Sahaba (صحابی)

ملیل بن وبرہ رضی اللہ تعالی عنہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر اور لقب

ملیل بن وبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی خدمت اور نصرت کے لیے وقف کر دی۔ آپ کا مکمل نام ملیل بن وبرہ الجہنی تھا، اور آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے جہینہ سے تھا، خاص طور پر بنو قاصفہ شاخ سے۔ یہ قبیلہ اپنی بہادری اور جنگی مہارت کے لیے معروف تھا۔ آپ کی کنیت یا مزید کوئی لقب تاریخی روایات میں عام طور پر مذکور نہیں، البتہ آپ اپنے نام سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔ آپ اپنے قبیلے کے بااثر افراد میں سے تھے اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اپنے قبیلے میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
آپ کے قبیلے کا شمار مدینہ منورہ کے اطراف میں رہنے والے اہم قبائل میں ہوتا تھا، اور ان کا نبی کریم ﷺ سے ابتدائی دور سے ہی رابطہ قائم ہو گیا تھا۔ آپ نے قبیلہ جہینہ کے وفد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ملیل بن وبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں، جیسا کہ اکثر صحابہ کرام کے بارے میں ہوتا ہے جو اسلام قبول کرنے سے قبل تھے۔ تاہم، یہ بات یقینی ہے کہ وہ اسلام کے ظہور سے قبل جزیرہ نما عرب کے قبائلی ماحول میں پروان چڑھے، جہاں بہادری، فصاحت اور قبیلے کی روایات کو اہمیت دی جاتی تھی۔
آپ کا قبولِ اسلام ایک اہم موڑ تھا جو آپ کی زندگی کو مکمل طور پر بدل گیا۔ آپ نے نبی کریم ﷺ کی دعوت کو لبیک کہا اور اسلام کی حقانیت کو دل سے تسلیم کیا۔ آپ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے سن 6 ہجری میں صلح حدیبیہ کے موقع پر "بیعت رضوان” میں شرکت کی، جہاں درخت کے نیچے نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ پر موت کی بیعت کی گئی۔ یہ بیعت قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور بیعت کرنے والوں کے لیے عظیم اجر کا باعث قرار دی گئی۔ یہ آپ کے گہرے ایمان اور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ والہانہ عقیدت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جہینہ قبیلے کے ان افراد میں سے تھے جو فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کر چکے تھے اور انہوں نے مدینہ ہجرت کی یا نبی اکرم ﷺ کے قریب رہے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ملیل بن وبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی قبولِ اسلام کے بعد دین کی سربلندی کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں۔ آپ کے نمایاں کارناموں میں درج ذیل شامل ہیں:

  1. **بیعت رضوان میں شرکت:** آپ کا سب سے بڑا شرف بیعت رضوان میں شامل ہونا تھا۔ یہ وہ بیعت تھی جس کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا: "لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا” (یقیناً اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، پس جو کچھ ان کے دلوں میں تھا اس نے جان لیا اور ان پر سکینہ نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح سے نوازا)۔ اس بیعت میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام کو اللہ تعالیٰ نے جنت کی بشارت دی ہے۔
  2. **غزوات میں شرکت:** آپ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ متعدد غزوات اور سرایا میں شرکت کی، جن میں حدیبیہ، فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ طائف خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ آپ ہر موقع پر اپنی بہادری، ثابت قدمی اور بے لوث قربانی کا مظاہرہ کرتے رہے۔
  3. **فتح مکہ میں شمولیت:** آپ فتح مکہ کے عظیم لشکر کا حصہ تھے، جو دس ہزار جانثاروں پر مشتمل تھا۔ آپ نے مسلمانوں کے ساتھ فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہو کر کفر کے گڑھ کو فتح کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
  4. **حضور اکرم ﷺ کی رفاقت:** آپ کو نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا، اور آپ نے آپ کی تعلیمات کو براہ راست سنا اور ان پر عمل پیرا ہوئے۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تھا۔
  5. **جہاد فی سبیل اللہ:** آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے گزارا، اور ہمیشہ اسلام کے دفاع اور اس کی اشاعت کے لیے کوشاں رہے۔ آپ اسلامی فتوحات میں پیش پیش رہتے تھے اور حق کا پرچم بلند کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔

آپ کی زندگی استقامت، قربانی اور نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت کا حسین امتزاج تھی۔

میراث اور وصال

ملیل بن وبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے متعلق تاریخی روایات میں کوئی حتمی تاریخ یا مقام متعین نہیں ہے۔ اکثر صحابہ کرام کی طرح، آپ نے نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد بھی اسلامی ریاست کی خدمت جاری رکھی اور فتوحات میں حصہ لیا۔ آپ نے اپنی زندگی میں سچے مسلمان، بہادر سپاہی اور وفادار صحابی رسول ہونے کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
آپ کی میراث آنے والی نسلوں کے لیے ایمان کی پختگی، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور دین اسلام کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا روشن نمونہ ہے۔ آپ کی سیرت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ کس طرح ایک شخص اپنی ذات کو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کے تابع کر کے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ آپ نے اپنے ایمان، عمل اور جدوجہد کے ذریعے اسلام کی مضبوط بنیادوں کو قائم کرنے میں اپنا حصہ ڈالا، اور اپنے بعد ایک ایسا اسوہ حسنہ چھوڑا جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعل راہ رہے گا۔

مستند حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، *الاصابہ فی تمییز الصحابہ*، جلد 6، صفحہ 228 (ملیل بن وبرہ).
  • ابن اثیر، *اسد الغابہ فی معرفت الصحابہ*، جلد 4، صفحہ 438 (ملیل بن وبرہ الجہنی).
  • ابن سعد، *الطبقات الکبریٰ*، جلد 4، صفحہ 302 (جہینہ کے صحابہ کرام کے ضمن میں).
  • الذہبی، *سیر اعلام النبلاء*، (ذکر الصحابہ، ملیل بن وبرہ).
  • ابن کثیر، *البدایہ و النہایہ*، (ذکر غزوہ حدیبیہ اور بیعت رضوان کے شرکاء میں).
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ملیل بن وبرہ رضی اللہ تعالی عنہ

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com