ پرستی اور شریعت کے احکام میں غلو سے روک کر اخلاص، للہیت اور باطنی پاکیزگی کی طرف دعوت دی۔
آپ کی نبوت کی تائید کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار اور لاجواب معجزات عطا کیے۔ آپ مٹی سے پرندے کی مورت بناتے اور اس میں پھونک مارتے تو وہ اللہ کے حکم سے سچ مچ کا پرندہ بن کر اڑ جاتا۔ آپ مادر زاد اندھوں اور کوڑھ (برص) کے مریضوں کو چھو کر تندرست فرما دیتے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ مردوں کو اللہ کے حکم سے پکارتے تو وہ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آتے۔ اس کے علاوہ آپ لوگوں کو یہ بھی بتا دیتے تھے کہ وہ اپنے گھروں میں کیا کھا کر آئے ہیں اور کیا ذخیرہ کر کے رکھا ہے۔ آپ کے مخلص ساتھیوں کو "حواریون” کہا جاتا ہے جنہوں نے دین کی نصرت کا عہد کیا۔
یہودی سازش اور رفعِ سماوی (آسمان پر اٹھایا جانا)
بنی اسرائیل کے کاہنوں اور سرداروں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مقبولیت اور معجزات کو دیکھ کر حسد کا شکار ہو کر آپ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ انہوں نے وقت کے رومی حاکم کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور آپ کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا۔ رومی سپاہیوں نے اس مکان کا گھیراؤ کر لیا جہاں آپ موجود تھے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کی حفاظت کا ایسا انتظام فرمایا جو عقلِ انسانی سے بالا تر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ حالت میں جسم سمیت آسمان کی طرف اٹھا لیا (رفعِ جسمانی)۔ اور جس شخص (یہوداہ اسخریوطی یا رومی سپاہی) نے آپ کو پکڑوانے کی کوشش کی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کی شکل بالکل حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی کر دی۔ چنانچہ رومیوں نے اسی مشابہ شخص کو گرفتار کر کے سولی پر چڑھا دیا۔ قرآنِ مجید نے اس نظریے کی سختی سے تردید کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل یا سولی دیا گیا: "وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ” (اور نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ سولی چڑھایا، بلکہ ان کے لیے شبہ پیدا کر دیا گیا تھا)۔
نزولِ ثانی، فتنہ دجال کا خاتمہ اور دنیا میں عدل و انصاف
اسلامی عقیدے (اہلِ سنت والجماعت کے اجماع) کے مطابق، حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب دمشق (شام) میں جامع مسجد کے مشرقی سفید مینار کے پاس دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوں گے۔ آپ کا یہ نزول بحیثیتِ امتی اور متبعِ شریعتِ محمدی ﷺ ہوگا، نہ کہ ایک مستقل شریعت لے کر آنے والے نبی کی حیثیت سے۔
آپ کے نزول کے اہم ترین مقاصد میں فتنہ دجال کا خاتمہ شامل ہے۔ آپ دجالِ اعظم کا تعاقب کریں گے اور اسے فلسطین کے مقام "بابِ لد” پر قتل فرمائیں گے۔ آپ صلیب کو توڑیں گے (عیسائیت کے باطل نظریات کا خاتمہ کریں گے)، خنزیر کو ہلاک کریں گے، اور جزیہ کا قانون ختم کر کے اسلام کو پوری دنیا پر غالب کر دیں گے۔ آپ کے دور میں زمین برکات اگل دے گی، شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیئیں گے، اور ہر طرف امن و امان قائم ہوگا۔ آپ طبعی زندگی گزارنے اور وفات پانے کے بعد مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ میں مدفون ہوں گے۔
مستند تاریخی و اسلامی حوالہ جات
- القرآن الکریم: سورہ آل عمران (آیات 45-59)، سورہ مریم (آیات 16-36)، سورہ النساء (آیات 157-159)۔
- امام ابن کثیر: البدیہ والنہایہ (جلد 2، قصص الانبیاء – تذکرہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام)۔
- صحیح البخاری وصحیح مسلم: کتاب الفتن واشراط الساعۃ (نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث)۔
- امام ابن حجر عسقلانی: فتح الباری شرح صحیح البخاری۔
- امام طبری: تاریخ الامم والملوک (تاریخ الطبری)۔
مبارک اقوال و ارشادات
دنیا سے محبت نہ کرو کیونکہ یہ ہر برائی اور گناہ کی جڑ ہے۔
لوگوں کے عیوب کو اس طرح مت دیکھو جیسے تم خود ان کے رب ہو، بلکہ اپنے عیوب کو اس طرح دیکھو جیسے تم عاجز بندے ہو، پس بیماروں پر رحم کرو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔
تمہارا بہترین بھائی وہ ہے جو تمہاری عقل کو نیکی کی طرف راغب کرے، اور تمہارا بدترین بھائی وہ ہے جو تمہیں گناہ کی ترغیب دے۔
