Sahaba (صحابی)

حضرت فرات بن حیان عجلی رضی اللہ عنہ

« فرات بن حيان بن ثعلبة بن عبد العزى العجلي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت فرات بن حیان عجلی رضی اللہ عنہ کا تعلق عرب کے مشہور عدنانی قبیلے ‘بنو عجل’ سے تھا، جو بنو بکر بن وائل کی ایک شاخ ہے۔ مکہ مکرمہ میں سکونت اختیار کرنے کے بعد وہ قبیلہ بنو سہم کے حلیف بن گئے۔ قبل از اسلام، فرات بن حیان جزیرہ نما عرب کے راستوں، صحرائی گزرگاہوں اور جغرافیے کے بے تاج بادشاہ مانے جاتے تھے۔ ان کی اسی مہارت کی وجہ سے قریشِ مکہ کے بڑے تجارتی قافلے انہیں بطورِ خاص اپنا رہنما (خریت) مقرر کرتے تھے۔ وہ مکہ کے سرداروں بالخصوص صفوان بن امیہ اور ابو سفیان کے انتہائی قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

غزوہ بدر کے بعد، جب قریش نے شام کی طرف جانے والے ساحلی راستے کے بجائے نجد کا نیا راستہ اختیار کرنا چاہا، تو صفوان بن امیہ نے فرات بن حیان کو اس قافلے کا رہنما مقرر کیا۔ مدینہ منورہ میں جب اس قافلے کی اطلاع پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں سواروں کا ایک دستہ روانہ کیا۔ مقامِ قردہ پر مسلمانوں نے اس قافلے کو جا لیا، مالِ غنیمت پر قبضہ ہوا اور فرات بن حیان کو جنگی قیدی بنا کر مدینہ منورہ لایا گیا۔ مدینہ لائے جانے کے بعد، ان کے سابقہ حلیفوں نے ان کی سفارش کرنی چاہی، لیکن فرات بن حیان نے انصار کے ایک صحابی کے مشورے پر فوراً بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا اسلام قبول فرمایا، انہیں قتل سے امان دی اور آزاد فرما دیا۔ ان کا قبولِ اسلام اس قدر مخلصانہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے سچے ایمان کی گواہی خود زبانِ مبارک سے ارشاد فرمائی۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

قبولِ اسلام کے بعد حضرت فرات بن حیان رضی اللہ عنہ نے اپنی تمام تر صلاحیتیں، خاص طور پر جغرافیائی مہارت، اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں مدینہ منورہ میں مستقل سکونت کے لیے زمین کا ایک ٹکڑا (جاگیر) بھی عطا فرمایا۔ عہدِ فاروقی میں جب مرتدین کے خلاف مہمات کا آغاز ہوا اور فتوحاتِ عراق کی باری آئی، تو حضرت فرات بن حیان نے اسلامی لشکر کے لیے مہم جوئی اور جاسوسی کے فرائض انتہائی دلیری سے سرانجام دیے۔ جنگِ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف مہم میں انہوں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دستِ راست اور رہنما کے طور پر اہم ترین خدمات انجام دیں، کیونکہ وہ اس علاقے کی ایک ایک پگڈنڈی سے واقف تھے۔ امام ابن حجر عسقلانی اور حافظ ذہبی نے ان کا شمار مخلص ترین اصحابِ رسول اور مقتدر شیوخ میں کیا ہے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت فرات بن حیان رضی اللہ عنہ نے قبولِ اسلام کے بعد ایک طویل اور پرسکون زندگی گزاری۔ فتوحاتِ عراق کے بعد وہ کوفہ کے نواح میں آباد ہو گئے تھے اور وہیں درس و تدریس اور احادیثِ نبوی ﷺ کی اشاعت میں مشغول رہے۔ ان کا وصالِ باوقار امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے اواخر میں (بعض روایات کے مطابق عہدِ فاروقی کے اواخر میں) ہوا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی نسل سے کئی محدثین اور راویانِ حدیث پیدا ہوئے جنہوں نے علمِ حدیث کی گرانقدر خدمات انجام دیں۔ ان کی مرویات سنن ابی داؤد، سنن نسائی اور دیگر کتبِ صحاح میں محفوظ ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة، جلد 5، صفحہ 201)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، عہدِ صحابہ)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة فی معرفة الصحابة، ترجمہ نمبر 4210)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، ذکرِ وفود و مہماتِ صحابہ)
  • ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، طبقاتِ کوفین)

مبارک اقوال و ارشادات

رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالی شان: "بے شک تم میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کر دیتے ہیں (یعنی ان کا ایمان اتنا مضبوط ہے کہ انہیں کسی دنیاوی ترغیب کی ضرورت نہیں)، اور فرات بن حیان بھی انہیں میں سے ہیں۔"

حضرت فرات بن حیان فرماتے ہیں: "میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اس حال میں لایا گیا کہ آپ ﷺ نے میرے قتل کا حکم دے رکھا تھا، لیکن جب میں نے کلمہ توحید پڑھا تو آپ ﷺ نے مجھے رہا فرما دیا۔"

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت فرات بن حیان عجلی رضی اللہ عنہ

لقب و کنیت: ابو حیان (Abu Hayyan)، حلیفِ بنی سہم، خریتِ راہ (ماہرِ جغرافیہ و رہنما)
قبیلہ: بنو عجل (بنو بکر بن وائل، عدنانی قبیلہ)
سن پیدائش و وفات: وفات: تقریباً 20ھ تا 30ھ کے درمیان (عہدِ فاروقی یا عثمانی) / بمطابق 641ء تا 650ء
مقام تدفین: کوفہ یا یمامہ (عراق/جزیرہ نما عرب)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com