خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سیدنا حضرت ذو الکفل علیہ السلام بنو اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء کرام میں سے ہیں۔ مورخین اور مفسرین کے مابین آپ کے اصل نام اور نسب کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ مشہور مفسر ابن کثیر کے مطابق، آپ کا اصل نام ‘بشر’ تھا اور آپ حضرت ایوب علیہ السلام کے فرزند تھے۔ بعض روایات میں آپ کو حضرت الیسع علیہ السلام کا چچا زاد یا ان کا جانشین بتایا گیا ہے۔ آپ کی ولادت شام یا عراق کے نواحی علاقے میں ہوئی۔ بچپن ہی سے آپ کے اطوار نیک اور صالحین جیسے تھے۔ آپ انتہائی صابر، عابد اور زاہد شخصیت کے مالک تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبوت کے عالی مرتبے سے سرفراز فرمایا۔
دعوتِ حق اور منصبِ کفالت
حضرت ذو الکفل علیہ السلام کو ‘ذو الکفل’ کا لقب اس لیے ملا کیونکہ آپ نے اپنے عہد کے پیغمبر (جو غالباً حضرت الیسع علیہ السلام تھے) کی وفات کے بعد یا ان کی زندگی میں ان کے قائم کردہ ضابطوں اور قوم کی کفالت (ذمہ داری) کا عہد کیا تھا۔ آپ نے تین بنیادی باتوں کا عہد فرمایا تھا: رات بھر اللہ کی عبادت کرنا، دن کو روزہ رکھنا، اور فیصلے کرتے وقت کبھی غصہ نہ کرنا۔ آپ نے اپنے اس عہد کو نہایت احسن طریقے سے نبھایا اور شیطان کے تمام تر ہتھکنڈوں اور وسوسوں کے باوجود کبھی غصے مغلوب نہیں ہوئے۔ آپ نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، عدل و انصاف قائم کیا اور شریعتِ موسوی کے احکام کو عام کیا۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کا ذکر نہایت بلند الفاظ میں فرمایا ہے۔ سورہ الانبیاء (آیت 85-86) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ‘وإسماعيل وإدريس وذا الكفل كل من الصابرين * وأدخلناهم في رحمتنا إنهم من الصالحين’ (اور اسماعیل اور ادریس اور ذو الکفل کو، یہ سب صابر لوگ تھے، اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا، بے شک وہ صالحین میں سے تھے)۔ اسی طرح سورہ ص (آیت 48) میں بھی آپ کی تعریف فرمائی گئی ہے۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ آپ نے ملوکیت اور قضاوت کے نظام میں عدلِ فاروقی جیسی بے مثال مثالیں قائم کیں اور شخصی خواہشات پر عقل و شریعت کو ہمیشہ مقدم رکھا۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
سیدنا حضرت ذو الکفل علیہ السلام نے ایک طویل عمر تک بنی اسرائیل کی رہنمائی فرمائی اور ان کے امور کی کفالت کی۔ آپ کی وفات کے مقام کے بارے میں سب سے مستند اور مشہور تاریخی روایت یہ ہے کہ آپ کا وصال عراق کے شہر ‘الکفل’ میں ہوا، جو نجف اور حلہ کے درمیان واقع ہے۔ وہاں آج بھی آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔ بعض مورخین نے آپ کا مدفن شام کے علاقے حوران میں بھی لکھا ہے۔ آپ کی تاریخی میراث صبر، استقامت، ایفائے عہد اور غصے پر قابو پانے کی لازوال داستانوں سے عبارت ہے، جو رہتی دنیا تک نسلِ انسانی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد اول، ذکر ذو الکفل علیہ السلام)
- امام جریر الطبری (تاريخ الامم والملوک، ج 1)
- ابن اثیر الجزری (الکامل فی التاریخ، ذکر انبیاء بنی اسرائیل)
- امام بغوی (معالم التنزیل فی تفسیر القرآن)
- علامہ شہاب الدین آلوسی (روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم)
مبارک اقوال و ارشادات
میں اللہ کی رضا کے لیے اس قوم کی کفالت کا ذمہ لیتا ہوں کہ دن کو روزہ رکھوں گا، رات کو عبادت کروں گا اور غصہ نہیں کروں گا۔
حق کی راہ پر ثابت قدمی اور عدل و انصاف کا قیام ہی مومن کا اصل شیوہ ہے۔
امانت کی ادائیگی اور عہد کا پورا کرنا قربِ الٰہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
