Sahaba (صحابی)

فیروز الدیلمی رضی اللہ تعالی عنہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر اور لقب

فیروز الدیلمی رضی اللہ تعالی عنہ، جن کا پورا نام فیروز بن خسرو الدیلمی تھا۔ آپ کا تعلق فارسی الاصل قوم سے تھا جو ایران کے شمالی علاقہ دیلم کے رہنے والے تھے۔ اسی نسبت سے آپ کو "الدیلمی” کہا جاتا ہے۔ آپ ان "ابناء فارس” میں سے تھے جو شاہ ایران کسریٰ پرویز کے حکم پر یمن میں موجود حبشی تسلط کو ختم کرنے کے لیے بھیجی گئی فوج کے سپاہی اور پھر وہاں آباد ہو گئے۔ یمن میں آپ بنو جریش قبیلے کے ساتھ بھی منسلک رہے، اسی وجہ سے بعض اوقات آپ کو فیروز الجریشی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ یمن میں "ابناء” کے سرداروں میں سے ایک معزز اور بااثر شخصیت تھے۔ یہ ابناء، فارسی فوجیوں کی نسل تھے جو یمن میں مستقل طور پر آباد ہو گئے تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

قبولِ اسلام سے قبل، فیروز الدیلمی رضی اللہ تعالی عنہ یمن میں اپنے آباء و اجداد کے ساتھ مقیم تھے اور وہاں کی فارسی کمیونٹی (ابناء) میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے شاہ ایران کسریٰ پرویز کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خط بھیجا اور اس کے بعد یمن کے گورنر باذان کو بھی دعوت اسلام پہنچائی گئی، تو حق کی روشنی نے باذان اور دیگر فارسی سرداروں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ باذان نے، جب اسے کسریٰ پرویز کی ہلاکت کی خبر ملی (جو رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی کے عین مطابق تھی)، اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھ ہی یمن میں موجود بہت سے فارسی النسل افراد، جن میں فیروز الدیلمی رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے، دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔
فیروز الدیلمی رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ منورہ کا سفر کیا اور رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی، اس طرح آپ عظیم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمرے میں شامل ہو گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں واپس یمن بھیجا تاکہ وہ وہاں دین کی خدمت انجام دیں۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

فیروز الدیلمی رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے بڑا اور نمایاں کارنامہ جھوٹے نبی اسود عنسی کا خاتمہ ہے، جس نے نبی اکرم ﷺ کے آخری ایام میں یمن میں فتنہ برپا کیا تھا۔
اسود عنسی ایک جادوگر اور کاہن تھا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور یمن کے بڑے حصے پر قابض ہو گیا، حتیٰ کہ اس نے صنعاء پر بھی قبضہ کر لیا اور وہاں سے رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ عمال کو نکال دیا۔ اس کے فتنے نے اسلامی ریاست کے لیے ایک شدید خطرہ پیدا کر دیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اسود عنسی کے فتنے کو کچلنے کے لیے یمن میں اپنے صحابہ کرام کو ہدایات بھیجیں اور آپ ﷺ نے معجزانہ طور پر اسود عنسی کی ہلاکت کی پیش گوئی بھی فرمائی۔ فیروز الدیلمی رضی اللہ تعالی عنہ نے، جو اپنی شجاعت اور وفاداری کے لیے مشہور تھے، اسود عنسی کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
آپ نے قیس بن مکشوح المرادی، دادویہ اور اسود عنسی کی بیوی مرحبہ (جو اس سے خوش نہیں تھی) کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا۔ ایک رات فیروز الدیلمی رضی اللہ تعالی عنہ اسود عنسی کے محل میں داخل ہوئے، جہاں وہ شراب کے نشے میں دھت سو رہا تھا، اور اپنی تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ یہ واقعہ ہجرت کے گیارہویں سال رسول اللہ ﷺ کی وفات سے کچھ عرصہ قبل پیش آیا۔
اسود عنسی کی ہلاکت کی خبر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اسی رات رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دی، اور آپ ﷺ نے مسلمانوں کو اس فتح کی خوشخبری سنائی۔ فیروز الدیلمی رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ کارنامہ اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، کیونکہ آپ نے امت کو ایک بہت بڑے فتنے سے نجات دلائی۔
آپ نے بعد ازاں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہونے والی جنگوں میں بھی شرکت کی اور مرتدین کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا۔

میراث اور وصال

فیروز الدیلمی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دین کی خدمت میں گزاری۔ آپ کی میراث ایک بہادر، وفادار اور مؤثر صحابی کی ہے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں ایک عظیم فتنے کا خاتمہ کرکے امت مسلمہ پر احسان کیا۔ آپ کا نام ہمیشہ اسود عنسی کے قاتل اور یمن میں اسلام کے استحکام کے لیے کوشاں ایک مجاہد کی حیثیت سے زندہ رہے گا۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ آپ کا وصال یمن میں ہوا، اور آپ کے بعد آپ کی اولاد یمن میں ہی آباد رہی۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
  • طبری، تاریخ طبری
  • ابن حجر عسقلانی، الإصابة في تمييز الصحابة
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
  • ذہبی، سیر اعلام النبلاء

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

فیروز الدیلمی رضی اللہ تعالی عنہ

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com