Sahaba (صحابی)

عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم ﷺ کے سگے چچا تھے، جو آپ ﷺ کے والد محترم حضرت عبداللہ سے صرف تین سال بڑے تھے۔ آپ کی ولادت عام الفیل سے قریباً دو سال قبل ہوئی، اسی سال جب ابرہہ نے کعبہ پر حملہ کیا۔ آپ کا پورا نام عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف تھا۔ آپ کی والدہ کا نام نُتیلۃ بنت جناب بن کلاب تھا، جو قبیلہ نمر سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کی کنیت ابوالفضل تھی، جو آپ کے سب سے بڑے بیٹے فضل کے نام پر تھی۔

مکہ میں آپ کا مقام و مرتبہ بہت بلند تھا اور قریش کے سرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ اسلام سے قبل آپ کو سقایۃ (حاجیوں کو پانی پلانے) اور رفادۃ (حاجیوں کو کھانا کھلانے) کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جو بنو ہاشم کی روایتی ذمہ داریاں تھیں۔ آپ زمزم کے کنویں کے نگران بھی تھے اور حاجیوں کو زمزم کا پانی فراہم کرنے کا عظیم شرف حاصل تھا۔ آپ ظاہری وضع قطع اور رعب و دبدبے کے لحاظ سے قریش کے اہم ترین افراد میں سے تھے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم ﷺ سے اپنی پیدائش سے ہی قریب تھے، چچا ہونے کے ناطے آپ کو آپ ﷺ سے گہری محبت اور تعلق تھا۔ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ کے ہر معاملہ میں آپ کا تعاون شامل حال رہا۔ آپ ﷺ کو نبوت ملنے کے بعد، حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے دل ہی دل میں اسلام قبول کر لیا تھا، مگر ظاہری طور پر اسے خفیہ رکھا تاکہ مکہ میں مسلمانوں کی حمایت اور مدد جاری رکھ سکیں۔

جنگ بدر کے موقع پر آپ کو قریش نے جبراً اپنے ساتھ لا کھڑا کیا تھا۔ میدان جنگ میں جب آپ کو مسلمانوں نے قیدی بنا لیا تو آپ نے اپنے اسلام کا اظہار فرمایا، جو اس سے قبل خفیہ تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس بات کی تصدیق فرمائی اور آپ کو فدیہ لے کر رہا کیا گیا۔ فدیہ کے بعد آپ مکہ ہی میں قیام پذیر رہے، جہاں آپ خفیہ طور پر مسلمانوں کی مدد کرتے رہے اور نبی اکرم ﷺ کو قریش کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے رہے۔ آپ کی یہ حیثیت ایک گمنام مخبر کی سی تھی جو مکہ سے مسلمانوں کے لیے قیمتی اطلاعات فراہم کرتا رہا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد فتح مکہ سے کچھ عرصہ قبل آپ نے مدینہ کی جانب ہجرت فرمائی اور باقاعدہ طور پر نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کی صف میں شامل ہو گئے۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے قبولِ اسلام کے بعد متعدد اہم مواقع پر نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ کے اہم ترین کارناموں میں سے ایک جنگِ حنین میں ثابت قدمی کا مظاہرہ ہے۔ جب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد میدان جنگ سے پیچھے ہٹ گئی تھی، تو حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چند صحابہ میں شامل تھے جو ثابت قدم رہے۔ آپ کی آواز بہت گونج دار اور بلند تھی، چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے آپ کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کو واپس بلائیں اور انہیں جہاد پر ابھاریں۔ آپ نے بلند آواز سے پکارا: "اے انصار والو! اے بیعت رضوان والو!” جس پر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد واپس میدان جنگ میں پلٹ آئی اور فتح حاصل ہوئی۔

آپ نبی اکرم ﷺ کے قریبی مشیر تھے اور مختلف معاملات میں آپ کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔ آپ نے مسلمانوں کے لیے مالی تعاون بھی کیا اور ان کی ضروریات پوری کرنے میں پیش پیش رہے۔ نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد، آپ نے خلفائے راشدین، خصوصاً حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی مسلمانوں کی قیادت کو اپنی حکمت اور تجربے سے نوازا۔ آپ کا شمار ان بزرگ صحابہ کرام میں ہوتا تھا جن کا احترام تمام صحابہ کرتے تھے اور ان کے مشوروں پر عمل کرتے تھے۔

میراث اور وصال

حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے طویل عمر پائی اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام کی خدمت میں گزارا۔ آپ کے کئی بیٹے اور بیٹیاں تھیں، جن میں سب سے مشہور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، جو ‘حَبْرُ الاُمَّۃ’ اور ‘تَرْجُمَانُ القُرآن’ (امت کے عالم اور قرآن کے ترجمان) کے لقب سے مشہور ہوئے اور تفسیر قرآن کے عظیم ماہر بنے۔ ان کے علاوہ فضل، عبیداللہ، قثم، معبد اور عبدالرحمن بھی آپ کے فرزند تھے۔

آپ کا وصال حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں 32 ہجری میں 88 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات پر امت نے ایک عظیم ہستی اور نبی اکرم ﷺ کے قریبی عزیز کو کھو دیا، جن کی خدمات اسلام کے لیے ناقابل فراموش ہیں۔ آپ کی زندگی، نبی اکرم ﷺ سے آپ کی محبت، اسلام کے لیے آپ کی خدمات اور بعد از وصال بھی آپ کی حکمت و دانائی امت کے لیے مشعل راہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
  • طبری، تاریخ الرسل والملوک
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب
  • ابن الاثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ
  • الذہبی، سیر اعلام النبلاء

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com