خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سیدنا حضرت لوط علیہ السلام اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ آپ کا نسب نامہ لوط بن هاران بن تارح ہے۔ هاران، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھائی تھے جن کا انتقال عراق کے تاریخی شہر ‘اور’ (Ur) میں ہی ہو گیا تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی پرورش آپ کے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیرِ سرپرستی ہوئی۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے مظالم اور عراق کی سرزمین سے ہجرت فرمائی، تو حضرت لوط علیہ السلام بھی ان کے ساتھ ہجرت کر کے شام اور پھر مصر تشریف لے گئے۔ قرآن مجید میں اس ہجرت کا ذکر یوں ملتا ہے: ‘فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي’ (پس لوط ان پر ایمان لائے اور انہوں نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں)۔
دعوت و تبلیغ اور سدوم کی طرف روانگی
حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالی نے اس وقت نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا جب وہ شام (کنعان) کے علاقے میں موجود تھے۔ اللہ تعالی نے آپ کو اردن کے علاقے ‘سدوم’ (Sodom) اور اس کے گرد و نواح کی بستیوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ یہ علاقہ انتہائی سرسبز و شاداب تھا، لیکن وہاں کے رہنے والے اخلاقی انحطاط اور شرک و کفر کی آخری حدوں کو چھو رہے تھے۔ انہوں نے ایک ایسی بدترین اور گھناؤنی برائی (لواطت / ہم جنس پرستی) کو رواج دیا تھا جو ان سے پہلے دنیا کی کسی قوم نے نہیں کی تھی۔ حضرت لوط علیہ السلام نے انتہائی استقامت، صبر اور دردمندی کے ساتھ انہیں توحید کی دعوت دی، زنا اور بدکاری سے روکا، اور مہمان نوازی و اخلاقی اقدار کی پاسداری کی تلقین کی، لیکن قوم کے سرداروں نے آپ کا تمسخر اڑایا اور آپ کو بستی سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں۔
نمایاں واقعات، آزمائش اور نزولِ عذاب
سیدنا لوط علیہ السلام کی زندگی کا سب سے بڑا اور ہولناک مرحلہ وہ تھا جب اللہ تعالی نے اس سرکش قوم پر عذاب کا فیصلہ فرمایا۔ عذاب کے فرشتے (سیدنا جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام) خوبصورت انسانی شکل میں مہمان بن کر حضرت لوط علیہ السلام کے گھر آئے۔ بستی کے اوباشوں نے مہمانوں کو دیکھا تو بدنیتی سے حضرت لوط کے گھر کا گھیراؤ کر لیا۔ حضرت لوط علیہ السلام اپنی بے بسی پر انتہائی رنجیدہ ہوئے، جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔ تب فرشتوں نے ان پر ظاہر کیا کہ وہ انسان نہیں بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور قوم ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ فرشتے کی ایک پھونک سے ان اوباشوں کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔ فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ رات کے آخری حصے میں اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل جائیں اور کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی، جو کافروں کی پشت پناہ تھی، پیچھے ہی رہ گئی۔ صبح ہوتے ہی ایک خوفناک چنگھاڑ نے قوم کو جکڑ لیا، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے پوری بستی کو زمین سے اکھاڑ کر آسمان تک بلند کیا اور پھر اسے الٹ کر زمین پر پٹخ دیا، اور ان پر نشان زدہ پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش برسائی گئی جس سے وہ نشانِ عبرت بن گئے۔
وفات مبارک اور تاریخی میراث
عذاب کے بعد حضرت لوط علیہ السلام اپنے ایمان دار ساتھیوں اور بیٹیوں کے ساتھ فلسطین کے علاقے الخلیل (ہیبرون) کی طرف واپس تشریف لائے اور اپنے چچا سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس قیام پذیر ہوئے۔ آپ نے بقیہ زندگی دعوت و حق کی اشاعت میں گزاری۔ تاریخی روایات کے مطابق آپ کا وصال الخلیل کے قریب ‘بنی نعیم’ نامی بستی میں ہوا، جہاں آج بھی آپ کا مزار مبارک زائرین اور مؤرخین کے لیے مرجعِ خلائق ہے۔ سیدنا لوط علیہ السلام کا تذکرہ رہتی دنیا تک عفت، پاکدامنی، غیرتِ ایمانی اور برائی کے خلاف برسرِ پیکار رہنے کا ایک عظیم الشان نشان رہے گا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر، البداية والنهاية (جلد اول، ذکر قصۃ لوط علیہ السلام)
- امام ابن جریر طبری، تاريخ الرسل والملوك (احوالِ انبیاء)
- امام ثعلبی، قصص الانبياء (العرائس المجالس)
- علامہ ابن الاثیر، الكامل في التاريخ (ذکر عہدِ ابراہیمی و لوطی)
مبارک اقوال و ارشادات
قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ (ترجمہ: کاش! مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا۔)
إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ الْقَالِينَ (ترجمہ: بے شک میں تمہارے اس برے کام سے سخت بیزار ہوں۔)
يَا قَوْمِ هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ (ترجمہ: اے میری قوم! یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں۔)
