خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان معز الدین محمد غوری (بانی سلطنت دہلی)

« الأمير السلطان معز الدين محمد بن بهاء الدين سام الغوري الشنسباني »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان معز الدین محمد غوری، جنہیں تاریخ میں شہاب الدین غوری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، افغانستان کے وسطی پہاڑی علاقے ‘غور’ کے ایک معزز اور جنگجو شنسبانی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کی ولادت 1149ء کے قریب ہوئی۔ ان کا خاندان شنسبانی کہلاتا تھا جو کہ اصل میں تاجک یا فارسی نسل سے تعلق رکھتا تھا اور بعد میں اسلام قبول کر کے غوری سلطنت کی بنیاد کا سبب بنا۔ ان کے والد بہاء الدین سام اول غور کے حاکم تھے۔ معز الدین غوری نے اپنے بڑے بھائی غیاث الدین غوری کے سائے میں تربیت پائی اور ان کے دستِ راست بن کر ابھرے۔ بچپن ہی سے وہ عسکری فنون، شمشیر زنی اور حکمرانی کے اصولوں سے واقف ہو چکے تھے، جس نے update مستقبل کا ایک عظیم فاتح اور مدبر بنایا۔

سلطنت کا استحکام اور بھائی سے مثالی محبت

سلطان معز الدین غوری اور ان کے بڑے بھائی سلطان غیاث الدین غوری کی باہمی محبت اور اتحاد اسلامی تاریخ میں ایک نادر مثال ہے۔ جب غیاث الدین نے غور کا تخت سنبھالا تو انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی معز الدین کو غزنوی سلطنت کے کھنڈرات پر فتح حاصل کرنے کے بعد غزنی کا گورنر مقرر کیا۔ دونوں بھائیوں نے کبھی ایک دوسرے کے خلاف سازش نہیں کی، بلکہ ہمیشہ ایک دوسرے کی پشت پناہی کی۔ معز الدین نے غزنی کو اپنا مرکز بنا کر مشرق (ہندوستان) کی طرف پیش قدمی شروع کی جبکہ ان کے بڑے بھائی مغرب کی طرف خوارزم شاہی سلطنت سے نبرد آزما رہے۔ معز الدین غوری نے ہمیشہ اپنے بھائی کو اپنا اعلیٰ حکمران تسلیم کیا اور خطبے اور سکوں میں ان کا نام مقدم رکھا۔

ہندوستان پر لشکر کشی اور تراین کے تاریخی معرکے

سلطان غوری نے ہندوستان میں مسلم سلطنت قائم کرنے کا پختہ ارادہ کیا۔ ان کا مقصد محض لوٹ مار نہیں بلکہ مستقل اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ انہوں نے پہلی مہم 1175ء میں ملتان کے خلاف کی اور اسے فتح کیا۔ اس کے بعد پشاور، سیالکوٹ اور لاہور کو یکے بعد دیگرے فتح کر کے غزنوی حکومت کا خاتمہ کیا۔ ہندوستان کے دل دہلی پر قبضے کے لیے ان کا سامنا راجپوتوں کے اتحاد کے سرغنہ پرتھوی راج چوہان سے ہوا۔ 1191ء میں ‘تراین کے پہلے معرکے’ میں سلطان غوری کو شکست ہوئی اور وہ شدید زخمی ہوئے، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ ایک سال تک شب و روز جنگی تیاریوں کے بعد، 1192ء میں ‘تراین کے دوسرے معرکے’ میں سلطان نے اپنی جنگی حکمتِ عملی سے پرتھوی راج کو عبرت ناک شکست دی، جس سے ہندوستان کے دروازے مسلمانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے کھل گئے۔

انتظامی اصلاحات، ترویجِ اسلام اور سیرت و کردار

سلطان معز الدین غوری ایک انتہائی عادل، دین دار اور باصلاحیت حکمران تھے۔ انہوں نے مفتوحہ علاقوں میں شریعتِ اسلامیہ کا نفاذ کیا اور علمائے کرام و صوفیائے عظام کی دل کھول کر سرپرستی کی۔ مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ انہی کے دورِ حکومت میں اجمیر تشریف لائے اور لاکھوں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ سلطان کی سب سے بڑی طاقت ان کے وفادار غلام تھے، جنہیں انہوں نے بیٹوں کی طرح پالا اور ان کی عسکری و سیاسی تربیت کی۔ ان غلاموں میں قطب الدین ایبک (فاتحِ شمالی ہند و بانی خاندانِ غلاماں) اور محمد بن بختیار خلجی (فاتحِ بنگال و بہار) شامل تھے جنہوں نے ہندوستان میں اسلامی تہذیب کی جڑیں مضبوط کیں۔

شہادتِ عظمیٰ اور تاریخی میراث

سلطان معز الدین غوری اپنی زندگی کے آخری ایام تک جہاد اور سلطنت کے دفاع میں مصروف رہے۔ 1206ء میں جب وہ جہلم کے قریب ‘دھامک’ (موجودہ سوہاوہ، پاکستان) کے مقام پر دریائے جہلم کے کنارے خیمہ زن تھے اور عشاء کی نماز ادا کر رہے تھے، تو اس دوران چند حملہ آوروں نے غداری سے حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا۔ ان کی شہادت سے غوری سلطنت بکھر گئی لیکن ان کے وفادار جرنیل قطب الدین ایبک نے دہلی میں پہلی آزاد مسلم سلطنت (سلطنتِ دہلی) کی بنیاد رکھی۔ سلطان غوری کو سوہاوہ (ضلع جہلم) میں دفن کیا گیا، جہاں آج بھی ان کا شاندار مزار مرجعِ خلائق ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • قاضی منہاج سراج جوزجانی (طبقاتِ ناصری)
  • ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ)
  • ملا محمد قاسم ہندو شاہ فرشتہ (تاریخِ فرشتہ)
  • ضیاء الدین برنی (تاریخِ فیروز شاہی)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية – معرکہ ہند کے احوال)

مبارک اقوال و ارشادات

’میرے پاس کوئی بیٹا نہیں ہے تو کیا ہوا؟ یہ ہزاروں ترکی اور غوری غلام جو میرے تربیت یافتہ ہیں، یہی میرے بیٹے اور میری سلطنت کے وارث ہیں۔‘

’جہاد اور حق کی سربلندی ہی میری زندگی کا اصل مقصد ہے، اور ہند کی سرزمین پر عدلِ الہیٰ کا قیام میرا خواب ہے۔‘

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان معز الدین محمد غوری (بانی سلطنت دہلی)

لقب و کنیت: شہاب الدین (ابتدائی لقب)، معز الدین (شاہی لقب)، سلطان غازی، فاتحِ ہند، بانیِ سلطنتِ دہلی
قبیلہ: شنسبانی خاندان (غوری خاندان، تاجک/فارسی النسل)
سن پیدائش و وفات: 544 ھ – 3 شعبان 602 ھ / 1149ء – 15 مارچ 1206ء
مقام تدفین: سوہاوہ (دھامک)، ضلع جہلم، پنجاب، پاکستان
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com