صوفیائے کرام و اولیائے عظام

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

« أبو الفياض قطب الدين أحمد بن عبد الرحيم بن وجيه الدين العمري الدهلوي (المعروف بشاه ولي الله الدهلوي) »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی ولادتِ با سعادت 4 شوال 1114ھ بمطابق 21 فروری 1703ء کو عہدِ اورنگزیب عالمگیر میں قصبہ پھلت (اتر پردیش، ہندوستان) میں ہوئی۔ آپ کا اصل نام احمد تھا، جبکہ تاریخی نام ‘عظیم الدین’ اور لقب ‘قطب الدین’ تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب والد کی طرف سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اور والدہ کی طرف سے سیدنا امام موسیٰ کاظم رحمہ اللہ سے ملتا ہے۔ آپ کے والدِ گرامی شاہ عبد الرحیم دہلوی اپنے وقت کے جید عالمِ دین، صوفی باصفا اور ‘فتاویٰ عالمگیری’ کی تدوین کرنے والی کمیٹی کے ممتاز رکن تھے۔ شاہ ولی اللہ نے انتہائی غیر معمولی ذہانت کے باعث محض سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا اور پندرہ سال کی عمر میں اپنے والدِ محترم سے علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تمام کتب پڑھ کر فراغت حاصل کی اور درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔

سفرِ حرمین اور تحصیلِ علمِ حدیث

اپنے والد کی وفات کے بعد بارہ سال تک آپ دہلی میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ 1143ھ (1730ء) میں آپ نے حجازِ مقدس کا سفر اختیار کیا۔ حرمین شریفین کے اس دو سالہ قیام کے دوران آپ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے نامور محدثین سے کتبِ حدیث کی اسناد حاصل کیں۔ ان اساتذہ میں سب سے ممتاز شخصیت مدینہ منورہ کے مایہ ناز محدث شیخ ابو طاہر محمد بن ابراہیم مدنی کی تھی جن کی صحبت میں رہ کر آپ نے صحاحِ ستہ اور موطا امام مالک کا گہرا مطالعہ کیا اور سندِ حدیث حاصل کی۔ اسی سفر کے دوران آپ کو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے باطنی طور پر ‘تجدیدِ دین’ کے منصب پر فائز کیے جانے کی بشارتیں ملیں، جنہیں آپ نے اپنی کتاب ‘فیوضِ حرمین’ میں قلمبند کیا ہے۔

نمایاں کارنامے، تجدیدی خدمات اور علمی ورثہ

شاہ ولی اللہ دہلوی کی تجدیدی خدمات اس قدر وسیع ہیں کہ آپ کو برصغیر پاک و ہند کا سب سے بڑا مجدد مانا جاتا ہے۔ آپ کی مایہ ناز خدمات درج ذیل شعبوں پر محیط ہیں:

  • فہمِ قرآن کی عام اشاعت: آپ نے عوام تک قرآن کا پیغام پہنچانے کے لیے اس وقت کی مروجہ علمی زبان میں قرآن پاک کا مایہ ناز فارسی ترجمہ بعنوان ‘فتح الرحمن فی ترجمۃ القرآن’ تحریر کیا۔ اس جرات مندانہ اقدام کی اس وقت کے متعصب علما نے مخالفت کی، لیکن آگے چل کر یہی ترجمہ برصغیر میں دیگر تراجم کی بنیاد بنا۔
  • حجۃ اللہ البالغہ کی تصنیف: یہ آپ کی سب سے مشہور اور معرکہ آرا تصنیف ہے جس میں آپ نے شریعتِ اسلامی کے احکام، عبادات، اخلاقیات اور اسلامی سیاسیات کے اسرار و رموز کو عقلی، فلسفیانہ اور سائنسی انداز میں پیش کیا، جو اجتہاد کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے۔
  • فقہ اور حدیث میں تطبیق: آپ نے فقہی جمود کو توڑنے کے لیے حدیث اور فقہ کے درمیان تطبیق کی راہ دکھائی۔ آپ نے واضح کیا کہ اندھی تقلید کے بجائے سنتِ نبوی ﷺ کو فوقیت دی جانی چاہیے۔
  • سیاسی و معاشرتی انقلاب: مغلیہ سلطنت کی زوال پذیری اور مرہٹوں کے بڑھتے ہوئے مظالم کو دیکھ کر آپ نے افغان حکمران احمد شاہ ابدالی کو خطوط لکھ کر ہندوستان آنے پر آمادہ کیا، جس کے نتیجے میں 1761ء میں پانی پت کی تیسری جنگ ہوئی اور مسلم اقتدار کو نئی زندگی ملی۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

دینِ اسلام کی فکری، علمی اور سیاسی آبیاری کرنے کے بعد برصغیر کا یہ بطلِ جلیل 29 محرم الحرام 1176ھ بمطابق 20 اگست 1762ء کو دہلی میں وفات پا گیا۔ آپ کو دہلی کے تاریخی قبرستان ‘مہندیاں’ میں اپنے والدِ محترم کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آپ کے بعد آپ کے چار نامور بیٹوں—شاہ عبد العزیز، شاہ رفیع الدین، شاہ عبد القادر اور شاہ عبد الغنی—نے آپ کے علمی مشن کو آگے بڑھایا، جن کی بدولت ہندوستان میں حدیثِ نبوی کی اشاعت عام ہوئی اور اردو زبان میں قرآن پاک کے پہلے تراجم منظرِ عام پر آئے۔

مستند تاریخی و تذکراتی حوالہ جات

  • شاہ ولی اللہ دہلوی (الانفاس القدسیہ اور فیوض الحرمین)
  • امام ابو الحسن علی ندوی (تاریخ دعوت و عزیمت، جلد پنجم)
  • علامہ سید سلیمان ندوی (سیرت سید احمد شہید)
  • ڈاکٹر عبید اللہ فرہاد (شاہ ولی اللہ اور ان کے افکار)
  • شاہ عبد العزیز دہلوی (ملفوظاتِ شاہ عبد العزیز)

مبارک اقوال و ارشادات

1. اسلام کی اصل روح عدل اور توازن میں پنہاں ہے، جب معاشرے میں معاشی اور سماجی عدل اٹھ جاتا ہے تو وہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔n2. قرآن مجید کا ترجمہ اور فہمِ دین ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ جمود و تقلیدِ جامد سے نکل کر شریعت کے اسرار و رموز تک رسائی پا سکے۔n3. ائمہ اربعہ کے مسالک اور فقہ و حدیث کے مابین تطبیق پیدا کرنا امتِ مسلمہ کی علمی بقا اور اتحاد کا ضامن ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

لقب و کنیت: شاہ ولی اللہ، محدث دہلوی، مجددِ ہند، امام الہند، قطب الدین، ابو الفیاض
قبیلہ: فاروقی، عمری (نسبتِ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ)
سن پیدائش و وفات: 4 شوال 1114 ھ – 29 محرم 1176 ھ / 21 فروری 1703ء – 20 اگست 1762ء
مقام تدفین: قبرستان مہندیاں، دہلی، ہندوستان
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com