خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان نصیر الدین ہمایوں

« أبو المظفر نصير الدين محمد همایون بن ظهير الدين محمد بابر »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان نصیر الدین محمد ہمایوں 6 مارچ 1508ء (4 ذوالقعدہ 913ھ) کو کابل کے قلعے میں پیدا ہوئے۔ وہ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین محمد بابر کے سب سے بڑے اور چہیتے بیٹے تھے۔ ان کی والدہ کا نام ماہم بیگم تھا جن کا تعلق ایک معزز علمی خاندان سے تھا۔ بابر نے اپنے اس بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جس کی بدولت ہمایوں نے کم عمری میں ہی عربی، فارسی، اور ترکی زبانوں پر عبور حاصل کر لیا۔ اس کے علاوہ انہیں ریاضی، فلکیات، اور الہیات سے گہرا شغف تھا۔ نوعمری میں ہی انہیں عسکری و سیاسی معاملات میں شامل کیا گیا، اور انہوں نے پانی پت اور کنواہ کی تاریخی جنگوں میں اپنے والد کے شانہ بشانہ دادِ شجاعت دی اور بدخشاں کے گورنر کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیے۔

تخت نشینی، سیاسی کشمکش اور جلاوطنی

دسمبر 1530ء میں شہنشاہ بابر کی وفات کے بعد نصیر الدین ہمایوں مغلیہ سلطنت کے دوسرے تاجدار بنے۔ تخت نشین ہوتے ہی انہیں بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف ان کے اپنے بھائیوں (کامران، عسکری اور ہندال) نے ان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں، اور دوسری طرف گجرات کے بہادر شاہ اور بہار کے افغان شیر شاہ سوری نے مغل حکومت کے لیے شدید خطرات پیدا کیے۔ شیر شاہ سوری کے خلاف معرکہ چوسہ (1539ء) اور معرکہ قنوج (1540ء) میں شکست کھانے کے بعد ہمایوں کو ہندوستان چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے طویل عرصہ جلاوطنی اور مشکلات میں گزارا، سندھ اور راجپوتانہ کے صحراؤں کی خاک چھانی جہاں 1542ء میں ان کے ہاں جلال الدین محمد اکبر کی ولادت ہوئی۔ بالآخر، انہوں نے ایران کے صفوی حکمران شاہ طہماسپ کے دربار میں پناہ لی، جنہوں نے ہمایوں کی شاندار پذیرائی کی اور دوبارہ سلطنت کے حصول کے لیے عسکری مدد فراہم کی۔

علمی ذوق، مذہبی رجحانات اور سیرت

شہنشاہ ہمایوں ایک علم دوست، حلیم الطبع اور انتہائی بااخلاق انسان تھے۔ وہ کتب بینی کے بے حد شائق تھے اور سفر و حضر میں ہمیشہ اپنا قیمتی کتب خانہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ فلکیات اور علمِ نجوم سے ان کی گہری دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے دربار کے اوقات اور امورِ سلطنت کو ستاروں کی گردش کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش کی۔ وہ صوفیائے کرام اور علمائے دین کے بے حد قدردان تھے اور ان کا دربار علمی مباحثوں کا مرکز تھا۔ تاریخ دان ان کی نرم دلی اور معاف کرنے کی عادت کی تعریف کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے بارہا اپنے باغی بھائیوں کو گرفتار کرنے کے باوجود معاف کیا، جو قرونِ وسطیٰ کے حکمرانوں میں ایک نایاب صفت تھی۔

دوبارہ حصولِ سلطنت اور سانحہ ارتحال

ایران کی فوجی امداد اور اپنے وفادار سپہ سالار بیرم خان کی عسکری صلاحیتوں کی بدولت ہمایوں نے پہلے قندھار اور کابل فتح کیا، اور پھر افغان سلطنت کے زوال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 1555ء میں جنگِ سرہند میں فتح حاصل کر کے دہلی کے تخت پر دوبارہ تسلط حاصل کیا۔ اس طرح پندرہ سالہ جلاوطنی کے بعد انہوں نے مغل سلطنت کا احیاء کیا۔ لیکن یہ کامیابی زیادہ دیر پا ثابت نہ ہو سکی۔ تخت نشینی کے محض چند ماہ بعد، 24 جنوری 1556ء کو، ہمایوں دہلی میں واقع اپنے کتب خانے ‘شیر منڈل’ کی سیڑھیوں سے گر کر شدید زخمی ہوئے اور تین دن بعد 27 جنوری 1556ء (15 ربیع الاول 963ھ) کو وفات پا گئے۔ ان کی تدفین دہلی میں کی گئی، جہاں بعد میں ان کی بیوہ حمیدہ بانو بیگم نے مغل طرزِ تعمیر کا پہلا شاہکار ‘مقبرہ ہمایوں’ تعمیر کروایا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابو الفضل علامی (اکبر نامہ)
  • گلبدن بیگم (ہمایوں نامہ)
  • خواجہ نظام الدین احمد (طبقاتِ اکبری)
  • ملا عبدالقادر بدایونی (منتخب التواریخ)
  • محمد قاسم فرشتہ (تاریخِ فرشتہ)

مبارک اقوال و ارشادات

سلطنت کی بقا اور استحکام کا راز عدل و انصاف اور رعایا پروری میں مضمر ہے۔

کتب خانہ میری تنہائی کا بہترین رفیق اور علم میری روح کی حقیقی غذا ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان نصیر الدین ہمایوں

لقب و کنیت: ابو المظفر، نصیر الدین، شہنشاہِ غازی، سلیمانِ مکاں، جنت آشیانی
قبیلہ: چغتائی برلاس ترک (تیموری خاندان)
سن پیدائش و وفات: 4 ذوالقعدہ 913ھ – 15 ربیع الاول 963ھ / 6 مارچ 1508ء – 27 جنوری 1556ء
مقام تدفین: ہمایوں کا مقبرہ، دہلی، ہندوستان
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com