مسلم سائنسدان و فلاسفہ

عز الدین علی بن اثیر جزری (صاحب الکامل فی التاریخ)

« أبو الحسن علي بن محمد بن عبد الكريم بن عبد الواحد الشيباني الجزري، الملقب بـ عز الدين بن الأثير »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام عز الدین ابن الاثیر الجزریؒ کی ولادت جزیرہ ابن عمر (موجودہ ترکی اور عراق کی سرحد پر واقع جزیرا شہر) میں ہوئی۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو شیبان سے تھا جو علم و فضل اور سخاوت میں مانا جاتا تھا۔ ان کا خاندان علم و ثروت کا گہوارہ تھا۔ ان کے والد سرکاری عہدے دار ہونے کے ساتھ ساتھ علم دوست انسان تھے، یہی وجہ ہے کہ عز الدین ابن الاثیر اور ان کے بھائیوں (مجد الدین اور ضیاء الدین) نے بہترین ماحول میں پرورش پائی اور علم کے اعلیٰ مدارج طے کیے۔ انہوں نے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کیا اور پھر حصولِ علم کے لیے بغداد، موصل، شام اور بیت المقدس کے متعدد علمی اسفار کیے۔

علمی تبحر اور فقہی و تاریخی مقام

ابن الاثیر جزری نہ صرف ایک عظیم مؤرخ تھے بلکہ وہ حدیث، فقہ، لغت، علمِ انساب اور مغازی کے جلیل القدر عالم تھے۔ انہوں نے ائمہ حدیث سے سماع کیا اور روایتِ حدیث کی اجازت حاصل کی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ موصل میں تصنیف و تالیف اور تدریس میں گزارا۔ مؤرخین ان کے زہد، تقویٰ، غیر جانبدارانہ طرزِ تحریر اور باریک بینی کے معترف ہیں۔ انہوں نے تاریخ نویسی کے مروجہ طریقوں سے ہٹ کر ایک ایسا اسلوب وضع کیا جو عقلی تجزیے اور مستند روایات پر مبنی تھا۔

نمایاں علمی کارنامے اور لازوال تصانیف

امام ابن الاثیر کی تصانیف اسلامی تاریخ کا لازوال اثاثہ ہیں۔ ان کی چند کتب درج ذیل ہیں:

  • الکامل فی التاریخ: یہ ان کا سب سے بڑا تاریخی شاہکار ہے جو تخلیقِ کائنات سے لے کر 628ھ تک کی تاریخ پر محیط ہے۔ یہ کتاب عربی تاریخ نویسی کا نقطہ عروج سمجھی جاتی ہے۔
  • أسد الغابة في معرفة الصحابة: یہ صحابہ کرام کے احوال پر مشتمل سب سے جامع اور مستند ترین انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں تقریباً 7,500 سے زائد صحابہ کرام کے سوانح درج ہیں۔
  • اللباب في تهذيب الأنساب: یہ کتاب علمِ انساب میں علامہ سمعانی کی ‘الانساب’ کا نہایت عمدہ اختصار اور تصحیح ہے۔
  • التاریخ الباھر فی الدولۃ الاتابکیہ: اس میں انہوں نے موصل کے زنگی حکمرانوں کی تاریخ لکھی۔

آخری ایام اور تاریخی علمی میراث

امام عز الدین ابن الاثیر نے اپنی زندگی کے آخری ایام موصل میں انتہائی وقار اور علمی مصروفیات میں گزارے۔ تاتاریوں کے فتنہ اور بغداد کی تباہی کے ابتدائی آثار انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور الکامل میں ان لرزہ خیز واقعات کو نہایت دردمندی سے بیان کیا۔ بالآخر، 25 شعبان 630ھ کو موصل میں یہ علم کا درخشندہ ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور وہیں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ ان کا علمی ورثہ آج بھی مسلم اور غیر مسلم محققین کے لیے بنیادی ماخذ کا درجہ رکھتا ہے۔

مستند تاریخی و تذکراتی حوالہ جات

  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 22)
  • ابن خلکان (وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، واقعاتِ سن 630ھ)
  • تاج الدین السبکی (طبقات الشافعيہ الکبریٰ)
  • ابن حجر عسقلانی (لسان الميزان)

مبارک اقوال و ارشادات

مؤرخ پر لازم ہے کہ وہ اپنے حبیب کی تعریف میں مبالغہ آرائی نہ کرے اور اپنے دشمن کی برائی میں حد سے نہ گزرے، بلکہ عدل و انصاف کا دامن تھامے رکھے۔

تاریخ کا مطالعہ انسان کو عقلِ نو بخشتا ہے اور اسے ایسا تجربہ کار بنا دیتا ہے گویا اس نے دنیا کی طویل ترین عمر پائی ہو۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

عز الدین علی بن اثیر جزری (صاحب الکامل فی التاریخ)

لقب و کنیت: ابوالحسن (کنیت)، عز الدین (لقب)، ابن الاثیر الجزری (عرفیت)، امام المؤرخین، الشیبانی
قبیلہ: بنو شیبان (عدنانی قبیلہ کی ایک مشہور شاخ)
سن پیدائش و وفات: 4 جمادی الاولیٰ 555ھ – 25 شعبان 630ھ / 13 مئی 1160ء – 26 مئی 1233ء
مقام تدفین: موصل، عراق
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com