خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان فیروز شاہ تغلق

« السلطان جلال الدين فيروز شاه بن الملك رجب بن تغلق القراؤني التركي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان فیروز شاہ تغلق 1309ء (709 ھ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ملک رجب، سلطنتِ دہلی کے بانی غیاث الدین تغلق کے چھوٹے بھائی تھے۔ فیروز شاہ کی والدہ ہندو راجپوت شہزادی بی بی نائلہ تھیں، جو دپالپور کے راجا رنمل کی صاحبزادی تھیں۔ فیروز شاہ کی تربیت ان کے تایا غیاث الدین تغلق اور چچا زاد بھائی محمد بن تغلق کی زیرِ نگرانی انتہائی شاہانہ اور علمی ماحول میں ہوئی۔ وہ بچپن ہی سے ذہین، سنجیدہ اور مذہبی مزاج کے حامل تھے۔ محمد بن تغلق نے اپنی زندگی میں ہی انہیں اپنا ولی عہد نامزد کر دیا تھا کیونکہ وہ فیروز شاہ کی انتظامی صلاحیتوں اور نرم مزاجی کے معترف تھے۔

تخت نشینی اور ملکی اصلاحات (عدل و انصاف)

سلطان محمد بن تغلق کے انتقال کے بعد 23 مارچ 1351ء کو فیروز شاہ تغلق کثرتِ رائے سے تختِ دہلی پر متمکن ہوئے۔ تخت نشینی کے وقت سلطنت شدید بحران اور بغاوتوں کا شکار تھی۔ فیروز شاہ نے اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے شریعتِ اسلامی کے مطابق نظامِ حکومت استوار کیا۔ انہوں نے سلطنت کے تمام غیر شرعی اور ظالمانہ ٹیکس (تقریباً 24 اقسام کے ابواب) معاف کر دیے اور صرف شرعی قوانین (جزیہ، زکوٰۃ، خمس اور خراج) نافذ کیے۔ انہوں نے سابقہ دور کی تمام وحشیانہ سزائیں، جیسے ہاتھ پاؤں کاٹنا، آنکھیں نکالنا اور زندہ جلا دینا، ہمیشہ کے لیے ممنوع قرار دیں اور عدل و انصاف کا مثالی نظام قائم کیا۔

مذہبی خدمات، فلاحی کام اور علمی سرپرستی

سلطان فیروز شاہ تغلق کو ان کے فلاحی کاموں اور اسلامی خدمات کی وجہ سے دہلی کے سلاطین میں سب سے ممتاز مقام حاصل ہے۔ انہوں نے جابجا مساجد، مدارس، ہسپتال (دار الشفاء)، خانقاہیں اور سرائیں تعمیر کروائیں۔ انہوں نے یتیموں، بیواؤں اور غریبوں کی امداد کے لیے ایک مستقل محکمہ ‘دیوانِ خیرات’ قائم کیا۔ ان کے دورِ حکومت میں زراعت کو فروغ دینے کے لیے پانچ بڑی نہریں کھدوائی گئیں، جن میں ‘نہرِ شہاب’ (موجودہ مغربی جمنا نہر) سب سے مشہور ہے۔ انہوں نے فتاویٰ تاتارخانیہ جیسی عظیم فقہی دستاویز کی تیاری کی سرپرستی کی اور علمِ دین، عربی و فارسی علوم کے فروغ کے لیے بے پناہ وظائف مقرر کیے۔ سلطنتِ عباسیہ کے خلیفہ نے انہیں باقاعدہ سندِ خلافت اور خلعتِ فاخرہ ارسال کی تھی۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

سلطان فیروز شاہ تغلق نے تقریباً 37 سال انتہائی کامیابی اور عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرنے کے بعد 18 رمضان 790 ھ (20 ستمبر 1388ء) کو وفات پائی۔ ان کا مزار دہلی کے علاقے حوض خاص میں واقع ہے، جو آج بھی ان کی تعمیراتی اور علمی ذوق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مؤرخین انہیں عہدِ وسطیٰ کا ایک مصلح اور شفیق حکمران تسلیم کرتے ہیں، جن کے دور میں برصغیر پاک و ہند نے امن، خوشحالی اور علمی ترقی کے سنہری دور کا نظارہ کیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ضیاء الدین برنی (تاریخ فیروز شاہی)
  • شمس سراج عفیف (تاریخ فیروز شاہی – مفصل حالات)
  • سلطان فیروز شاہ تغلق (فتوحاتِ فیروز شاہی – خود نوشت سوانح)
  • ملا عبد القادر بدایونی (منتخب التواریخ)
  • ابوالقاسم فرشتہ (تاریخ فرشتہ)

مبارک اقوال و ارشادات

میں نے اپنے دورِ حکومت میں ہر اس سزا اور عقوبت کو ممنوع قرار دے دیا ہے جو شریعتِ اسلامیہ کے احکام اور انسانی وقار کے خلاف ہو۔

رعایا کی خوشحالی اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنا، فتوحات اور سلطنت کی وسعت سے ہزار درجہ بہتر ہے۔

پروردگار نے مجھے سلطنت محض عیش و عشرت کے لیے نہیں، بلکہ خلقِ خدا کی خدمت اور شریعتِ محمدی ﷺ کے نفاذ کے لیے عطا فرمائی ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان فیروز شاہ تغلق

لقب و کنیت: ابو المظفر، کمال الدین، جلال الدنیا والدین، سید السلاطین، خلیفہ کا نائب (قسیم امیر المؤمنین)
قبیلہ: تغلق (ترک نژاد قرونہ خاندان)
سن پیدائش و وفات: 709 ھ – 790 ھ / 1309ء – 1388ء
مقام تدفین: مقبرہ فیروز شاہ، حوض خاص، دہلی، ہندوستان
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com