خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ با سعادت 14 شوال 971 ہجری (بمطابق 26 مئی 1564ء) کو بھارت کے تاریخی شہر سرہند میں ہوئی۔ آپ کا نسب مبارک خلیفہء دوم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کا گھرانہ علم و تقویٰ کا گہوارہ تھا۔ آپ کے والد گرامی شیخ عبد الاحد فاروقی اپنے وقت کے جید عالمِ دین اور مقتدر صوفی تھے۔ شیخ احمد سرہندی نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ محترم سے حاصل کی اور انتہائی کم عمری میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔ اس کے بعد آپ نے سیالکوٹ اور سرہند کے نامور علماء سے مروجہ علومِ عقلیہ و نقلیہ، بشمول حدیث، فقہ، تفسیر، اور منطق و فلسفہ کی تکمیل کی۔ آپ کو بی بی سیالکوٹ کے کمال الدین کاشمیری اور علامہ یعقوب کشمیری جیسے ممتاز شیوخ سے سندِ حدیث حاصل ہوئی۔
روحانی سلوک اور تجدیدی بیداری
تحصیلِ علم کے بعد شیخ احمد سرہندی نے تصوف کی طرف توجہ فرمائی۔ ابتدا میں اپنے والد سے چشتیہ اور قادریہ سلاسل میں سلوک طے کیا، لیکن ان کی روحانی تشنگی دلی میں نقشبندیہ سلسلے کے عظیم بزرگ حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پہنچ کر دور ہوئی۔ خواجہ باقی باللہ نے ان کی باطنی استعداد کو بھانپتے ہوئے انہیں نقشبندی سلسلے کی خلافت سے نوازا اور فرمایا کہ ‘شیخ احمد ایک ایسا آفتاب ہے جس کے سایہ میں لاکھوں ستارے چمکیں گے’۔ اس بیعت کے بعد آپ نے تصوف کو غیر اسلامی آمیزشوں سے پاک کرنے اور اسے شریعتِ مطہرہ کے تابع کرنے کا عزمِ مصمم کیا۔
دینِ اکبری کا رد اور مجاہدانہ سرگرمیاں
یہ وہ دور تھا جب مغل شہنشاہ اکبر نے سیاسی فوائد کے لیے ‘دینِ الٰہی’ (دینِ اکبری) کے نام سے ایک خود ساختہ مذہب متعارف کروا رکھا تھا، جس کا مقصد اسلام کی بنیادی اقدار اور شعائر کو ختم کرنا تھا۔ سجدہء تعظیمی، گائے کی قربانی پر پابندی، اور شریعت کی تضحیک عام ہو چکی تھی۔ مجدد الف ثانی نے اس فتنہء الحاد کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ آپ نے مغل دربار کے بااثر امراء اور وزراء کو مکتوبات (خطوط) لکھ کر شریعت کی بالادستی اور سنتِ نبوی کے احیاء پر زور دیا۔ جہانگیر کے تخت نشین ہونے کے بعد، جب آپ نے دربار میں سجدہء تعظیمی کرنے سے انکار کر دیا، تو آپ کو گوالیار کے قلعے میں قید کر دیا گیا۔ آپ نے قید خانے کو بھی دعوت و تبلیغ کا مرکز بنا دیا، جہاں سینکڑوں غیر مسلم قیدی دائرہء اسلام میں داخل ہوئے۔ بالآخر جہانگیر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، اس نے آپ کو رہا کیا اور آپ کا معتقد ہو گیا۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
حضرت شیخ احمد سرہندی کو اسلامی تاریخ میں ‘مجدد الف ثانی’ (دوسرے ہزاریے کا مجدد) کہا جاتا ہے۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ ‘وحدت الشہود’ کا نظریہ پیش کرنا تھا، جس نے ابنِ عربی کے ‘وحدت الوجود’ کے فلسفے کی افراط و تفریط کی اصلاح کی اور صوفیاء کو دوبارہ شریعت کا پابند بنایا۔ آپ نے واضح کیا کہ تصوف، شریعت کا خادم ہے نہ کہ اس کے مقابل کوئی الگ راہ۔ آپ کے خطوط کا مجموعہ ‘مکتوباتِ امامِ ربانی’ تصوف، عقائد، اور اصلاحِ معاشرت کا ایک بے مثل علمی خزانہ ہے، جو آج بھی سالکینِ راہِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ کی جدوجہد کے نتیجے میں ہی برصغیر پاک و ہند میں الحاد کا سیلاب رکا اور آئندہ نسلوں، خصوصاً شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں اسلامی شریعت کا نفاذ ممکن ہو سکا۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
عمر بھر دینِ متین کی تجدید اور سنتِ نبوی کے احیاء کے لیے مصروفِ عمل رہنے کے بعد، امتِ مسلمہ کا یہ عظیم مصلح 28 صفر 1034 ہجری (بمطابق 10 دسمبر 1624ء) کو 63 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ آپ کی تدفین سرہند شریف (پنجاب، بھارت) میں ہوئی، جہاں آپ کا روضہ مبارک آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔ آپ کی علمی و روحانی میراث نے نقشبندیہ مجددیہ سلسلے کی شکل میں پوری دنیا، بالخصوص وسطی ایشیا، ترکی، اور برصغیر میں اسلام کی حقیقی روح کو زندہ رکھا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- خواجہ محمد ہاشم کشمی (زبدۃ المقامات)
- خواجہ بدر الدین سرہندی (حضرات القدس)
- شاہ ولی اللہ دہلوی (القول الجلی فی ذکر آثار الولی)
- سید ابو الحسن علی ندوی (تاریخ دعوت و عزیمت – جلد چہارم)
- پروفیسر محمد مسعود احمد (سیرت مجدد الف ثانی)
مبارک اقوال و ارشادات
شریعت کے تین اجزاء ہیں: علم، عمل اور اخلاص۔ جب تک یہ تینوں جمع نہ ہوں، حقیقتِ شریعت حاصل نہیں ہوتی۔
کشف و الہام اگر کتاب و سنت کے مطابق ہوں تو مقبول ہیں، ورنہ وہ زندیقیت اور گمراہی کی علامت ہیں۔
حق سبحانہ و تعالیٰ وراء الوراء ثم وراء الوراء ہے، یعنی وہ ذاتِ باری تعالیٰ ہر اس حد، قیاس اور تخیل سے بلند ہے جو عقلِ انسانی میں سما سکے۔
