مفسرین قرآن و متکلمین

قاضی ابو السعود افندی

« أبو السعود محمد بن محمد بن مصطفى العمادي الإمادي الحنفي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

قاضی ابو السعود افندی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 896ھ (مطابق 1490ء) کو استنبول کے قریب ایک علمی خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد، شیخ محیی الدین محمد، ایک جید عالمِ دین اور صوفی باصفا تھے جو عثمانی دربار میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ابو السعود افندی نے بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے والدِ محترم سے عربی زبان، فقہ، اصولِ فقہ، اور علمِ کلام کی بنیادی اور اعلیٰ کتب پڑھیں۔ آپ کا خاندان علم و فضل کا گہوارہ تھا، جس کی بدولت آپ کو اوائل عمری ہی سے علمی مجالس تک رسائی حاصل ہوئی اور آپ نے اس دور کے نامور عثمانی شیوخ سے اکتسابِ فیض کیا۔

علمی سفر اور فقہی خدمات

ابو السعود افندی نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز مختلف عثمانی مدارس سے کیا۔ وہ انیگول، داؤد پاشا، اور حسیقی کے مدارس میں مدرس رہے۔ ان کی علمی شہرت جلد ہی دارالحکومت استنبول تک پہنچ گئی، جس کے بعد انہیں سلطنت کے معتبر ترین تعلیمی ادارے ‘مدرسہ سحنِ ثمان’ میں تدریس کے فرائض سونپے گئے۔ ان کی شاندار علمی قابلیت کو دیکھتے ہوئے 1537ء میں انہیں سلطنت عثمانیہ کا ‘قاضی عسکرِ روم ایلی’ (پورے یورپی مقبوضات کا چیف جسٹس) مقرر کیا گیا۔ اس منصب پر انہوں نے عسکری اور دیوانی قوانین کو مربوط کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔

منصبِ شیخ الاسلام اور عظیم قانونی اصلاحات

سلطان سلیمان قانونی (عالیشان) نے قاضی ابو السعود افندی کے علم و تقویٰ اور غیر معمولی انتظامی و قانونی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے انہیں 1545ء میں سلطنت عثمانیہ کا ‘شیخ الاسلام’ (عظیم ترین مفتی) مقرر کیا۔ وہ مسلسل 29 سال تک اس عظیم منصب پر فائز رہے۔ اس طویل دورانیے میں انہوں نے عثمانی قوانین (قانون نامہ) کی ازسرِ نو تدوین کی اور انہیں فقہِ حنفی کی روشنی میں شرعی اصولوں کے عین مطابق ڈھالا۔ انہوں نے اراضی کے معاملات، ٹیکسیشن، اور دیوانی قوانین میں ایسی اصلاحات کیں جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کے نظم و نسق کو جدید اور پائیدار بنیادیں فراہم کیں۔

تفسیرِ ابو السعود اور علمی آثار

ابو السعود افندی محض ایک مدبر اور فقیہ ہی نہیں تھے، بلکہ وہ عربی زبان کے بے مثل ادیب اور مفسرِ قرآن بھی تھے۔ ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ان کی لکھی ہوئی تفسیر ہے، جس کا نام "إرشاد العقل السليم إلى مزايا الكتاب الكريم” ہے، جو عام طور پر ‘تفسیر ابی السعود’ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تفسیر بلاغت، فصاحت، اور قرآن کے معجزانہ اسلوب کو اجاگر کرنے میں اپنی مثال آپ ہے اور صدیوں سے اسلامی دنیا کے مدارس میں مرجعِ خاص و عام رہی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تصوف، فقہ اور عربی شاعری پر بھی گراں قدر کتب تحریر کیں۔

وصالِ مبارک اور تاریخی میراث

قاضی ابو السعود افندی نے 982ھ (مطابق 1574ء) میں استنبول میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ جامع مسجد سلیمیہ میں ادا کی گئی، جس میں سلطان، وزراء، علماء اور عوام کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ انہیں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مزار کے قریب واقع قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ تاریخِ اسلام میں انہیں ایک ایسے مجددِ قانون کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے شریعت اور ریاستی قوانین کو باہم مدغم کر کے ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست کا ڈھانچہ تیار کیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • طاشکبرئی زادہ (الشقائق النعمانية في علماء الدولة العثمانية)
  • ابن العماد الحنبلي (شذرات الذهب في أخبار من ذهب)
  • کاتب چلبی (کشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون)
  • سلیمان البستانی (دائرة المعارف العثمانية)

مبارک اقوال و ارشادات

قانونِ سلطنت (قانون نامہ) کو شریعتِ مطہرہ کے قالب میں ڈھالنا اور عدلِ اجتماعی کا قیام ہی ایک اسلامی ریاست کی بقا کا ضامن ہے۔

علمِ دین کے بغیر منصبِ قضا پر بیٹھنا خود کو جہنم کے دہانے پر کھڑا کرنے کے مترادف ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

قاضی ابو السعود افندی

لقب و کنیت: ابو السعود، شیخ الاسلام، مفتی الثقلین، خواجہ چلیبی، رئیس المفسرین
قبیلہ: العمادی (خاندانِ عماد، ترکی/کردی نژاد عثمانی علمی گھرانہ)
سن پیدائش و وفات: 896ھ – 982ھ / 1490ء – 1574ء
مقام تدفین: قبرستان ابو ایوب انصاری، استنبول، سلطنت عثمانیہ (موجودہ ترکی)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com