خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امیر المسلمین یوسف بن تاشفین 400 ہجری (بمطابق 1009ء) میں صحرائے اعظم کے مشہور بربر قبیلے ‘لمتونہ’ میں پیدا ہوئے، جو کہ صنہاجہ کا ایک اہم اور بااثر دھڑا تھا۔ آپ کا خاندان شرافت، دلیری اور دین داری میں ممتاز تھا۔ آپ کی ابتدائی زندگی صحرا کی سخت کوش فضا میں گزری جس نے آپ کو جفاکشی، صبر، عزمِ مصمم اور شجاعت کا پیکر بنا دیا۔ آپ نے گہرے مذہبی ماحول میں پرورش پائی اور فقہ مالکی کی تعلیم حاصل کی۔ صحرائی زندگی کی سادگی اور زہد آخری دم تک آپ کے کردار کا حصہ رہا۔
تحریک مرابطین اور قیادت کا حصول
یوسف بن تاشفین کی زندگی میں اصل تبدیلی اس وقت آئی جب وہ شیخ عبد اللہ بن یاسین کی شروع کردہ مصلحانہ اور جہادی تحریک ‘مرابطین’ سے وابستہ ہوئے۔ جب تحریک کے امیر ابو بکر بن عمر اللمتونی کو صحرائے افریقہ کے جنوبی قبائل کے فتنوں کو فرو کرنے کے لیے جانا پڑا، تو انہوں نے شمالی علاقوں (مغربِ اقصیٰ) کی امارت اور لشکر کی قیادت یوسف بن تاشفین کے سپرد کی۔ یوسف بن تاشفین نے اپنی غیر معمولی جنگی اور انتظامی صلاحیتوں کی بدولت جلد ہی پورے مراکش کو فتح کر لیا اور ایک مستحکم اسلامی ریاست قائم کی۔ انہوں نے 454ھ میں تاریخی شہر ‘مراکش’ کی بنیاد رکھی اور اسے اپنا دارالحکومت بنایا۔ جب ابو بکر بن عمر صحرا سے واپس لوٹے تو انہوں نے یوسف بن تاشفین کی قابلیت اور حسنِ انتظام کو دیکھ کر خوشی خوشی اپنی امارت سے دستبرداری کا اعلان کیا اور قیادت مکمل طور پر یوسف بن تاشفین کے سپرد کر دی۔
اندلس کی پکار اور تاریخی معرکہ زلاقہ
پانچویں صدی ہجری کے اواخر میں اندلس (اسپین) کے مسلمان طوائف الملوکی کا شکار تھے اور عیسائی فرماں روا الفونسو ششم (Alfonso VI) کی جارحیت کے سامنے بے بس ہو چکے تھے۔ اندلس کے مسلم حکمران (ملوک الطوائف)، خصوصاً اشبیلیہ کے معتمد باللہ نے یوسف بن تاشفین سے استغاثہ کیا۔ معتمد کا تاریخی جملہ تھا: "مجھے الفونسو کے خنزیر چرانے سے مرابطین کے اونٹ چرانا زیادہ پسند ہے۔” یوسف بن تاشفین نے اس پکار پر لبیک کہا اور بحرِ اوقیانوس کو پار کر کے اندلس میں داخل ہوئے۔ 12 رجب 479ھ (بمطابق 23 اکتوبر 1086ء) کو ‘معرکہ زلاقہ’ کے میدان میں یوسف بن تاشفین کی قیادت میں مرابطین کے مجاہدین نے الفونسو کی عظیم الشان عیسائی فوج کو عبرت ناک شکست دی۔ اس تاریخی فتح نے اندلس میں گرتی ہوئی مسلم حکومت کو مزید چار سو سال کی زندگی بخشی۔
کردار، عدل و انصاف اور تاریخی خدمات
یوسف بن تاشفین نے اپنی زندگی انتہائی زہد و قناعت میں گزاری۔ وہ قیمتی لباس اور شاہانہ ٹھاٹ باٹ سے اجتناب کرتے تھے، ان کی خوراک جو کی روٹی اور اونٹنی کا دودھ تھی اور وہ سادہ اونی لباس زیب تن کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے لیے ‘امیر المؤمنین’ کا لقب اختیار نہیں کیا کیونکہ وہ خلافتِ عباسیہ کا بے حد احترام کرتے تھے، بلکہ انہوں نے خلیفہِ بغداد سے ‘امیر المسلمین’ اور ‘ناصر الدین’ کا خطاب حاصل کیا۔ انہوں نے اسلامی تاریخ میں پہلی بار زکوٰۃ اور جزئیہ کے علاوہ تمام غیر شرعی ٹیکسوں کو منسوخ کر دیا۔ ان کی حکومت علمائے کرام کے مشورے کے تابع تھی اور وہ فقہائے مالکیہ کا بے حد احترام کرتے تھے۔
وصال اور تاریخی میراث
اندلس کو عیسائی جارحیت سے بچانے اور وہاں ایک مضبوط اسلامی حکومت قائم کرنے کے بعد، امیر یوسف بن تاشفین واپس مراکش تشریف لائے۔ انہوں نے تقریباً سو سال کی طویل عمر پائی جس کا بیشتر حصہ جہاد فی سبیل اللہ، اعلائے کلمۃ اللہ اور خلقِ خدا کی خدمت میں گزرا۔ آپ کا وصال 1 محرم الحرام 500ھ (بمطابق ستمبر 1106ء) کو ہوا۔ آپ کو مراکش شہر میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آپ کا مزار آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔ آپ کی وفات کے وقت مرابطین کی سلطنت شمال میں اندلس (دریائے تاجہ) سے لے کر جنوب میں سینیگال تک اور مغرب میں بحر اوقیانوس سے لے کر مشرق میں الجزائر تک پھیلی ہوئی تھی۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن خلدون (کتاب العبر وديوان المبتدأ والخبر)
- ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ)
- ابن خلکان (وفیات الاعیان و انباء ابناء الزمان)
- ابو العباس المقری التلمسانی (نفح الطيب من غصن الأندلس الرطيب)
- الذہبی (سیر اعلام النبلاء)
مبارک اقوال و ارشادات
1۔ "خدا کی قسم! اگر میں اندلس کی حفاظت کے لیے سمندر پار نہ جاؤں تو میں اپنے آپ کو خدا کی بارگاہ میں گنہگار پاؤں گا۔ اندلس کا زوال اسلام کا زوال ہوگا۔"
2۔ "میں مسلمانوں کے اتحاد کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوں، اور ہمارا مقصد صرف اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔"
