خاندانی پس منظر اور لقب
حضرت عبیدہ ابن حارث رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عبیدہ ابن حارث بن مطلب بن عبد مناف قُرشی تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو مطلب سے تھا، جو بنو ہاشم کے انتہائی قریب تھا۔ اس نسبت سے آپ نبی اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائیوں میں سے تھے اور آپ ﷺ سے عمر میں تقریباً دس سال بڑے تھے۔ آپ کی کنیت ابو محمد تھی اور آپ "السابقون الاولون” یعنی اسلام قبول کرنے والے اولین اور سرفہرست صحابہ کرام میں سے تھے۔ آپ اپنی بہادری، بردباری، اور دین اسلام سے گہری وابستگی کے لیے مشہور تھے۔ آپ ان جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کی ابتدائی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بعثتِ نبوی سے قبل مکہ کے روایتی معاشرتی ڈھانچے کے اندر گزارا، جہاں آپ کی شرافت اور دلیری معروف تھی۔ جب نبی اکرم ﷺ نے دینِ اسلام کی دعوت کا آغاز فرمایا، تو حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس دعوت کو قبول کیا اور ان چند خوش نصیب افراد میں شامل ہو گئے جنہوں نے اسلام کی روشنی کو سب سے پہلے پایا۔ آپ نے مکہ کے اس مشکل ترین دور میں، جب مسلمانوں کو بے پناہ تکالیف اور آزمائشوں کا سامنا تھا، کمال صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں، جب نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی، تو حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ اس بابرکت سفر میں شامل ہوئے اور مہاجرین کے زمرے میں آئے۔ مدینہ پہنچ کر، نبی اکرم ﷺ نے مواخات (بھائی چارے) کا نظام قائم کیا، اور حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مشہور صحابی حضرت بلال ابن رباح رضی اللہ تعالی عنہ کا مؤاخاتی بھائی بنایا۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت عبیدہ ابن حارث رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کی خدمت میں کئی نمایاں کارنامے انجام دیے، جن میں آپ کی عسکری قیادت اور غزوہ بدر میں آپ کی بے مثال شجاعت سرفہرست ہے۔
-
سریۂ رابغ (پہلی سریہ کی قیادت):
سن 2 ہجری میں، نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ساٹھ مہاجرین پر مشتمل ایک فوجی دستے کا امیر بنا کر قریش کے ایک قافلے کو روکنے کے لیے بھیجا۔ یہ دستہ ساحلِ سمندر پر مقام رابغ کے قریب قریش کے قافلے سے ملا۔ یہ اسلام میں پہلا موقع تھا جب مسلمانوں اور کفار کے درمیان تیر اندازی کی شکل میں عسکری جھڑپ ہوئی، اگرچہ کوئی شدید لڑائی نہیں ہوئی۔ اس سریہ کا ایک قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ اس دوران دو قریشی افراد، مقداد بن عمرو اور عتبہ بن غزوان، جو اسلام کی حقانیت سے متاثر تھے، مسلمانوں سے آملے۔ یہ سریہ اسلامی تاریخ میں پہلی عسکری سرگرمیوں میں سے تھی جس کی قیادت کا شرف حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہوا۔ -
غزوہ بدر میں غیر معمولی شجاعت:
غزوہ بدر، جو اسلام کی تاریخ کا پہلا فیصلہ کن معرکہ تھا، میں حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے غیر معمولی دلیری اور قربانی کا مظاہرہ کیا۔ جنگ کے آغاز میں، قریش کے تین نامور سرداروں، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، اور ولید بن عتبہ نے مسلمانوں کو مبارزت (ون ٹو ون فائٹ) کی دعوت دی۔ نبی اکرم ﷺ نے اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے حضرت عبیدہ ابن حارث رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ، اور حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کو میدان میں اتارا۔ حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مقابلہ قریش کے سردار عتبہ بن ربیعہ سے ہوا، جو عمر میں بھی خاصے بڑے اور انتہائی تجربہ کار جنگجو تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے پر شدید وار کیے۔ حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بے مثال دلیری سے لڑتے ہوئے عتبہ کو شدید زخمی کیا، لیکن خود بھی شدید زخمی ہوئے اور آپ کا پاؤں کٹ گیا یا شدید چوٹ آئی۔ حضرت حمزہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہم نے فوراً آگے بڑھ کر عتبہ کو قتل کیا اور زخمی حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لائے۔
میراث اور وصال
غزوہ بدر میں لگنے والے شدید زخموں کے باعث، حضرت عبیدہ ابن حارث رضی اللہ تعالی عنہ نے میدانِ جنگ میں بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ بعض روایات کے مطابق، آپ نے میدان بدر میں ہی شہادت پائی، جبکہ دیگر روایات کے مطابق، آپ غزوہ بدر سے واپسی کے سفر میں مقام صفراء کے قریب سن 2 ہجری میں ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے خود ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور انہیں شہید کا درجہ دیا۔ آپ ﷺ نے خود ان کے جنازے کی نماز پڑھائی اور انہیں سپردِ خاک کیا۔
حضرت عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ بدر کے ان عظیم شہداء میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے قربانی، بہادری اور سچائی کی لازوال مثال قائم کی۔ آپ کی شہادت اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کا نام ان "سابقون الاولون” میں ہمیشہ روشن رہے گا جنہوں نے اپنے خون سے اسلام کی آبیاری کی۔
مستند حوالہ جات
- سیرت ابن ہشام
- تاریخ طبری
- البدایہ والنہایہ از ابن کثیر
- اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر
- الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبد البر
- صحیح بخاری (غزوہ بدر کے آغاز میں مبارزت کے ضمن میں)
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
