خاندانی پس منظر اور لقب
اس جلیل القدر صحابی کا اصل نام صالح (Saleh) تھا، لیکن وہ شقران (Shaqran) کے لقب سے مشہور ہوئے، یہاں تک کہ ان کا اصل نام بھی اس لقب میں ضم ہو گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام (مولیٰ) ہونے کا شرف حاصل تھا۔ آپ کی کنیت ابو عبدالرحمن یا ابو حفص ذکر کی جاتی ہے۔ بعض روایات کے مطابق آپ بدر کے قیدیوں میں سے تھے جنہیں بعد میں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور پھر آپ ﷺ نے انہیں آزاد فرما دیا۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ بنی حارث بن فہر سے تعلق رکھنے والے غلاموں میں سے تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے آزاد کیا۔ اس طرح آپ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت کا خاص موقع ملا اور آپ کا شمار آپ کے خاص موالی میں سے ہونے لگا۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت شقران رضی اللہ عنہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، لیکن یہ معلوم ہے کہ آپ غلامی کی حالت میں تھے جب آپ اسلام سے مشرف ہوئے۔ آپ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت کے لیے منتخب کیا گیا، جس سے آپ کو دین اسلام کی تعلیمات کو براہ راست رسول اللہ ﷺ سے سیکھنے کا موقع ملا۔ آپ نے ایمان لانے کے بعد اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور خدمت میں گزاری۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ نے آپ کی تربیت کی اور آپ نے ہر معاملے میں وفاداری اور اخلاص کا مظاہرہ کیا۔ آپ نبی کریم ﷺ کے قریبی خدام میں سے تھے جو آپ کے سفر و حضر میں آپ کے ساتھ رہتے تھے۔
نمایاں کارنامے اور خدمات
حضرت شقران رضی اللہ عنہ کے نمایاں کارناموں میں سب سے اہم رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی تدفین کا مبارک عمل ہے۔ آپ ان چند صحابہ کرام میں شامل تھے جنہیں نبی اکرم ﷺ کے جسد مبارک کو قبر میں اتارنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آپ نے سیدنا علی بن ابی طالب، حضرت عباس، حضرت فضل بن عباس، حضرت قثم بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کے ہمراہ نبی کریم ﷺ کے جسد اطہر کو قبر مبارک میں اتارا۔ یہ بھی روایت کیا جاتا ہے کہ آپ نے ایک سرخ چادر (قطیفہ حمراء) بچھائی تھی تاکہ نبی اکرم ﷺ کا جسد مبارک براہ راست زمین پر نہ آئے۔ یہ خدمت ان کی رسول اللہ ﷺ سے غیر معمولی محبت اور عقیدت کی دلیل ہے۔
اس کے علاوہ، آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے کچھ غزوات میں مال غنیمت کی نگرانی اور تقسیم کی ذمہ داری بھی سونپی گئی، جو آپ کی امانت داری اور ذمہ داری کی اہلیت کو ظاہر کرتا ہے۔ غزوۂ خیبر کے بعد مال غنیمت کی تقسیم میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ آپ نبی کریم ﷺ کے سفر و حضر میں آپ کے ساتھ رہتے اور مختلف خدمات انجام دیتے تھے۔ آپ کا شمار ان قریبی خدام میں ہوتا تھا جو ہر وقت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے۔
میراث اور وصال
حضرت شقران صالح رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی ایک طویل عرصہ حیات رہے اور آپ ﷺ کی محبت، تعلیمات اور سیرت کا عملی نمونہ پیش کیا۔ آپ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک زندہ رہے اور ان کے ساتھ بھی مختلف امور میں شامل رہے۔ بعض روایات کے مطابق، آپ نے جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے شرکت کی اور ان کے حامیوں میں سے تھے۔
آپ کا وصال حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں یا اس کے کچھ عرصے بعد ہوا۔ ان کی زندگی نبی کریم ﷺ کی خدمت اور دین اسلام سے گہری وابستگی کا ایک خوبصورت باب ہے۔ اگرچہ آپ سے براہ راست زیادہ احادیث مروی نہیں ہیں، لیکن ان کے افعال اور نبی کریم ﷺ کی خدمت کے حوالے سے ان کا ذکر کتب سیرت و تاریخ میں نمایاں طور پر موجود ہے۔ آپ نے اپنی سادگی، خدمت گزاری اور نبی کریم ﷺ سے گہری محبت کا لازوال نقش چھوڑا۔
مستند حوالہ جات
- ابن سعد، محمد بن سعد. الطبقات الکبریٰ. بیروت: دار صادر، ج 4، ص 205-206.
- ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی. الإصابة في تمييز الصحابة. بیروت: دار الکتب العلمية، ط 1، 1415ھ، ج 3، ص 288-289.
- ابن کثیر، اسماعیل بن عمر. البداية والنهاية. بیروت: دار الفکر، 1407ھ/1986م، ج 5، ص 267. (ذکر تدفین النبی ﷺ)
- طبری، محمد بن جریر. تاريخ الرسل والملوك. بیروت: دار التراث، ط 2، 1387ھ/1967م، ج 3، ص 210. (ذکر تدفین النبی ﷺ)
- ذهبی، شمس الدین. سير أعلام النبلاء. بیروت: مؤسسة الرسالة، ط 3، 1405ھ/1985م، ج 3، ص 302-303.
