صوفیائے کرام و اولیائے عظام

شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی

« الشيخ بهاء الدين زكريا بن محمد بن علي بن جعفر بن أبي بكر بن حوار القرشي الأسدي الملتاني »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

شیخ الاسلام مخدوم بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت شبِ جمعہ 27 رمضان المبارک 577 ہجری (بمطابق 1182ء) کو ملتان کے قریب کوٹ کروڑ (لیہ) میں ہوئی۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو اسد سے تھا، اور آپ کا خاندان ‘ہباری’ کہلاتا تھا جو کہ سندھ اور ملتان کے عرب حکمران خاندانوں میں سے ایک تھا۔ آپ کے والد شیخ وجیہ الدین محمد نہایت پرہیزگار انسان تھے، جن کا وصال آپ کے بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ آپ نے نہایت کم عمری میں قرآن مجید حفظ کیا اور ابتدائی اسلامی علوم اپنے خاندانی اساتذہ سے حاصل کیے۔

علمی اسفار، اکتسابِ علم اور بیعت و خلافت

ابتدائی تعلیم کے بعد آپ سچے علم کی پیاس بجھانے کے لیے بلادِ اسلامیہ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ آپ نے خراسان، بخارا، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا سفر کیا۔ بخارا میں آپ نے بلند پایہ فقہاء سے کسبِ فیض کیا جہاں آپ کو ‘زکریا عالم’ کا لقب ملا۔ حجازِ مقدس میں آپ نے محدثِ مدینہ شیخ کمال الدین یمنی سے علمِ حدیث حاصل کیا اور پانچ سال تک وہاں مقیم رہے۔ اس کے بعد آپ بغداد پہنچے جہاں آپ نے وقت کے عظیم ترین صوفی اور سلسلہ سہروردیہ کے بانی شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔ شیخ نے آپ کی غیر معمولی روحانی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے محض 17 دنوں کی تربیت کے بعد خلافت و اجازت سے نوازا اور ملتان واپس جا کر سلسلہ سہروردیہ کی ترویج کا حکم دیا۔

سلسلہ سہروردیہ کی ترویج اور ملتان میں خانقاہی نظام

ملتان واپسی پر حضرت بہاؤ الدین زکریا نے برصغیر پاک و ہند میں سلسلہ سہروردیہ کا پہلا باقاعدہ مرکز اور خانقاہ قائم کی۔ آپ نے خانقاہی نظام کو منظم کیا اور اسے محض عبادت گاہ کے بجائے ایک بڑی علمی و تربیتی یونیورسٹی بنا دیا۔ اس خانقاہ میں ہزاروں طلبہ کے قیام و طعام، علمی مباحثوں اور روحانی تربیت کا انتظام تھا۔ آپ کی مساعیِ جمیلہ سے ملتان وسطی ایشیا اور ہندوستان کے درمیان علم و عرفان کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ آپ نے تاجروں اور مبلغین کے وفود تیار کر کے دور دراز علاقوں، بالخصوص بنگال اور انڈونیشیا تک بھیجے، جن کی وجہ سے لاکھوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب اور سیاسی اثر و رسوخ

حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی نہ صرف ایک صوفی اور عالم تھے بلکہ سماجی و سیاسی میدان میں بھی انتہائی بااثر شخصیت تھے۔ دہلی کے سلطان شمس الدین التمش آپ کے بڑے قدردان تھے۔ جب ناصر الدین قباچہ نے ملتان پر تسلط قائم کیا تو آپ نے عدل و انصاف کی حمایت کرتے ہوئے التمش کی مدد کی۔ منگولوں کے ہولناک حملوں کے دوران جب ملتان تباہی کے دہانے پر تھا، تو آپ نے ذاتی طور پر مداخلت کر کے اور خطیر رقم ادا کر کے شہر کو قتل و غارت گری سے بچایا۔ آپ بے پناہ سخاوت کے مالک تھے اور غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت آپ کا روزمرہ کا معمول تھا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

آپ کا وصالِ باکمال 21 صفر المظفر 661 ہجری (بمطابق 21 دسمبر 1262ء) کو ملتان میں درس و تدریس کے دوران ہوا۔ روایت ہے کہ وصال کے وقت ایک نورانی خط آپ کو موصول ہوا جس کو پڑھنے کے فوراً بعد آپ واصلِ بحق ہو گئے۔ آپ کا شاندار مزار ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں واقع ہے، جو مسلم طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے اور صدیوں سے زائرین کے لیے منبعِ فیض بنا ہوا ہے۔ آپ کے بعد آپ کی علمی اور روحانی میراث کو آپ کے فرزندِ ارجمند شیخ صدر الدین عارف اور پوتے شیخ رکن الدین ابو الفتح (شاہ رکنِ عالم) نے معراجِ کمال تک پہنچایا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • شیخ عبدالحق محدث دہلوی (اخبار الاخیار فی اسرار الابرار)
  • حامد بن فضل اللہ جمالی (سیر العارفین)
  • دارا شکوہ قادری (سفینۃ الاولیاء)
  • محمد قاسم ہندو شاہ فرشتہ (تاریخِ فرشتہ)
  • ابو الفضل (آئینِ اکبری)

مبارک اقوال و ارشادات

حقیقی صوفی وہ ہے جو اپنے نفس کو پاک کرے اور خلقِ خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائے۔

علم کے بغیر تصوف گمراہی کا راستہ ہے، شریعت کی پابندی طریقت کا پہلا قدم ہے۔

دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے، دل کو یادِ الہیٰ سے آباد رکھنا ہی اصل زندگی ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی

لقب و کنیت: ابو محمد (کنیت) | بہاؤ الحق، غوث العالمین، شیخ الاسلام، قطب الاقطاب (القاب)
قبیلہ: قریش (بنو اسد سے تعلق رکھنے والا ہباری خاندان)
سن پیدائش و وفات: 577 ھ – 661 ھ / 1182ء – 1262ء
مقام تدفین: قلعہ کہنہ قاسم باغ، ملتان، پنجاب، پاکستان
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com