خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان ناصر الدین سبکتگین (بانی سلطنت غزنویہ)

« أبو منصور ناصر الدين سُبُكْتِكِيْن بن جوق البجكمي التركي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امیر ناصر الدین سبکتگین کی ولادت تقریباً 331 ہجری (942ء) میں ترکستان کے علاقے برسخان میں ہوئی۔ وہ نسلاً ترک تھے اور ان کا تعلق ایک معزز گھرانے سے تھا۔ بچپن میں ایک قبائلی تصادم کے دوران انہیں قیدی بنا لیا گیا اور بخارا کے غلاموں کے بازار میں لایا گیا۔ وہاں انہیں سامانی سلطنت کے ایک بااثر سپہ سالار الپتگین نے خریدا۔ سبکتگین نے اپنی ذہانت، شجاعت، وفاداری اور غیر معمولی عسکری صلاحیتوں کی بنا پر جلد ہی الپتگین کا اعتماد حاصل کر لیا اور وہ ان کے معتمدِ خاص اور فوج کے سپہ سالار بن گئے۔ جب الپتگین نے غزنی میں اپنی آزاد حکومت قائم کی، تو سبکتگین ان کے دستِ راست کے طور پر کام کرتے رہے۔

امارتِ غزنی کا آغاز اور قبولِ عام

الپتگین اور ان کے بیٹے ابو اسحاق ابراہیم کے انتقال کے بعد، غزنی کی سلطنت داخلی عدم استحکام کا شکار ہو گئی۔ اس نازک وقت میں، غزنوی فوج اور وہاں کے معززین نے متفقہ طور پر شعبان 366ھ (977ء) میں سبکتگین کو اپنا امیر منتخب کیا۔ امیر سبکتگین نے تخت نشین ہوتے ہی اپنی عادلانہ پالیسیوں، سخاوت اور شجاعت سے رعایا اور فوج کے دل جیت لیے۔ انہوں نے عباسی خلافت کی اطاعت کا دم بھرا اور خلیفہء بغداد الطائع باللہ کی جانب سے انہیں ‘ناصر الدین’ اور ‘معین الدولہ’ کے جلیل القدر القاب سے نوازا گیا، جس سے ان کی حکومت کو دینی و سیاسی مشروعیت حاصل ہوئی۔

نمایاں کارنامے، فتوحات اور ترویجِ اسلام

امیر سبکتگین کی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہندوستان کی سرحدوں پر امن و امان قائم کرنا اور اسلامی قلمرو کو وسعت دینا ہے۔ اس دور میں پنجاب اور کابل کے علاقوں پر ہندو شاہی خاندان کا راجہ جے پال حکومت کر رہا تھا۔ جے پال نے غزنی پر قابض ہونے کے لیے ایک بڑی فوج کے ساتھ چڑھائی کی، لیکن سبکتگین نے اسے لغمان کے معرکے میں عبرت ناک شکست دی۔ اس فتح کے نتیجے میں لغمان، کابل اور جلال آباد کے علاقے غزنوی سلطنت کا حصہ بنے۔ انہوں نے ان علاقوں میں مساجد قائم کیں اور کفر و شرک کے سائے کو مٹا کر اسلام کا نور پھیلایا۔ انہوں نے اپنے ہونہار بیٹے محمود غزنوی کی ایسی عسکری اور فکری تربیت کی جس نے آگے چل کر تاریخِ اسلام کا رخ موڑ دیا۔

وصال، وصیت اور تاریخی میراث

امیر ناصر الدین سبکتگین نے لگ بھگ بیس سال نہایت کامیابی، عدل اور وقار کے ساتھ حکومت کی۔ اپنی زندگی کے آخری حصے میں وہ علیل ہو گئے اور سفرِ خراسان کے دوران بلخ کے قریب ان کی صحت مزید بگڑ گئی۔ وہ شعبان 387ھ (اگست 997ء) میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ ان کے جسدِ خاکی کو غزنی لایا گیا اور وہیں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے سلطان محمود غزنوی نے سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی اور تاریخِ اسلام کی سب سے عظیم الشان سلطنتوں میں سے ایک ‘سلطنتِ غزنویہ’ کو اوجِ کمال تک پہنچایا۔ امیر سبکتگین کو مؤرخین ایک متقی، عادل اور بے مثل مدبر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابو نصر محمد بن عبد الجبار العتبی (تاریخ یمینی)
  • ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ)
  • قاضی منہاج سراج جوزجانی (طبقاتِ ناصری)
  • حافظ ابن کثیر (البدایہ والنہایہ)

مبارک اقوال و ارشادات

رعایا کے ساتھ عدل و انصاف اور یتیموں کی سرپرستی ہی سلطنتوں کو بقا بخشتی ہے۔

میری اولاد کے لیے بہترین نصیحت یہ ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کو اپنا شعار بنائیں اور کبھی ظلم کو نزدیک نہ آنے دیں۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان ناصر الدین سبکتگین (بانی سلطنت غزنویہ)

لقب و کنیت: ابو منصور (کنیت)، ناصر الدین، معین الدولہ، بانی سلطنت غزنویہ، امیرِ غازی (القاب)
قبیلہ: ترک (برسخان قبیلہ / بجکم الایغور)
سن پیدائش و وفات: 331ھ – 387ھ / 942ء – 997ء
مقام تدفین: غزنی، افغانستان
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com