خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
قاضی ناصر الدین عبد اللہ بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت شیراز کے قریب واقع ایک بستی ‘البیضاء’ میں تیرہویں صدی عیسوی (ساتویں صدی ہجری) کے اوائل میں ہوئی۔ آپ کا تعلق ایک نہایت معزز، علمی اور قضاوت کے پیشے سے وابستہ خاندان سے تھا۔ آپ کے والدِ گرامی امام عمر بن محمد بیضاوی فارس کے چیف جسٹس (قاضی القضات) تھے، اور دادا بھی مملکت کے ممتاز ترین علماء میں شمار ہوتے تھے۔ اسی علمی ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی۔ آپ نے بچپن ہی میں قرآن کریم حفظ کیا اور اپنے والدِ گرامی سے فقہ شافعی، اصولِ فقہ، عربی ادب اور علم الکلام کی بنیادی کتب پڑھیں۔ اوائلِ عمر ہی میں آپ کی ذہانت اور علمی رسوخ کے چرچے پورے خطہ فارس میں پھیل گئے، اور آپ نے اپنے والد کی وفات کے بعد شیراز میں قضاوت (جج) کے فرائض سنبھالے۔
قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات
اگرچہ قاضی بیضاوی کا تعلق ایک قدیم مسلم گھرانے سے تھا اور وہ پیدائشی مسلمان تھے، لیکن انہوں نے منگولوں کے غلبے اور عالمِ اسلام کے زوال کے دور میں اسلام کی فکری بقاء کے لیے جو عظیم الشان خدمات انجام دیں، وہ تاریخِ اسلام کا سنہرا باب ہیں۔ جب منگولوں نے بغداد کو تباہ کیا اور خلافتِ عباسیہ کا خاتمہ ہوا، تو علمی مراکز اجڑ رہے تھے۔ ایسے کٹھن حالات میں قاضی بیضاوی نے علم کی شمع کو روشن رکھا۔ انہوں نے شیراز اور بعد ازاں تبریز کو اپنا مرکز بنایا۔ انہوں نے تدریس، قضاوت اور افتاء کے ذریعے ہزاروں تشنگانِ علم کو فیض یاب کیا اور منگول حکمرانوں کے درباروں میں جا کر اسلام کی حقانیت اور انصاف پسندی کا لوہا منوایا، جس کے نتیجے میں کئی منگول امراء اور عام لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
قاضی ناصر الدین بیضاوی کا سب سے بڑا اور لازوال کارنامہ ان کی شہرہ آفاق تفسیر ‘أنوار التنزيل وأسرار التأويل’ ہے، جو دنیا بھر میں ‘تفسیرِ بیضاوی’ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس تفسیر کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ مختصر ہونے کے باوجود معانی کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ آپ نے علامہ زمخشری کی ‘کشاف’ کی لسانی باریکیوں، امام رازی کی ‘تفسیر کبیر’ کے کلامی و فلسفیانہ مباحث اور علامہ راغب اصفہانی کے مفردات کو یکجا کر کے، غیر ضروری مباحث کو خارج کیا اور ایک جامع اور معتدل شاہکار تخلیق کیا۔ یہ کتاب صدیوں سے درسِ نظامی (برصغیر) اور جامعہ الازہر سمیت دنیا بھر کے مدارس و جامعات میں شاملِ نصاب ہے۔ ان کی دیگر تصانیف میں علم الکلام پر ‘طوالع الانوار’، اصولِ فقہ پر ‘منہاج الوصول’، اور فقہ شافعی پر ‘الغایۃ القصویٰ’ لازوال شہرت کی حامل ہیں۔ آپ کو فکری اعتدال، گہرے تدبر اور سحر انگیز خطابت کی وجہ سے ‘امام’ اور ‘قاضی القضات’ کا لقب دیا گیا۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
زندگی کے آخری ایام میں قاضی بیضاوی تبریز (ایران) تشریف لے گئے، جو اس وقت علمی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا۔ وہاں انہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک تصنیف و تالیف اور تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ بالآخر سنہ 685 ہجری (یا مستند روایات کے مطابق 691 ہجری) میں یہ آفتابِ علم غروب ہو گیا۔ آپ کو تبریز کے مشہور تاریخی قبرستان ‘چرنداب’ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ قاضی بیضاوی کی تاریخی میراث آج بھی تفسیر، اصول اور کلام کی شکل میں زندہ ہے۔ ان کی تفسیر پر سینکڑوں علماء نے حواشی اور شروحات لکھی ہیں، جن میں ‘حاشیہ شہاب’، ‘حاشیہ قونوی’ اور ‘حاشیہ زادہ’ نمایاں ہیں، جو ان کی علمی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- تاج الدین السبکی (طبقات الشافعیہ الکبریٰ، جلد 8، صفحہ 281)
- امام شمس الدین الذہبی (تاریخ الاسلام ووفیات المشاہیر والاعلام)
- جلال الدین السیوطی (بغیۃ الوعاۃ فی طبقات اللغویین والنحاۃ، جلد 2، صفحہ 50)
- حاجی خلیفہ (کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون، جلد 1، صفحہ 186)
- ابن کثیر (البدایہ والنہایہ، وفیاتِ ساتویں صدی ہجری)
مبارک اقوال و ارشادات
تفسیرِ قرآن کا حق وہی شخص ادا کر سکتا ہے جو لغتِ عرب، اصولِ دین (کلام)، اصولِ فقہ اور روایت و درایت کے تمام علوم میں مہارتِ تامہ رکھتا ہو۔
انسان کا حقیقی شرف یہ ہے کہ وہ معرفتِ الٰہی کے نور سے اپنے باطن کو منور کرے اور شرعی احکام پر استقامت اختیار کرے۔
علم صرف معلومات کے جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ علم وہ ہے جو انسان کے اخلاق کو سنوارے اور عمل میں نظر آئے۔
