Sahaba (صحابی)

عروہ بارقی رضی اللہ تعالی عنہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر اور لقب

عروہ بن الجعد البارقی رضی اللہ تعالی عنہ، رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک تھے۔ آپ کا تعلق یمن کے مشہور قبیلہ ازد کی ایک شاخ، قبیلہ بارق سے تھا۔ اس لیے آپ "بارقی” نسبت سے پہچانے جاتے ہیں۔ آپ کی کنیت ‘ابو محمد’ یا بعض روایات میں ‘ابو المضرب’ بھی ذکر کی جاتی ہے۔ آپ اپنی صداقت، امانت اور کاروباری معاملات میں غیر معمولی برکت کے لیے مشہور تھے، جس کا ذکر کتب حدیث میں صراحت سے ملتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تفصیلی معلومات دستیاب نہیں، جیسا کہ اکثر صحابہ کرام کے احوال میں دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، یہ بات یقینی ہے کہ آپ نے زمانہ نبوت میں اسلام قبول کیا اور ایمان کی روشنی سے اپنے دل کو منور کیا۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی اور دین اسلام کی تعلیمات کو براہ راست آپ ﷺ سے حاصل کیا۔ آپ کا شمار ان خوش نصیب افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی اور آپ کی تعلیمات کو اپنے عمل میں ڈھالا۔ آپ کا شمار سابقین اسلام میں ہوتا ہے اور آپ نے پوری یکسوئی سے اسلامی تعلیمات کو اپنایا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ تعالی عنہ کی سب سے نمایاں خصوصیت اور شہرت کا باعث ایک واقعہ ہے جو صحیح بخاری سمیت متعدد کتب حدیث میں موجود ہے۔ اس واقعے کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ایک دینار دے کر قربانی کا جانور خریدنے کے لیے بھیجا۔ حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس ایک دینار سے دو جانور خریدے، پھر ان میں سے ایک کو ایک دینار میں فروخت کر دیا۔ اس طرح وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک جانور اور ایک دینار واپس لائے۔

یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ بہت خوش ہوئے اور آپ ﷺ نے حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں یہ دعا فرمائی: "اللهم بارك له في صفقة يمينه” (اے اللہ! اس کے دائیں ہاتھ کے سودے میں برکت عطا فرما)۔ اس دعا کی برکت ایسی ہوئی کہ حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے کہ اس کے بعد اگر میں مٹی بھی خریدتا تو اس میں نفع ہوتا۔ آپ کا یہ واقعہ تجارت میں برکت، امانت داری اور ہوشیاری کی بہترین مثال بن گیا۔

آپ سے متعدد تابعین نے حدیثیں روایت کی ہیں، جن میں الشعبي اور ابو اسحاق السبيعي جیسے کبار محدثین شامل ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کوفہ میں گزارا اور وہاں دین کی خدمت انجام دی۔ آپ نے صرف ایک کامیاب تاجر کی حیثیت سے ہی خدمات انجام نہیں دیں بلکہ حدیث کے راوی کی حیثیت سے بھی آپ کا نام آتا ہے۔

میراث اور وصال

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زندگی سادگی، تقویٰ اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر مکمل عمل پیرا ہو کر گزاری۔ آپ کی میراث خاص طور پر آپ کے مشہور واقعے کے ذریعے زندہ ہے، جو اہل ایمان کے لیے حلال روزی کمانے، امانت اور برکت کی اہمیت پر ایک روشن دلیل ہے۔ یہ واقعہ آج بھی مسلمانوں کو تجارت میں دیانت داری اور نبی کریم ﷺ کی دعاؤں کی برکات پر یقین کی ترغیب دیتا ہے۔

آپ نے ایک با برکت اور پرہیزگار زندگی گزارنے کے بعد کوفہ میں وصال فرمایا۔ آپ کی وفات کے صحیح سن کا تعین تاریخ کی کتب میں واضح طور پر نہیں ملتا، تاہم آپ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے ہر لمحے کو دین اسلام کی خدمت اور نبی اکرم ﷺ کی سنت کی پیروی میں صرف کیا۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب قول النبی ﷺ ‘اللهم بارك لأمتي في بكورها’ اور کتاب البیوع۔
  • ابن حجر عسقلانی، الإصابة في تمييز الصحابة۔
  • امام ذہبی، سير أعلام النبلاء۔
  • ابن الأثير، أسد الغابة في معرفة الصحابة۔
  • ابن عبد البر، الاستيعاب في معرفة الأصحاب۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

عروہ بارقی رضی اللہ تعالی عنہ

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com