انبیائے کرام و رسل علیہم السلام

سیدنا حضرت ہارون علیہ السلام

« هارون بن عمران بن قاهات بن لاوي بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم عليهم السلام »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سیدنا حضرت ہارون علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بڑے بھائی ہیں۔ آپ کا سلسلۂ نسب لاوی بن یعقوب علیہ السلام سے ملتا ہے۔ آپ کی ولادت مصر میں اس دور میں ہوئی جب فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کا عام حکم جاری نہیں کیا تھا، کیونکہ فرعون ایک سال بچے قتل کرتا تھا اور ایک سال چھوڑ دیتا تھا؛ آپ کی ولادت اسی امن والے سال میں ہوئی، جبکہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ولادت قتل والے سال میں ہوئی۔ آپ قد آور، گورے رنگ، فصیح اللسان اور انتہائی نرم خو شخصیت کے مالک تھے۔ اوائل عمری ہی سے بنی اسرائیل میں آپ کو بے حد عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور آپ اپنی قوم کے ہر دلعزیز رہنما تھے۔

نبوت اور دعوتِ فرعون

جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو وادیٔ مقدس طویٰ میں نبوت سے سرفراز فرمایا اور فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا، تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی زبان کی لکنت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور مددگار بنایا جائے کیونکہ وہ انتہائی فصیح اللسان اور دلیری سے بات کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی منصبِ نبوت پر سرفراز فرمایا۔ دونوں بھائیوں نے مل کر فرعون کے دربار میں جا کر توحید کی دعوت دی اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اس کٹھن تبلیغی سفر میں حضرت ہارون علیہ السلام اپنے بھائی کے معتمدِ خاص اور مخلص ترین مشیر رہے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت ہارون علیہ السلام کا سب سے بڑا کارنامہ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلانے کے سفر (خروجِ مصر) میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا ساتھ دینا ہے۔ جب موسیٰ علیہ السلام چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر تورات حاصل کرنے تشریف لے گئے، تو انہوں نے بنی اسرائیل کی قیادت حضرت ہارون علیہ السلام کے سپرد کی۔ اس دوران سامری نے بنی اسرائیل کو بہکا کر سونے کا بچھڑا بنایا اور اس کی پوجا شروع کروا دی۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے کمالِ حکمت، صبر اور استقامت کے ساتھ اس فتنہ عظیم کا مقابلہ کیا اور قوم کو شرک سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، اور خانہ جنگی سے بچنے کے لیے دانشمندانہ تدبیر اختیار کی۔ قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ میں آپ کے فضائل بکثرت مذکور ہیں۔ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ‘تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں’ (حدیثِ منزلت)۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات میدانِ تیہ میں قیام کے دوران، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی وفات سے کچھ عرصہ قبل ہوئی۔ اسلامی روایات کے مطابق، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو دونوں بھائی ایک پہاڑ کی طرف گئے جہاں ایک غار میں انتہائی خوبصورت بستر بچھا ہوا تھا، وہیں اللہ کے حکم سے ملک الموت نے ان کی روح قبض کی۔ بنی اسرائیل کو جب ان کی وفات کا علم ہوا تو وہ شدید غمزدہ ہوئے کیونکہ وہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نرم مزاجی کی وجہ سے ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ کا مدفن اردن کے تاریخی شہر پیٹرا کے قریب ایک پہاڑی پر ہے جسے ‘جبل ہارون’ کہا جاتا ہے، جہاں آج بھی ایک گنبد نما مسجد اور مزار موجود ہے جو زائرین کی عقیدت کا مرکز ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن کثیر (البداية والنهاية – قصص الانبياء)
  • ابن جریر طبری (تاریخ الامم والملوک)
  • امام ثعلبی (عرائس المجالس فی قصص الانبیاء)
  • ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ)

مبارک اقوال و ارشادات

قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي (قرآن - سورہ طہٰ)

اے بنی اسرائیل! یقیناً تمہارا رب رحمن ہے، پس تم میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو۔ (قرآن - سورہ طہٰ)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سیدنا حضرت ہارون علیہ السلام

لقب و کنیت: وزيرِ موسیٰ، فصیح اللسان، نبی اللہ، امین بنی اسرائیل
قبیلہ: بنی اسرائیل (سبطِ لاوی / قبیلہ لاوی)
سن پیدائش و وفات: تقریباً 13ویں صدی قبل مسیح (مصر و سینا)
مقام تدفین: جبل ہارون (کوہِ ہور)، پیٹرا، اردن (مستند روایات کے مطابق)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com