{
"arabic_name”: "أبو الفتح ركن الدين بن صدر الدين عارف بن بهاء الدين زكريا السهروردي الملتاني”,
"kunya_titles”: "ابو الفتح، شاہ رکن عالم، رکن الدین، قطب الاقطاب، شیخ الاسلام، غوثِ زماں”,
"tribe”: "ہاشمی قریشی (سلسلہ عالیہ سہروردیہ)”,
"dates”: "9 رمضان 649 ھ – 16 رجب 735 ھ / 1251ء – 1335ء”,
"age”: "86 سال”,
"burial_place”: "ملتان، پنجاب، پاکستان (شاندار تاریخی مقبرہ شاہ رکن عالم)”,
"battles”: "تاتاریوں (منگولوں) کے فتنہ و حملوں کے دوران ملتان کے شہریوں کا دفاع، سفارتی مصالحت اور جہاد بالنفس”,
"hadith_count”: "سلسلہ سہروردیہ کے شیوخ کے واسطے سے کتبِ احادیث کی تدریس، روایت اور خلافتِ عالیہ کی منتقلی”,
"teachers_students”: "اساتذہ و مشائخ: شیخ صدر الدین عارف (والد گرامی)، شیخ الشیوخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی (دادا گرامی) | خلفاء و تلامذہ: مخدوم جہانیاں جہاں گشت (سید جلال الدین بخاری)، شیخ عثمان سیاح، شاہ صدر الدین نوری”,
"quotes”: "دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے اور اللہ رب العزت کی محبت تمام بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔nحقیقی درویش وہ ہے جو مخلوق کی خدمت کو خالق کی رضا کا ذریعہ سمجھے اور شاہ و گدا سے بے نیاز ہو۔nسخاوت یہ ہے کہ مانگے بغیر عطا کیا جائے، اور عفو و درگزر یہ ہے کہ بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود معاف کر دیا جائے۔”,
"html_content”: "
خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
حضرت شیخ رکن الدین ابو الفتح، جو برصغیر پاک و ہند میں ‘شاہ رکن عالم’ کے نامِ نامی سے معروف ہیں، سلسلہ عالیہ سہروردیہ کے عظیم ترین مشائخ، جلیل القدر مصلح اور عالمِ ربانی ہیں۔ آپ کی ولادتِ با سعادت 9 رمضان المبارک 649ھ (مطابق 1251ء) کو ملتان کے مشہور و معروف علمی اور روحانی قریشی خاندان میں ہوئی۔ آپ کے والدِ گرامی حضرت شیخ صدر الدین عارف اور دادا شیخ الاسلام غوثِ اعظم بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہم تھے، جو اپنے وقت کے قطب الاقطاب اور عظیم ترین مبلغِ اسلام تھے۔ آپ نے بچپن ہی سے انتہائی پاکیزہ اور علمی ماحول میں تربیت پائی اور نہایت کم عمری میں ہی زہد و تقویٰ اور علم و ولایت کے آثار آپ کے چہرہ مبارک پر نمایاں تھے۔
علمی سفر اور تصوف میں مقام
شاہ رکن عالم نے ظاہری و باطنی علوم کی اعلیٰ ترین تعلیم اپنے والدِ محترم اور اپنے دور کے جید علماء سے حاصل کی۔ آپ نے قرآن پاک، حدیث، فقہ، تفسیر، اور تصوف کے اسرار و رموز میں کمال حاصل کیا۔ اپنے دادا حضرت بہاؤ الدین زکریا کے وصال کے بعد، آپ نے اپنے والد کی صحبت میں سلوک کی منازل طے کیں اور ان کے وصال کے بعد سہروردیہ سلسلے کی مسندِ رشد و ہدایت کو سنبھالا۔ آپ کا حلقہ درس و تصوف علم و معرفت کا مرکز تھا جہاں شام و عراق، وسطی ایشیا اور ہند سے تشنگانِ علم و عرفان اپنی علمی پیاس بجھانے آتے تھے۔ آپ شریعتِ مطہرہ کی پاسداری میں انتہائی سخت تھے اور صوفیانہ افکار کو شریعت کے تابع رکھنے کی تلقین فرماتے تھے۔
اشاعتِ اسلام، اصلاحِ معاشرہ اور کرامات
شاہ رکن عالم کا دور سیاسی و سماجی لحاظ سے نہایت پر آشوب تھا۔ تاتاریوں (منگولوں) کے پے در پے حملوں نے خطے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ ایسے کٹھن حالات میں آپ نے ملتان کے مظلوم عوام کی نہ صرف اخلاقی اور روحانی دستگیری کی بلکہ مغل حملہ آوروں اور سلاطینِ دہلی کے درمیان سفارت کاری کے ذریعے جنگوں کو ٹال کر ہزاروں انسانوں کی جانیں بچائیں۔ آپ کی مساعیِ جمیلہ کے نتیجے میں برصغیر کے طول و عرض، بالخصوص پنجاب اور سندھ میں لاکھوں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا۔ سلاطینِ وقت، بشمول غیاث الدین تغلق اور محمد بن تغلق، آپ کے تقویٰ اور بزرگی کے قائل تھے اور ریاستی امور میں آپ کے ارشادات کی روشنی میں رہنمائی حاصل کرتے تھے۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
عظیم روحانی خدمات سرانجام دینے کے بعد، سلسلہ سہروردیہ کا یہ آفتابِ جہاں تاب 16 رجب المرجب 735ھ (مطابق 1335ء) کو ملتان میں دورانِ نمازِ عشاء سجدے کی حالت میں خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ آپ کو پہلے آپ کے دادا کے روضہ مبارک کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا، لیکن بعد میں سلطان غیاث الدین تغلق کی تعمیر کردہ پرشکوہ عمارت میں منتقل کیا گیا، جسے ‘مزارِ شاہ رکن عالم’ کہا جاتا ہے۔ یہ مقبرہ اسلامی فنِ تعمیر کا ایک نادر شاہکار اور ایشیا کے خوبصورت ترین مزارات میں شمار ہوتا ہے، جہاں آج بھی سالانہ عرس کے موقع پر لاکھوں عقیدت مند فیوض و برکات سمیٹتے ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- سید محمد بن مبارک کرمانی (سیر الاولیاء)
- شیخ عبد الحق محدث دہلوی (اخبار الاخیار فی اسرار الابرار)
- ابو الفضل (آئینِ اکبری)
- ملا عبد القادر بدایونی (منتخب التواریخ)
- محمد قاسم ہندو شاہ فرشتہ (تاریخِ فرشتہ)
"
”
}
