خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سپہ سالار قتیبہ بن مسلم باہلی (فاتح ماوراء النہر و ترکستان)

« أبو حفص قتيبة بن مسلم بن عمرو بن حصين الباهلي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امیر قتیبہ بن مسلم باہلی کی ولادت 49 ہجری (بمطابق 669ء) میں عراق کے ایک معزز اور عسکری خاندان میں ہوئی۔ ان کا تعلق عدنانی عرب کے مشہور قبیلے ‘باہلہ’ سے تھا۔ ان کے والد مسلم بن عمرو باہلی اموی خلافت کے بااثر امرا اور حجاج بن یوسف کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ قتیبہ کی تربیت خالص عسکری، انتظامی اور علمی ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے بچپن ہی سے شہسواری، شمشیر زنی اور فنونِ حرب میں غیر معمولی مہارت حاصل کر لی۔ ان کی غیر معمولی ذہانت، شجاعت اور تدبر کو دیکھتے ہوئے عراق کے گورنر حجاج بن یوسف نے ان کی سرپرستی کی اور انہیں کم عمری میں ہی اہم عسکری مہمات کی قیادت سونپ دی۔

امارتِ خراسان اور فتوحات کا آغاز

86 ہجری (705ء) میں خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دور میں قتیبہ بن مسلم کو خراسان کا گورنر مقرر کیا گیا۔ یہ تقرری اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ خراسان اس وقت اسلامی سلطنت کی مشرقی سرحد تھی جہاں سے آگے ترکستان اور وسطی ایشیا کے غیراسلامی علاقے شروع ہوتے تھے۔ چارج سنبھالتے ہی قتیبہ نے فوج کو ازسرِ نو منظم کیا اور ‘ماوراء النہر’ (Transoxiana) کی تسخیر کا ایک عظیم اور منظم منصوبہ تیار کیا۔ انہوں نے دریائے جیحون کو عبور کر کے کئی مشکل مہمات سر کیں اور وسطی ایشیا کے اہم ترین شہروں بخارا، سمرقند، خوارزم اور فرغانہ کو یکے بعد دیگرے فتح کر کے اسلامی قلمرو میں شامل کر لیا۔ ان کی فتوحات کی وجہ سے کفر و شرک کے قدیم مراکز علم و عرفان کے گہوارے بن گئے۔

نمایاں کارنامے، شجاعت اور اشاعتِ اسلام

قتیبہ بن مسلم کا سب سے بڑا کارنامہ وسطی ایشیا (ترکستان) کو ہمیشہ کے لیے اسلامی رنگ میں رنگ دینا ہے۔ وہ محض ایک عسکری فاتح نہیں تھے، بلکہ ایک عظیم مبلغ اور مدبر بھی تھے۔ انہوں نے مفتوحہ شہروں میں بت خانوں کو مسمار کر کے عظیم مساجد کی بنیاد رکھی۔ بخارا اور سمرقند میں انہوں نے عرب خاندانوں کو آباد کیا تاکہ مقامی آبادی مسلمانوں کے طرزِ زندگی کو دیکھ کر اسلام کے قریب آ سکے۔ ان کے عدل و انصاف، عفو و درگزر اور اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہو کر لاکھوں ترک قبیلے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ قتیبہ نے اپنی مہمات کو وسعت دیتے ہوئے چین کی سرحد تک رسائی حاصل کی اور کاشغر کو فتح کیا۔ ان کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ خاقانِ چین ان سے جزیہ کی ادائیگی پر صلح کرنے پر مجبور ہو گیا۔

شہادت اور تاریخی میراث

96 ہجری (715ء) میں خلیفہ ولید بن عبدالملک کی وفات اور سلیمان بن عبدالملک کی تخت نشینی کے بعد بعض سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ سلیمان اور حجاج بن یوسف کے خاندان کے درمیان پرانی رنجشیں تھیں، جس کی وجہ سے قتیبہ بن مسلم بھی شدید تحفظات کا شکار ہوئے۔ اسی کشیدہ سیاسی ماحول میں فوج کے اندر ایک بغاوت پھوٹ پڑی، اور وادی فرغانہ (موجودہ ازبکستان) کے مقام پر مسلم تاریخ کے اس عظیم سپہ سالار کو ان کے خاندان کے کئی افراد سمیت شہید کر دیا گیا۔ قتیبہ بن مسلم باہلی کی شہادت مسلم فتوحات کے سنہری دور کا ایک بڑا المیہ تھی۔ تاریخِ اسلام انہیں خالد بن ولید، طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم کے پائے کا عظیم فاتح اور ہیرو تسلیم کرتی ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (تاریخ الرسل والملوک، واقعاتِ سن 86ھ تا 96ھ)
  • ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ، ذکرِ فتوحاتِ قتیبہ بن مسلم)
  • ابن کثیر الدمشقی (البداية والنهاية، جلد 9)
  • امام شمس الدین الذہبی (سير أعلام النبلاء، سوانح قتیبہ بن مسلم)
  • ابن قتیبہ الدینوری (المعارف)

مبارک اقوال و ارشادات

اگر زندگی لکھی ہے تو بہادری اسے کم نہیں کر سکتی، اور اگر موت لکھی ہے تو بزدلی اسے ٹال نہیں سکتی۔

اللہ کی قسم! میں اس وقت تک جنگ جاری رکھوں گا جب تک کہ چین کی سرحدیں ہمارے گھوڑوں کے کھروں تلے نہ آ جائیں۔

مسلمانوں! ہمیشہ سچے عزم کو اپنا شعار بناؤ، کیونکہ نصرتِ الٰہی مادی وسائل سے زیادہ ایمانی مضبوطی میں پوشیدہ ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سپہ سالار قتیبہ بن مسلم باہلی (فاتح ماوراء النہر و ترکستان)

لقب و کنیت: ابو حفص، فاتحِ ماوراء النہر، امیرِ خراسان، عظیم سپہ سالارِ اسلام
قبیلہ: باہلہ (عدنانی عرب قبیلہ)
سن پیدائش و وفات: 49 ھ – 96 ھ / 669ء – 715ء
مقام تدفین: وادی فرغانہ (موجودہ اندیجان، ازبکستان)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com