اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم

سیدنا حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنہ

« جعفر بن علي بن أبي طالب الهاشمي القرشي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سیدنا حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنہ، امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کے فرزندِ ارجمند ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت حزام تھیں، جو اسلامی تاریخ میں ‘ام البنین’ کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔ حضرت جعفر، سیدنا عباس بن علی (علمدار) اور حضرت عبداللہ بن علی کے سگے بھائی تھے۔ آپ کی ولادت تقریباً 38 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کا نام آپ کے چچا اور طیارِ اسلام سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی نسبت سے رکھا گیا، جن کی بہادری اور شہادت تاریخِ اسلام کا ایک روشن باب ہے۔

تربیت اور خاندانی فضائل

حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنہ نے کائنات کے سب سے عظیم اور مقدس خاندان میں پرورش پائی۔ آپ نے اپنے والد گرامی سیدنا علی بن ابی طالب اور اپنے برادرانِ بزرگوار سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہم اجمعین کے سایہ عاطفت میں تربیت حاصل کی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ زہد و تقویٰ، سخاوت، جرات اور شجاعت کے اعلیٰ ترین اوصاف سے متصف تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مدینہ منورہ میں علم و عبادت اور اپنے بزرگوں کی خدمت میں گزارا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت جعفر بن علی کی زندگی کا سب سے روشن اور نمایاں باب ان کی اپنے مظلوم بھائی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ وفاداری اور معرکہ کربلا میں لازوال قربانی ہے۔ جب سیدنا امام حسین نے یزیدی آمریت کے خلاف مدینہ سے مکہ اور پھر وہاں سے عراق کا سفر اختیار کیا، تو حضرت جعفر اپنے بھائیوں کے ہمراہ ان کے ساتھ رہے۔ کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں، جب پیاس کا شدید غلبہ تھا اور چاروں طرف سے دشمن نے گھیرا ہوا تھا، حضرت جعفر بن علی پامردی اور استقامت کے ساتھ امامِ وقت کی نصرت پر قائم رہے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

10 محرم الحرام 61 ہجری کو کربلا کی جنگ میں جب ایک ایک کر کے انصار و اہل بیت شہید ہو رہے تھے، تو حضرت عباس علمدار نے اپنے بھائیوں بشمول حضرت جعفر کو پکارا کہ وہ میدان میں جا کر اپنے دین اور اپنے مظلوم بھائی امام حسین پر جان نثار کریں۔ حضرت جعفر بن علی نے میدانِ جنگ میں آ کر نہایت دلیری سے مقابلہ کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق، ہانی بن ثبیت الحضرمی (یا بعض روایات کے مطابق خولی بن یزید اصبحی) نے آپ پر حملہ کیا اور آپ کو شہید کر دیا۔ آپ کی شہادت کے وقت عمر مبارک محض 22 یا 23 سال تھی۔ آپ کی قربانی شجاعت اور اہل بیت کی حق گوئی کا ایک لازوال استعارہ بن کر تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة فی معرفة الصحابة)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)
  • امام طبری (تاريخ الرسل والملوک)

مبارک اقوال و ارشادات

إنّي أنا جعفرٌ ذو المَعالي * ابنُ عليِّ الخيرِ ذو النَّوالِ * أحمي حُسيناً ذو الفِضالِ (میدانِ کربلا میں رجز پڑھتے ہوئے فرمایا: بے شک میں بلند مرتبہ جعفر ہوں، جو خیر و سخاوت کے پیکر علی کا بیٹا ہے۔ میں فضیلتوں کے مالک حسین کی حفاظت کر رہا ہوں)

آپ کا یہ تاریخی عمل کہ جب آپ کے بھائی حضرت عباس اور حضرت عبداللہ نے آپ کو میدانِ جنگ میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی تو آپ نے اپنے بڑے بھائی سیدنا امام حسین کی محبت اور نصرت میں جان قربان کرنے کو سب سے بڑی سعادت جانا۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سیدنا حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنہ

لقب و کنیت: ابو عبد اللہ، الشہید، العابد، غصنِ علوی
قبیلہ: بنو ہاشم (قریش)
سن پیدائش و وفات: تقریباً 38 ھ – 10 محرم 61 ھ / تقریباً 658ء – 10 اکتوبر 680ء
مقام تدفین: مشہدِ حسینی، کربلا، عراق (اجتماعی قبرِ شہداءِ کربلا)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com