خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سلطان ناصر الدین محمود خاندانِ غلاماں (مملوک سلطنت) کے نامور فرمانروا شمس الدین التمش کے فرزند تھے۔ ان کی ولادت 1229ء (626ھ) کے لگ بھگ دہلی میں ہوئی۔ ان کا بچپن شاہی محل کے بجائے انتہائی صالح اور علمی ماحول میں گزرا۔ ان کے والد التمش نے ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی، جس کی بدولت ان کی شخصیت میں زہد، تقویٰ، اور علم دوستی کے اوصاف راسخ ہوئے۔ انہوں نے بچپن ہی سے عیش و عشرت سے دوری اختیار کی اور سادگی کو اپنا شعار بنایا۔
تخت نشینی اور نظامِ سلطنت
علاء الدین مسعود شاہ کی معزولی کے بعد، 1246ء میں امرا اور وزرا نے متفقہ طور پر ناصر الدین محمود کو تختِ دہلی پر بٹھایا۔ ان کا دورِ حکومت تقریباً بیس سال پر محیط رہا۔ چونکہ سلطان خود صوفی منش اور زاہد انسان تھے، اس لیے انہوں نے امورِ سلطنت کے لیے اپنے زیرک اور طاقتور اتابک (نائب) غیاث الدین بلبن پر بھروسہ کیا۔ بلبن نے سلطنت کے انتظامی، عسکری اور دفاعی امور کو نہایت مضبوطی سے سنبھالا، خاص طور پر منگولوں کے پے در پے حملوں کو ناکام بنایا اور ملک میں امن و امان قائم رکھا۔ سلطان خود پسِ پردہ رہ کر عبادات اور عوام کی فلاح و بہبود میں مصروف رہتے تھے۔
زہد و تقویٰ، اوصاف اور فضائل
سلطان ناصر الدین محمود تاریخِ اسلام کے ان چند حکمرانوں میں سے ہیں جنہوں نے بادشاہت کے باوجود فقیرانہ اور درویشانہ زندگی گزاری۔ تاریخ دانوں کے مطابق وہ شاہی خزانے (بیت المال) سے اپنی ذات پر ایک دھیلا بھی خرچ نہیں کرتے تھے۔ ان کی زندگی کے نمایاں اوصاف درج ذیل ہیں:
- کتابتِ قرآن: وہ اپنے ہاتھ سے قرآن مجید کے نسخے لکھتے تھے اور انہیں فروخت کر کے جو رقم حاصل ہوتی، اسی سے اپنی روزی روٹی کا انتظام کرتے تھے۔
- سادہ طرزِ زندگی: ان کے گھر میں کوئی خادمہ نہ تھی، ان کی ملکہ خود اپنے ہاتھوں سے کھانا پکاتی تھی اور ایک بار روٹی پکاتے ہوئے ہاتھ جل جانے پر جب ملکہ نے خادمہ رکھنے کی درخواست کی، تو سلطان نے جواب دیا کہ دنیا کی آسائش کے لیے میں بیت المال میں خیانت نہیں کر سکتا۔
- علما کی قدر دانی: وہ علما اور صوفیا کے بے حد قدردان تھے۔ مشہور مورخ قاضی منہاج سراج جوزجانی ان کے قاضی القضاۃ تھے، جنہوں نے اپنی مشہور تاریخی تصنیف ‘طبقاتِ ناصری’ انہی کے نام سے منسوب کی۔
وصال اور تاریخی میراث
سلطان ناصر الدین محمود نے 1266ء (664ھ) میں وفات پائی۔ ان کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی، اس لیے ان کی وفات کے بعد ان کے نائب اور داماد غیاث الدین بلبن نے اقتدار سنبھالا۔ سلطان کی وفات پر دہلی کی عوام میں شدید رنج و غم کا اظہار کیا گیا، کیونکہ وہ انہیں ایک بادشاہ کے بجائے اپنا روحانی پیشوا اور ولی کامل مانتے تھے۔ انہیں دہلی میں ان کے بھائی کے مقبرے (جو سلطان غاری کے نام سے مشہور ہے) کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کا دورِ حکومت برصغیر میں علم و ادب کی ترویج اور سیاسی استحکام کا سنہرا دور مانا جاتا ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- قاضی منہاج سراج جوزجانی (طبقاتِ ناصری)
- ضیاء الدین برنی (تاریخِ فیروز شاہی)
- ابن بطوطہ (رحلہ ابن بطوطہ / عجائب الاسفار)
- محمد قاسم فرشتہ (تاریخِ فرشتہ)
مبارک اقوال و ارشادات
سلطنت اللہ کی امانت ہے اور میں اس کا محض ایک نگہبان ہوں۔ بیت المال کا مال مسلمانوں کا ہے، اس سے اپنے ذاتی اخراجات پورا کرنا میرے لیے جائز نہیں۔
قرآن مجید کی کتابت میرے دل کو سکون دیتی ہے اور اسی حلال دستی کمائی سے میرا ذاتی گزارہ ہوتا ہے۔
