صحابیات و امہات المؤمنین

حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا

« هند بنت عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف القرشية العبشمية »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کا تعلق قریش کے سب سے معزز اور بااثر ترین خاندان بنو عبد شمس سے تھا۔ ان کے والد عتبہ بن ربیعہ مکہ کے چوٹی کے سرداروں میں شمار ہوتے تھے، جو نہایت فصیح و بلیغ اور صاحبِ رائے شخص تھے۔ ان کے بھائی حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ مقتدر اور جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے ابتدا ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔

حضرت ہند غیر معمولی ذہانت، غیرت، دلیری، اور فصاحت و بلاغت کی مالک تھیں۔ ان کا پہلا نکاح حفص بن مغیرہ سے ہوا، جن سے ایک بیٹے ابان پیدا ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد ان کا نکاح مکہ کے نامور رئیس اور سردار ابو سفیان بن حرب سے ہوا، جن سے ان کے نامور بیٹے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (بانی خلافتِ اموی) اور حضرت عتبہ بن ابی سفیان پیدا ہوئے۔ قبولِ اسلام سے قبل وہ اپنے خاندانی جاہ و جلال کے زیرِ اثر اسلام کی سخت ترین مخالفین میں شمار ہوتی تھیں، اور غزوہ احد میں اپنے والد، چچا اور بھائی کی موت کا بدلہ لینے کے جذبے کے تحت شریک ہوئیں، جس دوران رنج و ملال اور انتقام کی شدت میں ان سے بعض ایسے افعال سرزد ہوئے جن پر انہوں نے بعد میں شدید ندامت کا اظہار کیا۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

رمضان 8 ہجری میں جب مکہ مکرمہ فتح ہوا، تو حق کی روشنی نے حضرت ہند کے دل کو منور کر دیا۔ ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا، جس کے بعد سیدہ ہند بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئیں تاکہ بیعتِ اسلام کر سکیں۔ وہ نقاب اوڑھ کر خواتین کے ایک وفد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں۔

بیعت کے دوران جب رسول اللہ ﷺ نے شرائطِ بیعت تلاوت فرمائیں، جن میں چوری نہ کرنا اور زنا نہ کرنا شامل تھا، تو حضرت ہند رضی اللہ عنہا کی خودداری اور خاندانی شرافت تڑپ اٹھی اور انہوں نے برجستہ عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا کوئی آزاد اور شریف عورت بھی زنا کر سکتی ہے؟” رسول اللہ ﷺ نے ان کی آواز سے انہیں پہچان لیا اور فرمایا: "کیا تم ہند ہو؟” انہوں نے اعتراف کیا اور اپنے ماضی پر معذرت چاہی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ نہایت نرمی اور درگزر کا معاملہ فرمایا اور انہیں معاف کر دیا۔ بیعت کے فوراً بعد انہوں نے اپنے گھر جا کر کلہاڑے سے اپنے بتوں کو پاش پاش کیا اور بلند آواز سے کہا: "ہم تمہاری وجہ سے دھوکے میں تھے اور غفلت کا شکار رہے۔”

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

قبولِ اسلام کے بعد حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو گیا۔ ان کی تمام تر دلیری، شجاعت اور فصاحت اب اسلام کی خدمت کے لیے وقف ہو چکی تھی۔ ان کا سب سے نمایاں اور تاریخی کارنامہ 15 ہجری (یا بعض روایات کے مطابق 13 ہجری) میں پیش آنے والا تاریخی معرکہ یرموک ہے۔

معرکہ یرموک میں جب رومیوں کے ٹڈی دل لشکر نے مسلمانوں پر شدید دباؤ ڈالا اور کچھ مسلم دستے پیچھے ہٹنے لگے، تو حضرت ہند رضی اللہ عنہا خیموں سے نکل آئیں اور دیگر مسلم خواتین کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے پیچھے ہٹنے والے مجاہدین کو سخت غیرت دلائی اور خود تلوار اور خیموں کی چوبیں ہاتھ میں لے کر رومیوں کے خلاف میدانِ جنگ میں کود پڑیں۔ ان کے ولولہ انگیز اشعار اور شجاعت نے پسپا ہوتے ہوئے مسلمانوں کے قدم دوبارہ جما دیئے، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو رومی سلطنت کے خلاف ایک فیصلہ کن اور تاریخی فتح نصیب ہوئی۔

علمِ حدیث اور فقہ میں بھی ان کا مقام بلند ہے۔ ان سے مروی احادیث کتبِ صحاح میں موجود ہیں۔ ان کی مشہور ترین روایت "حدیثِ نفقہ” ہے جس میں انہوں نے اپنے شوہر ابو سفیان کے بخل کی شکایت کی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں معروف کے مطابق اپنے اور بچوں کے خرچ کے لیے شوہر کی اجازت کے بغیر بھی ضرورت کے مطابق مال لینے کی رخصت دی، جو کہ اسلامی فقہ کا ایک بنیادی قاعدہ بن گیا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی کا آخری حصہ زہد و تقویٰ اور اللہ کی عبادت میں گزارا۔ ان کا وصال امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سن 14 ہجری (بمطابق 635ء) میں ہوا۔ بعض مؤرخین کے مطابق ان کا وصال اسی دن ہوا جس دن حضرت ابو قحافہ (والدِ ماجد حضرت ابوبکر صدیق) کا انتقال ہوا۔

ان کی وفات کے مقام کے بارے میں دمشق (شام) اور مدینہ منورہ دونوں کے حوالے ملتے ہیں، تاہم کثیر رائے یہ ہے کہ وہ شام کے شہر دمشق میں مدفون ہوئیں جہاں ان کے شوہر اور بیٹے اسلامی فتوحات اور گورنری کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ حضرت ہند رضی اللہ عنہا کی زندگی تاریخِ اسلام کی ان خواتین کے لیے ایک روشن مثال ہے جن کا ماضی چاہے کیسا ہی کیوں نہ رہا ہو، توبہ اور اخلاص کے بعد وہ عظمت اور شجاعت کے اس مقام پر فائز ہو سکتی ہیں جہاں تاریخ ان پر رہتی دنیا تک ناز کرتی رہے گی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة، جلد 8، ترجمہ ہند بنت عتبہ)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 2، تذکرہ ہند بنت عتبہ)
  • ابن الاثیر الجزری (اسد الغابة فی معرفة الصحابة، جلد 7)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 7، واقعاتِ 14 ہجری)

مبارک اقوال و ارشادات

یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی ایسا گھرانہ نہ تھا جس کی ذلت و بربادی مجھے آپ کے گھرانے سے زیادہ مرغوب ہو، لیکن اب میری یہ حالت ہے کہ آپ کے گھرانے کی عزت و سرفرازی مجھے کائنات میں سب سے زیادہ عزیز ہے۔

کیا کوئی آزاد اور شریف عورت بھی زنا کر سکتی ہے؟ (بیعتِ نساء کے وقت جب بدکاری سے بچنے کا ذکر ہوا)

اٹھو اور ان رومی کتے نما درندوں پر ٹوٹ پڑو! آج تمہارا امتحان کا دن ہے۔ (معرکہ یرموک میں مجاہدین اسلام کی حوصلہ افزائی کے دوران)

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا

لقب و کنیت: أم معاوية (ام معاویہ)، زوجة أبي سفيان، صحابیہ جلیلہ، خاتونِ قریش
قبیلہ: قریش، بنو عبد شمس (Banu Abd Shams)
سن پیدائش و وفات: وفات: 14ھ / 635ء (عہدِ خلافتِ فاروقی)
مقام تدفین: دمشق، شام (کچھ روایات کے مطابق مدینہ منورہ)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com