انبیائے کرام و رسل علیہم السلام

سیدنا حضرت اسحاق علیہ السلام

« إسحاق بن إبراهيم بن تارح (آزر) الخليل عليهما السلام »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سیدنا حضرت اسحاق علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر اور جدّ الانبیاء سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے چھوٹے بیٹے ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام حضرت سارہ علیہا السلام تھا، جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی پہلی زوجہ مطہرہ تھیں۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادتِ با سعادت اس وقت ہوئی جب آپ کے والدِ گرامی سیدنا ابراہیم علیہ السلام انتہائی ضعیف العمری (تقریباً 100 سال) کی عمر کو پہنچ چکے تھے اور والدہ محترمہ حضرت سارہ بانجھ پن اور ضعیفی کی حالت میں تھیں۔ قرآنِ مجید میں اس ولادت کا ذکر ایک عظیم معجزے اور بشارت کے طور پر کیا گیا ہے۔

جب اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے (سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم کی طرف جاتے ہوئے) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس مہمان بن کر آئے، تو انہوں نے حضرت سارہ کو ایک علم والے اور حلیم بیٹے کی ولادت کی خوشخبری دی۔ سورہ ہود میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ‘اور ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔’ حضرت سارہ یہ سن کر حیران ہوئیں کہ اس عمر میں میرے ہاں اولاد کیسے ہوگی؟ تو فرشتوں نے فرمایا: ‘کیا تم اللہ کی قدرت پر تعجب کرتی ہو؟ تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔’ آپ کی ولادت شام (موجودہ فلسطین) کے علاقے میں ہوئی۔

مقامِ نبوت، فضائل اور دعوتی سرگرمیاں

حضرت اسحاق علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے نبوت کے اعلیٰ منصب کے لیے چن لیا تھا۔ قرآنِ مجید میں آپ کو ‘نبی صالح’، ‘مقتدا’ اور ‘صاحبِ بصیرت و قوت’ قرار دیا گیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ‘اور یاد کرو ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو جو قوت اور بصیرت والے تھے۔’ (سورہ ص: 45)۔ آپ علیہ السلام نے اپنے والدِ گرامی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشن یعنی توحیدِ باری تعالیٰ کی اشاعت کو پوری قوت کے ساتھ جاری رکھا۔

آپ نے ارضِ کنعان (فلسطین و شام) کے لوگوں کو اللہ کے دین کی دعوت دی اور انہیں شرک و بت پرستی سے بچا کر ایک اللہ کی بندگی کی طرف بلایا۔ مفسرینِ کرام فرماتے ہیں کہ حضرت اسحاق علیہ السلام نہایت حلیم، صابر اور عبادت گزار شخصیت کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نسل سے کثیر انبیاء پیدا کیے، جن میں سیدنا یعقوب، سیدنا یوسف، سیدنا موسیٰ، سیدنا ہارون، سیدنا داؤد، سیدنا سلیمان اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام شامل ہیں، اسی لیے آپ کو ‘شجرۂ نبوت کی اہم ترین کڑی’ مانا جاتا ہے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت اسحاق علیہ السلام کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ فلسطین کے خطے میں توحیدِ الٰہی کا استحکام اور بیت المقدس کی بستیوں میں اللہ کے سچے دین کی ترویج ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت اسحاق علیہ السلام کی جلالتِ شان کو ایک موقع پر یوں بیان فرمایا: ‘کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں۔’ یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام شرافت، بزرگی اور خاندانی فضیلت کے اس مقام پر فائز ہیں جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دونوں بھائیوں نے مل کر اپنے والد کے مشن کو دنیا کے دو بڑے حصوں (حجاز اور شام) میں قائم کیا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کی ذریت سے بنو اسرائیل کے تمام انبیاء پیدا ہوئے، جب کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذریت سے کائنات کے سب سے عظیم نبی، احمدِ مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

مورخین اور مفسرین کے مطابق، حضرت اسحاق علیہ السلام نے ایک طویل اور برکت والی زندگی پائی۔ آپ نے تقریباً 180 سال کی عمر میں فلسطین کے شہر حبرون (الخلیل) میں وفات پائی۔ آپ کو ان کے بیٹوں حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت عیص علیہ السلام نے اسی غار (مغارۃ المکفیلہ) میں دفن کیا جہاں ان کے والدِ گرامی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور والدہ محترمہ حضرت سارہ مدفون تھیں۔ آج یہ مقام ‘مسجدِ ابراہیمی’ کے نام سے الخلیل، فلسطین میں مرجعِ خلائق ہے۔

سیدنا اسحاق علیہ السلام کی تاریخی اور دینی میراث رہتی دنیا تک قائم ہے۔ آپ کا اسوہ حسنہ ہمیں صبر، شکر اور نامساعد حالات میں بھی اللہ کی رحمت پر کامل یقین رکھنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام، عیسائیت اور یہودیت، تینوں ابراہیمی ادیان میں آپ کی شخصیت کو انتہائی احترام اور تقدیس کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • حافظ ابن کثیر (قصص الانبیاء، جلد اول، ذکرِ سیدنا اسحاق علیہ السلام)
  • امام ابن جریر الطبری (تاریخ الرسل والملوک، احوالِ انبیاء)
  • ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ، ذکرِ وفاتِ اسحاق علیہ السلام)
  • امام شہاب الدین آلوسی (تفسیر روح المعانی، سورہ ہود و سورہ ص کی آیات کے تحت)
  • حافظ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری شرح صحیح البخاری، کتاب الانبیاء)

مبارک اقوال و ارشادات

سیدنا اسحاق علیہ السلام نے اپنے فرزند سیدنا یعقوب علیہ السلام کو وصیت فرمائی: 'ہمیشہ حق پر قائم رہنا، کیونکہ حق ہی نجات کا واحد ذریعہ ہے اور باطل عارضی ہے۔'

آپ علیہ السلام فرماتے تھے: 'اللہ تعالیٰ کی بندگی اور بندوں سے بھلائی کرنا ہی دین کا جوہر ہے۔'

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سیدنا حضرت اسحاق علیہ السلام

لقب و کنیت: ابو یعقوب (الکنیہ)، نبی اللہ، العبد الصالح، صفی اللہ، بشرائے ابراہیم (القاب)
قبیلہ: بنو ابراہیم (آلِ ابراہیم علیہ السلام / عبرانی)
سن پیدائش و وفات: تقریباً 1896 قبل مسیح – 1716 قبل مسیح (ولادت تا وفات)
مقام تدفین: مسجد ابراہیمی (مغارۃ المکفیلہ)، الخلیل، فلسطین
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com