خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
حضرت داؤد علیہ السلام بنی اسرائیل کے عظیم ترین پیغمبروں اور بادشاہوں میں سے ہیں۔ آپ کا نسب نامہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے یہودا کے واسطے سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ آپ فلسطین کے علاقے بیت اللحم (Bethlehem) میں پیدا ہوئے۔ اوائل زندگی میں آپ بکریاں چرایا کرتے تھے، جس کی وجہ سے آپ میں حلم، صبر اور تفکر جیسی صفات پیدا ہوئیں۔ آپ کا جسمانی قد کاٹھ اوسط درجے کا تھا، لیکن آپ انتہائی جری، دلیر اور قوی الایمان تھے۔ اس دور میں بنی اسرائیل شدید زوال کا شکار تھے اور ان پر عمالقہ کے جابر بادشاہ جالوت کا تسلط قائم ہو چکا تھا، جو ان پر بے پناہ مظالم ڈھاتا تھا۔
نبوت، معرکہِ جالوت اور منصبِ بادشاہت
جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے شموئیل علیہ السلام نے طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا، تو عمالقہ کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا۔ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے بھائیوں کے ساتھ طالوت کے لشکر میں شامل ہوئے۔ میدانِ جنگ میں جب مہیب اور دیو ہیکل جالوت نے بنی اسرائیل کو مبارزت (مقابلے) کے لیے للکارا، تو لشکر کا کوئی جرنیل اس کے سامنے آنے کی جرات نہ کر سکا۔ اس نازک موقع پر نوجوان داؤد علیہ السلام آگے بڑھے اور اپنی گوپھن (Sling) سے ایک ایسا نشانہ لگایا جس نے جالوت کی پیشانی کو چاک کر دیا اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اس بہادری اور فتح نے بنی اسرائیل کے حوصلے بلند کر دیے۔ طالوت کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی بادشاہت اور منصبِ نبوت دونوں سے سرفراز فرمایا، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ‘وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ’ (اور اللہ نے اسے بادشاہت اور حکمت عطا فرمائی اور جو چاہا سکھایا)۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
حضرت داؤد علیہ السلام کی زندگی معجزات اور کمالات سے عبارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو درج ذیل خصوصی انعامات سے نوازا:
1۔ زبور کا نزول اور لحنِ داؤدی: اللہ تعالیٰ نے آپ پر آسمانی کتاب ‘زبور’ نازل فرمائی۔ جب آپ خشوع و خضوع کے ساتھ زبور کی تلاوت فرماتے تو ہوا میں اڑتے پرندے ٹھہر جاتے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح و تقدیس الٰہی میں شریک ہو جاتے تھے۔ اس خوبصورت آواز کو اسلامی تاریخ میں ‘لحنِ داؤدی’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
2۔ لوہے کا موم ہونا اور زرہ سازی: اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا (وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ)۔ آپ بغیر آگ میں گرم کیے لوہے کو موم کی طرح موڑ لیتے تھے اور اس سے جنگی زرہیں بناتے تھے، جسے آپ فروخت کر کے حلال رزق کماتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کو ترجیح دیتے تھے۔
3۔ عبادت گزاری (صوم و صلاۃِ داؤدی): رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز اور روزہ داؤد علیہ السلام کا ہے۔ آپ آدھی رات تک سوتے، پھر تہائی رات عبادت کرتے اور پھر چھٹے حصے میں سو جاتے۔ اسی طرح آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے (صومِ داؤدی)۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
حضرت داؤد علیہ السلام نے چالیس سال تک نہایت عدل و انصاف کے ساتھ بنی اسرائیل پر حکومت کی اور بیت المقدس کو اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنایا۔ آپ کی سلطنت کی حدود دورِ دراز کے علاقوں تک پھیل گئیں۔ روایات کے مطابق آپ نے 100 سال کی عمر پائی۔ جب آپ کا وصال ہوا تو بنی اسرائیل کے تمام قبائل اور شیوخ آپ کے جنازے میں شریک ہوئے، یہاں تک کہ تیز دھوپ سے بچانے کے لیے پرندوں نے آپ کے جنازے پر پروں کا سایہ کیا۔ آپ کو القدس (یروشلم) میں جبل صیہون پر سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کے بعد آپ کے ہونہار فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام سلطنت اور نبوت کے وارث بنے، جنہوں نے ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر مکمل کر کے داؤدی مشن کو بامِ عروج پر پہنچایا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- القرآن الکریم (سورة البقرة، سورة الأنبیاء، سورة سبأ، سورة ص)
- ابن کثیر (البدایہ والنہایہ، باب ذکر قصۃ داود علیہ السلام)
- امام ابن جریر الطبری (تاریخ الامم والملوک، جلد اول)
- امام الذہبی (تاریخ الاسلام، طبقہء انبیاء علیہم السلام)
- ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ)
مبارک اقوال و ارشادات
اے سلیمان! غصے سے بچو، کیونکہ یہ غصہ عقل مند کے دل کو اسی طرح ہلکا اور تباہ کر دیتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔
یا رب! مجھے اپنے شکر گزار بندوں میں بنا، کیونکہ تیرے شکر گزار بندے تو بہت ہی تھوڑے ہیں۔
خاموشی دانائی ہے لیکن اس پر عمل کرنے والے اور خاموش رہنے والے بہت کم ہیں۔
