اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم

سیدنا حضرت زید بن علی شہید رحمہ اللہ (امام زیدیہ)

« أبو الحسين زيد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب الهاشمي القرشي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سیدنا امام زید بن علی شہید رحمہ اللہ 79 ہجری میں مدینہ منورہ کے ایک نہایت ہی معزز اور مقدس گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب والد کی طرف سے امام علی بن الحسین (زین العابدین) بن حسین بن علی بن ابی طالب ہے، اور والدہ ایک ام ولد تھیں جنہیں مختار ثقفی نے امام زین العابدین کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ آپ کا گھرانہ وحی الہی اور سنتِ نبوی کا گہوارہ تھا۔ بچپن ہی سے آپ انتہائی ذہین، عابد اور زاہد تھے۔ آپ کی پرورش مدینہ منورہ کے علمی ماحول میں آپ کے والد محترم امام زین العابدین اور بڑے بھائی امام محمد باقر علیہم السلام کی سرپرستی میں ہوئی۔ آپ نے قرآن مجید پر اس قدر تدبر اور مہارت حاصل کی کہ آپ کو مدینہ منورہ میں "حلیف القرآن” (قرآن کا ساتھی) کے لقب سے پکارا جانے لگا۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

چونکہ آپ خاندانِ نبوت کے چشم و چراغ تھے، اس لیے آپ ولادت کے روز ہی سے اسلام کی حقیقی روح اور تعلیمات سے فیض یاب تھے۔ آپ کی ابتدائی خدمات میں سب سے نمایاں پہلو علمِ دین کی اشاعت اور خلافتِ راشدہ کے منہج کا احیاء تھا۔ آپ نے مدینہ منورہ اور عراق کے علمی حلقوں میں مسندِ تدریس سنبھالی۔ آپ نے بنو امیہ کے دور میں بڑھتی ہوئی سیاسی و سماجی بے راہ روی کے خلاف آواز بلند کی اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے خود کو وقف کیا۔ آپ کا علمی و عملی سفر دینِ اسلام کے بنیادی اصولوں کی ترویج اور بدعات کے خاتمے کے لیے وقف تھا۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ آپ کی علمی مجلسوں میں شریک ہوتے تھے اور آپ کے علم و فضل کے بے حد معترف تھے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

امام زید بن علی کا سب سے بڑا فقہی کارنامہ ان کی مرویات پر مشتمل مجموعہ ہے جسے "مسند امام زید” کہا جاتا ہے، یہ فقہ اسلامی کی قدیم ترین کتب میں سے ایک ہے۔ فضائل کے اعتبار سے آپ زہد، تقویٰ، سخاوت اور شجاعت کا پیکر تھے۔ ائمہ سلف نے آپ کی مدح میں بے شمار اقوال کہے ہیں۔ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: "میں نے ان کے زمانے میں ان سے بڑھ کر کوئی فقیہ، فصیح اور حاضر جواب نہیں دیکھا۔” امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے تھے: "ہمارے چچا زید علم و فضل میں ہم سب سے ممتاز تھے اور وہ سچے مجاہد تھے۔” آپ نے علمِ کلام، فقہ، اور تفسیر میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ سیاسی میدان میں آپ نے جرأت اور بہادری کی وہ تاریخ رقم کی جو رہتی دنیا تک مظلوموں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام زید بن علی نے اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے دور میں گورنر کوفہ یوسف بن عمر الثقفی کے مظالم کے خلاف 122 ہجری میں علمِ جہاد بلند کیا۔ کوفہ کے لوگوں نے بیعت کرنے کے بعد ہمیشہ کی طرح بے وفائی کی، لیکن امام زید نے میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ جنگ کے دوران ایک تیر آپ کی پیشانی مبارک پر لگا، جو آپ کی شہادت کا سبب بنا۔ آپ کی شہادت کے بعد امویوں نے انتہائی بے دردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کی قبر کشائی کی، سر مبارک کاٹ کر دمشق اور پھر مصر بھیجا گیا، اور جسمِ مبارک کو سولی پر لٹکانے کے بعد جلا کر راکھ فرات میں بہا دی گئی۔ آپ کی شہادت نے زیدی مکتبہ فکر (زیدیہ) کی بنیاد رکھی اور تاریخِ اسلام میں حق گوئی و بے باکی کا ایک لازوال باب رقم کیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة / تهذيب التهذيب)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 5)
  • ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ، واقعات 121-122ھ)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 9)
  • ابو الفرج الاصفہانی (مقاتل الطالبین)

مبارک اقوال و ارشادات

من أحب الحياة عاش ذليلاً (جو شخص زندگی سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے وہ ذلیل ہو کر جیتا ہے)۔

والله ما يدع كتاب الله شيئاً إلا بينه (اللہ کی قسم! قرآن مجید نے ہدایت کا کوئی راستہ ایسا نہیں چھوڑا جسے واضح نہ کر دیا ہو)۔

اتقوا الله في علمكم، وعلموا الناس ما ينفعهم (اپنے علم کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اور لوگوں کو وہ سکھاؤ جو انہیں فائدہ پہنچائے)۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سیدنا حضرت زید بن علی شہید رحمہ اللہ (امام زیدیہ)

لقب و کنیت: ابو الحسين (کنیت)، حليف القرآن (قرآن کا ساتھی)، عالم آل محمد، امام الثوار، زید الشہید
قبیلہ: قریش (بنو ہاشم، علوی سادات)
سن پیدائش و وفات: 79 ھ – 122 ھ / 695ء – 740ء
مقام تدفین: سر مبارک قاہرہ (مصر) میں اور جسمِ مبارک کوفہ (عراق) میں جلائے جانے کے بعد راکھ فرات میں بہا دی گئی
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com