خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام اور سپہ سالار اسد بن فرات 142 ہجری (759ء) میں عراق کے سرحدی شہر حران میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد فرات بن سنان کا تعلق خراسان سے تھا اور وہ عباسی خلافت کے عسکری دستوں کے ہمراہ افریقہ (موجودہ تونس و الجزائر) منتقل ہوئے تھے۔ جب اسد کی عمر محض پانچ سال تھی، تو ان کا خاندان قیروان منتقل ہو گیا۔ قیروان اس وقت شمالی افریقہ میں علم و معرفت اور اسلامی تہذیب کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ اسد بن فرات نے اسی علمی ماحول میں پرورش پائی، نہایت کم عمری میں قرآن مجید حفظ کیا اور عربی زبان و ادب اور ابتدائی فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ ان کے اندر بچپن ہی سے علمی پیاس اور شجاعت کے غیر معمولی آثار نمایاں تھے۔
قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات
اگرچہ اسد بن فرات کے آباؤ اجداد پہلے ہی حلقہ بگوشِ اسلام ہو چکے تھے، تاہم ان کی "ابتدائی خدمات” اسلامی قانون (فقہ) کی تدوین اور ترویج کے میدان میں بے مثال ہیں۔ جوانی کی عمر میں انہوں نے تحصیلِ علم کے لیے مشرقِ اسلامی کا سفر اختیار کیا۔ سب سے پہلے وہ مدینہ منورہ پہنچے اور امام دار الہجرت امام مالک بن انس کے حلقہ درس میں شامل ہو کر موطا کا سماع کیا۔ مدینہ کے بعد انہوں نے عراق کا سفر کیا، جہاں انہوں نے امام اعظم ابو حنیفہ کے ارشد تلامذہ، بالخصوص امام محمد بن حسن شیبانی اور امام ابو یوسف سے فقہِ حنفی کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے حجاز کے فقہِ حدیث (مالکی) اور عراق کے فقہِ رائے (حنفی) کو یکجا کیا۔ قیروان واپس آ کر انہوں نے ان دونوں مکاتبِ فکر کے امتزاج سے ایک عظیم فقہی مجموعہ مرتب کیا جسے ان کے نام کی مناسبت سے "الاسدیہ” کہا جاتا ہے۔ یہی کتاب بعد میں مالکی فقہ کے سب سے معتبر ترین مجموعے "المدونة الکبریٰ” کی اساس بنی۔ ان کی علمی جلالت کو دیکھ کر اغلیبی حکمران زیادۃ اللہ اول نے انہیں افریقہ (قیروان) کا قاضی القضاہ (چیف جسٹس) مقرر کیا۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
اسد بن فرات کی زندگی کا سب سے درخشاں باب قلم اور تلوار کا حسین امتزاج ہے۔ وہ صرف محراب و منبر کے وارث نہ تھے بلکہ میدانِ کارزار کے بھی مردِ جری تھے۔ ان کا سب سے عظیم تاریخی کارنامہ جزیرہ صقلیہ (سسلی) کی فتح کا آغاز ہے۔ 212 ہجری میں جب بازنطینی سلطنت کے خلاف جہاد کا موقع آیا، تو امیر زیادۃ اللہ نے اسد بن فرات کو قاضی کے منصب پر برقرار رکھتے ہوئے اسلامی بحری اور بری لشکر کا سپہ سالارِ اعظم (امیر البحر) مقرر کیا۔ سوسہ کی بندرگاہ پر جب دس ہزار مجاہدین کا لشکر روانہ ہو رہا تھا، تو اس بزرگ عالم اور قاضی نے سفید داڑھی اور زرہ پہنے ہوئے ایک تاریخی خطبہ دیا، جس نے مجاہدین کے دلوں میں شہادت کا ولولہ پیدا کر دیا۔ ان کی قیادت میں اسلامی لشکر نے سسلی کے ساحل پر اتر کر بازنطینی افواج کو عبرتناک شکست دی، شہر مازر کو فتح کیا اور سسلی کے دار الحکومت سرقوسہ (Syracuse) کا انتہائی کڑا محاصرہ کیا۔ صقلیہ کی فتح نے یورپ میں اسلامی فتوحات اور تمدن کے نئے دروازے کھولے۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
سرقوسہ کے طویل محاصرے کے دوران اسلامی لشکر کو نہ صرف دشمن کی سخت مزاحمت کا سامنا تھا بلکہ کیمپ میں وبائی مرض (طاعون) پھیل گیا۔ قاضی اور سپہ سالار اسد بن فرات خود بھی اس وباء کا شکار ہو گئے۔ اس شدید بیماری اور نقاہت کے باوجود انہوں نے قیادت کا پرچم ہاتھ سے نہ چھوڑا اور مجاہدین کی صفوں کو درست رکھا۔ بالآخر 213 ہجری (828ء) میں محاصرے کے دوران ہی اس عظیم مجاہد، فقیہ اور قاضی نے جامِ شہادت نوش کیا۔ انہیں سرقوسہ ہی کی سرزمین پر سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات کے بعد اگرچہ محاصرہ طویل ہوا، لیکن ان کی قائم کردہ بنیاد پر مسلمانوں نے بالاخر پورے سسلی پر قبضہ کر لیا جو اگلی ڈھائی صدیوں تک علم و ادب اور اسلام کا گہوارہ بنا رہا۔ اسد بن فرات تاریخِ اسلام کے ان نادر روزگار شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ علمِ دین اور عملِ جہاد ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام شمس الدین الذہبی، سير أعلام النبلاء (جلد 10، سوانح اسد بن فرات)
- ابن خلکان، وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان
- القاضی عیاض الاندلسی، ترتيب المدارك وتقريب المسالك لمعرفة أعلام مذهب مالك
- ابن الاثیر الجزری، الكامل في التاريخ (حوادث سنہ 212 اور 213 ہجری)
- ابن کثیر، البداية والنهاية (ذکرِ فتحِ صقلیہ)
مبارک اقوال و ارشادات
لوگوں کی قیادت اور علم کی خدمت ایسی لذت ہے کہ اگر دنیا کے بادشاہوں کو اس کا علم ہو جائے تو وہ ہم سے تلواروں کے زور پر یہ علم چھین لیں۔
اے لوگو! لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ۔ یاد رکھو! ہم نے یہ علم کا بلند مرتبہ آرام و آسائش اور کاہلی سے حاصل نہیں کیا، بلکہ انتھک سفر، ہجرت اور راتوں کی بیداری سے پایا ہے۔ پس تم بھی جہاد اور علم میں سستی نہ کرو۔
