خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ربیع الاول 376 ہجری (مطابق 986ء) میں خراسان کے علاقے استواء (موجودہ ایران) میں ہوئی۔ آپ کا تعلق عرب کے ایک نامور اور معزز قبیلے ‘بنو قشیر’ سے تھا، جو اسلامی فتوحات کے دوران خراسان میں آباد ہو گیا تھا۔ آپ کے والد ہوازن بن عبد الملک کا انتقال آپ کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے آپ کی ابتدائی تربیت اور نگہداشت آپ کے ماموں اور خاندان کے دیگر معززین نے کی۔ آپ نے بچپن ہی میں عربی زبان، ادب اور گھڑ سواری و شمشیر زنی میں کمال حاصل کر لیا تھا۔
حصولِ علم اور علمی و صوفیانہ اسفار
امام قشیری ابتدا میں اپنے علاقے کے کسانوں پر ٹیکس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے علمِ حساب (ریاضی) سیکھنے کے ارادے سے نیشاپور تشریف لائے۔ نیشاپور اس وقت علم و معرفت کا گہوارہ تھا۔ وہاں آپ کی ملاقات وقت کے عظیم صوفی اور بزرگ حضرت ابو علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ سے ہوئی۔ ان کی مقناطیسی شخصیت اور صحبت نے نوجوان عبد الکریم کے دل کی دنیا بدل دی اور انہوں نے حساب کا ارادہ ترک کر کے سلوک و تصوف اور علمِ دین کی راہ اختیار کر لی۔ حضرت ابو علی دقاق نے ان کی صلاحیتوں کو بھانپ کر اپنی صاحبزادی فاطمہ سے ان کا نکاح بھی کر دیا۔ امام قشیری نے فقہ کی تعلیم امام ابو بکر بن فورک سے حاصل کی اور علمِ کلام و عقائد امام ابو اسحاق اسفرائینی سے سیکھا، جس کی بدولت وہ اپنے وقت کے ممتاز ترین شافعی فقیہ اور اشعری متکلم بن کر ابھرے۔
علمی مقام، عقیدہ اور خدمات (فتنہ کندری اور استقامت)
امام قشیری علمِ طریقت اور علمِ شریعت دونوں کے جامع تھے۔ انہوں نے تصوف کو بدعات اور غیر شرعی افکار سے پاک کرنے کے لیے اپنی شہرہ آفاق کتاب "الرسالة القشيرية” (رسالہ قشیریہ) تصنیف کی، جسے تصوف کے بنیادی اور مستند ترین مآخذ میں شمار کیا جاتا ہے۔ عقائد میں وہ امام ابو الحسن اشعری کے مکتبِ فکر کے علمبردار تھے۔ پانچویں صدی ہجری کے وسط میں سلجوقی وزیر عمید الملک الکندری نے اشاعرہ کے خلاف ایک فتنہ کھڑا کیا اور ائمہ حق پر منبروں سے لعنت ملامت کی مہم چلائی۔ امام قشیری نے اس ظلم کے خلاف ڈٹ کر آواز اٹھائی اور اپنا مشہور رسالہ "شکایۃ اہل السنۃ” تحریر کیا۔ اس حق گوئی کی پاداش میں انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں، لیکن وہ اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے۔ بعد ازاں آپ بغداد تشریف لے گئے جہاں عباسی خلیفہ القائم بامر اللہ نے آپ کا شاندار استقبال کیا اور آپ نے وہاں درسِ حدیث دیا۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
جب سلجوقی سلطنت میں الپ ارسلان اور ان کے نامور وزیر نظام الملک طوسی کا دور آیا، تو اشاعرہ پر سے مظالم کا خاتمہ ہوا اور امام قشیری پورے وقار کے ساتھ دوبارہ نیشاپور تشریف لائے۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام درس و تدریس اور ذکر و فکر میں گزارے۔ بالآخر، 16 ربیع الآخر 465 ہجری (مطابق 1072ء) کو یہ علم و معرفت کا آفتاب نیشاپور میں غروب ہو گیا۔ آپ کو آپ کے استادِ محترم ابو علی دقاق کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آپ نے اپنے پیچھے ایک عظیم علمی ورثہ چھوڑا جس میں "تفسیر لطائف الاشارات” (تصوف کی مایہ ناز تفسیر)، "الرسالۃ القشیریہ”، اور "کتاب المعراج” جیسی لازوال کتب شامل ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام شمس الدین الذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 18)
- امام تاج الدین السبکی (طبقات الشافعية الكبرى، جلد 5)
- ابن خلکان (وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان، جلد 3)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 12)
مبارک اقوال و ارشادات
تصوف شریعت کے احکام پر سختی سے عمل پیرا ہونے اور سنتِ نبوی کی کامل پیروی کا نام ہے۔
جس شخص کا کوئی مربی اور استاد (شیخ) نہیں ہوتا، اس کا استاد شیطان بن جاتا ہے۔
کرامت کی سب سے بڑی دلیل استقامت ہے، نہ کہ خرقِ عادات (عجیب و غریب امور) کا ظہور۔
