خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

غازی عثمان پاشا (بطل حصار پلیونا)

« الغازي عثمان نوري باشا بن علي بك »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

غازی عثمان نوری پاشا 1832ء میں اناطولیہ کے تاریخی شہر ‘توقات’ کے ایک معزز اور قدیم ترک خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علی بک عثمانی سول سروس سے وابستہ تھے۔ عثمان پاشا بچپن ہی میں اپنے خاندان کے ہمراہ دارالحکومت استنبول منتقل ہو گئے۔ وہاں انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور عسکری صلاحیتوں کے شوق کے باعث عثمانی ملٹری اکیڈمی (مکتبِ حربیہ) میں داخلہ لیا۔ انہوں نے انتہائی ذہانت اور غیر معمولی جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1853ء میں عثمانی کیولری کور سے بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ گریجویشن مکمل کی۔

عسکری خدمات اور شاندار ترقی کا سفر

غازی عثمان پاشا کا فوجی کیریئر عثمانی تاریخ کے نازک ترین دور میں شروع ہوا۔ انہوں نے جنگِ کریمیا (Crimean War) میں بھرپور حصہ لیا اور اپنی شجاعت کا لوہا منوایا۔ اس کے بعد انہوں نے لبنان، یمن اور کریٹ کے بحرانوں میں عسکری خدمات سرانجام دیں۔ 1876ء میں سربیا کے خلاف جنگ میں ان کی قیادت میں عثمانی فوج نے شاندار فتوحات حاصل کیں، جس پر سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان عبدالحمید ثانی نے انہیں ‘پاشا’ (جنرل) اور بعد میں ‘مشیر’ (فیلڈ مارشل) کے اعلیٰ ترین عسکری اعزازات سے نوازا۔

محاصرہ پلیونا (بطل حصار پلیونا) اور بے مثال شجاعت

1877ء کی روس-ترک جنگ عثمان پاشا کے عسکری کمال کا نقطہ عروج تھی۔ انہوں نے بلغاریہ کے شہر ‘پلیونا’ (Plevna) میں عثمانی فوج کی کمانڈ سنبھالی۔ روسی اور رومیانی افواج نے مشترکہ طور پر پلیونا کا محاصرہ کر لیا۔ عثمان پاشا نے انتہائی محدود وسائل، خوراک اور اسلحے کی شدید قلت کے باوجود پانچ ماہ تک روسی سلطنت کی ٹڈی دل افواج کا دلیری سے مقابلہ کیا۔ ان کی تیار کردہ دفاعی خندقوں اور جنگی حکمتِ عملی کی بدولت روسیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اگرچہ بالآخر محاصرے کے خاتمے پر انہیں زخمی حالت میں ہتھیار ڈالنے پڑے، لیکن ان کی بے نظیر شجاعت دیکھ کر خود روسی زار الیگزینڈر دوم نے ان کی تلوار احتراماً انہیں واپس لوٹا دی اور انہیں ایک جنگی قیدی کے بجائے ایک عظیم ہیرو کا درجہ دیا۔

آخری ایام، وفات اور تاریخی میراث

روس کے ساتھ امن معاہدے کے بعد غازی عثمان پاشا عزت و احترام کے ساتھ استنبول واپس تشریف لائے۔ سلطان عبدالحمید ثانی نے بذاتِ خود ان کا استقبال کیا اور انہیں ‘غازی’ (فاتح) اور ‘یاورِ اعظم’ کا خطاب دیا۔ وہ طویل عرصے تک عثمانی وزیرِ جنگ کے عہدے پر فائز رہے۔ غازی عثمان پاشا کا انتقال 5 اپریل 1900ء کو استنبول میں ہوا۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں سلطان محمد فاتح کی مسجد کے پرشکوہ احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی یاد میں بنایا گیا ‘پلیونا مارچ’ آج بھی ترک تاریخ اور عسکری روایات کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ ہے۔

مستند تاریخی و عسکری حوالہ جات

  • یلماز عوزتونا (تاریخِ دولتِ عثمانیہ)
  • پروفیسر خلیل اینالجک (سلطنتِ عثمانیہ کا زوال اور عسکری اصلاحات)
  • جرنل محمود جلال الدین پاشا (مرآۃ الحقیقت – عثمانی جنگی تاریخ)
  • روسی عسکری آرکائیوز (جنگِ پلیونا کی دفتری رپورٹیں، سینٹ پیٹرزبرگ)

مبارک اقوال و ارشادات

ہم آخری قطرہ خون اور آخری گولی تک پلیونا کا دفاع کریں گے، کیونکہ عثمانی غیرت ہمیں دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی اجازت نہیں دیتی۔

شکست کا مطلب میدانِ جنگ میں موت ہو سکتا ہے، لیکن بزدلی اور بغیر لڑے ہتھیار ڈال دینا تاریخ میں ہمیشہ کے لیے رسوائی ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

غازی عثمان پاشا (بطل حصار پلیونا)

لقب و کنیت: غازی عثمان پاشا، بطلِ پلیونا (Hero of Plevna)، مشیر (فیلڈ مارشل)، یاورِ اعظم (چیف ایڈ ڈی کیمپ)
قبیلہ: عثمانی ترک (خاندانِ علی بک، توقات کا معزز گھرانہ)
سن پیدائش و وفات: 1248ھ – 1317ھ / 1832ء – 1900ء
مقام تدفین: فاتح مسجد کا احاطہ، استنبول، سلطنت عثمانیہ (ترکی)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com