اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم

سیدنا حضرت نفس زکیہ محمد بن عبد اللہ رحمہ اللہ

« أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن الحسن بن الحسن بن علي بن أبي طالب الهاشمي القرشي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سیدنا محمد بن عبد اللہ الکامل بن الحسن المثنى بن الحسن بن علی بن ابی طالب، جنہیں تاریخ میں ‘النفس الزکیہ’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، سن 100 ہجری میں مدینہ منورہ کے ایک نہایت ہی معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نسبی تعلق براہ راست نبی کریم ﷺ کے بڑے نواسے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ہے۔ آپ کے والد عبد اللہ بن الحسن (المعروف بہ عبد اللہ الکامل) اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور مدینہ منورہ کے سادات کے سربراہ تھے۔ آپ اپنی پاکیزہ سیرت، زہد و تقویٰ اور بہترین اخلاق کی بنا پر بچپن ہی سے لوگوں میں ‘النفس الزکیہ’ (پاکیزہ روح) کے لقب سے مشہور ہو گئے۔

علمی مقام اور صفاتِ حمیدہ

حضرت نفس زکیہ رحمہ اللہ نے علم کی آغوش میں پرورش پائی۔ انہوں نے اپنے والد محترم، نافع مولیٰ ابن عمر اور دیگر کبار تابعین سے علمِ حدیث اور فقہ حاصل کیا۔ آپ کا شمار مدینہ منورہ کے ممتاز علماء اور خطباء میں ہوتا تھا۔ معاصرین آپ کی علمیت، شجاعت اور کثرتِ عبادت کے معترف تھے۔ سلف صالحین کے نزدیک آپ کی شخصیت اتنی پرکشش تھی کہ اہل مدینہ آپ کو اپنے دور کی سب سے پسندیدہ شخصیت مانتے تھے اور ان میں یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ شاید یہی وہ ‘مہدی’ ہیں جن کا تذکرہ احادیث میں ملتا ہے، اگرچہ وہ ایک الگ شخصیت ہیں۔

سیاسی جدوجہد اور بنو عباس کے خلاف خروج

بنو امیہ کے زوال کے وقت جب بنو ہاشم نے عباسیوں کے ساتھ مل کر تحریک چلائی، تو ساداتِ علویین کو یہ امید تھی کہ خلافت آلِ رسول ﷺ میں سے سب سے افضل شخصیت کو ملے گی۔ مدینہ منورہ میں عباسی اور علوی رہنماؤں نے متفقہ طور پر سیدنا نفس زکیہ کے ہاتھ پر بیعت بھی کر لی تھی، جن میں ابو جعفر منصور (بعد کا عباسی خلیفہ) بھی شامل تھا۔ لیکن جب عباسیوں نے اقتدار حاصل کر لیا، تو انہوں نے خلافت پر خود قبضہ کر لیا اور علویوں کو دیوار سے لگا دیا۔ اس تاریخی حق تلفی اور عباسی خلفاء کے ظلم و ستم کے خلاف بالآخر سیدنا نفس زکیہ نے سن 145 ہجری میں مدینہ منورہ میں خلافت کا دعویٰ کیا اور خروج کا اعلان کیا۔ مدینہ کے کبار علماء جن میں امام مالک بن انس رحمہ اللہ بھی شامل تھے، نے آپ کی حمایت کی اور فتویٰ دیا کہ سیدنا نفس زکیہ کی بیعت ہی اصل بیعت ہے۔

شہادت اور تاریخی اثرات

خلیفہ ابو جعفر منصور نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے اپنے قریبی رشتہ دار عیسیٰ بن موسیٰ کی قیادت میں ایک بہت بڑا لشکر مدینہ منورہ روانہ کیا۔ سیدنا نفس زکیہ نے مدینہ منورہ کی تاریخی حدود میں رہ کر مدافعت کا فیصلہ کیا اور رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی پیروی میں مدینہ کے گرد خندق کھدوائی۔ فریقین کے درمیان مدینہ کے باہر ‘احجار الزیت’ کے مقام پر شدید جنگ ہوئی۔ اگرچہ سادات اور ان کے متبعین نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا، لیکن عباسی فوج کی عددی برتری اور فوجی طاقت کے سامنے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 14 رمضان المبارک 145 ہجری کو سیدنا نفس زکیہ نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ شہادت کے بعد آپ کو مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابو الفرج الاصفہانی (مقاتل الطالبيين)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)
  • ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ)
  • ابن حزم اندلسی (جمهرة أنساب العرب)

مبارک اقوال و ارشادات

میں صرف اللہ اور اس کے دین کی غیرت، اور حق کی نصرت کے لیے کھڑا ہوا ہوں۔

خدا کی قسم! اگر میرے ساتھ صرف دس آدمی بھی ثابت قدم رہیں، تب بھی میں اس ظالم حکومت کے خلاف حق کی جنگ لڑوں گا۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سیدنا حضرت نفس زکیہ محمد بن عبد اللہ رحمہ اللہ

لقب و کنیت: ابو عبد الله، النفس الزکیہ، المہدی الکامل
قبیلہ: بنو ہاشم (ساداتِ حسنی، قریش)
سن پیدائش و وفات: 100 ھ – 145 ھ / 718ء – 762ء
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com