خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان محمود غزنوی (شکن بتانِ ہند و فاتح سومنات)

« يمين الدولة أبو القاسم محمود بن سبكتكين الغزنوي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان محمود غزنوی کی ولادت 10 محرم الحرام 361 ہجری (مطابق 971ء) کو غزنی (موجودہ افغانستان) میں ہوئی۔ ان کے والد امیر ابو منصور سبکتگین سلطنت غزنویہ کے بانی اور ایک عادل و شجاع حکمران تھے۔ محمود غزنوی نے بچپن ہی سے روایتی اسلامی علوم، جن میں قرآن کریم، فقہ حنفی اور علمِ حدیث شامل ہیں، کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد نے ان کی عسکری اور سیاسی تربیت پر خصوصی توجہ دی، جس کی بدولت وہ نوجوانی میں ہی ایک مدبر جرنیل بن کر ابھرے۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

چونکہ سلطان محمود غزنوی ایک راسخ العقیدہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے ان کی پوری زندگی اسلام کی ترویج اور دفاع کے لیے وقف تھی۔ تخت نشینی (388ھ / 998ء) کے فوراً بعد انہوں نے بغداد کے عباسی خلیفہ القادر باللہ سے بیعت کی اور خلیفہ نے انہیں ‘یمین الدولہ’ اور ‘امین الملت’ کے معزز القاب سے نوازا۔ سلطان نے اپنی حکومت کا آغاز شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ اور اپنی قلمرو میں امن و امان کے قیام سے کیا۔ انہوں نے باطل فرقوں (جیسے ملتان کے قرامطہ) کے خلاف کارروائی کر کے خطے میں سنی عقائد کا تحفظ کیا اور اسلامی اتحاد کو مضبوط کیا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

سلطان محمود غزنوی کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ ہندوستان میں اسلام کی دعوت کا پھیلانا اور کفر کے گڑھ توڑنا ہے۔ انہوں نے ہندوستان پر 17 کامیاب حملے کیے۔ ان کا سب سے معرکہ آرا حملہ 416ھ (1026ء) میں سومنات کے مندر پر تھا، جہاں انہوں نے اس وقت کے سب سے بڑے بت کو پاش پاش کر کے توحید کی عظمت کا اعلان کیا۔ سلطان محمود غزنوی محض ایک فاتح ہی نہیں تھے، بلکہ وہ علم و ادب کے عظیم سرپرست تھے۔ ان کے دربار میں بو علی سینا، ابو ریحان البیرونی اور فردوسی جیسے جلیل القدر علماء اور شعراء موجود تھے۔ انہوں نے غزنی میں عظیم الشان مساجد، مدارس اور کتب خانے قائم کیے۔ ان کی عدالت میں غریب و امیر سب کے لیے برابر انصاف کا قانون رائج تھا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

سلطان محمود غزنوی عمر کے آخری حصے میں تپِ دق (ٹی بی) اور دیگر امراض میں مبتلا ہو گئے، لیکن علالت کے باوجود وہ سلطنت کے امور خود چلاتے رہے۔ بالآخر 23 ربیع الثانی 421 ہجری (مطابق 30 اپریل 1030ء) کو 59 سال کی عمر میں غزنی میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ ان کا مزار آج بھی غزنی میں مرجعِ خلائق ہے۔ ان کی وفات کے بعد سلطنت غزنویہ کی حدود ایران سے لے کر وسطی ایشیا اور برصغیر کے وسیع علاقوں تک پھیل چکی تھیں۔ تاریخِ اسلام میں انہیں پہلے باضابطہ ‘سلطان’ کا لقب حاصل ہے اور وہ تاریخِ برصغیر میں اسلام کی آمد کا پہلا اور مضبوط ترین ذریعہ بنے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابو النصر العتبی (تاریخِ یمینی)
  • ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ)
  • ابن کثیر الدمشقی (البدایہ والنہایہ)
  • محمد قاسم فرشتہ (تاریخِ فرشتہ)
  • امام شمس الدین الذہبی (سیر اعلام النبلاء)

مبارک اقوال و ارشادات

عدل و انصاف کے بغیر سلطنت کا وجود قائم نہیں رہ سکتا، خواہ اس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج ہی کیوں نہ ہو۔

میری یہ تلوار ہند میں کفر کی تاریکی کو مٹانے اور توحید کا پرچم بلند کرنے کے لیے اٹھی ہے، ذاتی شہرت کے لیے نہیں۔

میں روزِ قیامت اللہ کے حضور اس حال میں پیش ہونا پسند کروں گا کہ بتوں کا خریدار نہیں بلکہ بتوں کو توڑنے والا (شکن بتان) کہلاؤں۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان محمود غزنوی (شکن بتانِ ہند و فاتح سومنات)

لقب و کنیت: ابو القاسم (کنیت)، یمین الدولہ، امین الملت، غازی، شکن بتانِ ہند، فاتح سومنات (القاب)
قبیلہ: سلطنت غزنویہ (ترک نژاد آلِ سبکتگین)
سن پیدائش و وفات: 361 ھ – 421 ھ / 971ء – 1030ء
مقام تدفین: روضہ سلطان محمود غزنوی، غزنی، افغانستان
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com