خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان غیاث الدین بلبن

« السلطان غياث الدين بلبن الإلبري التركي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان غیاث الدین بلبن کا تعلق وسطی ایشیا کے ترکوں کے معزز قبیلے ‘ایلبر’ سے تھا۔ وہ بارہویں صدی عیسوی کے آغاز میں ایک امیر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابھی نوعمر ہی تھے کہ منگولوں کے وحشیانہ حملوں کے دوران انہیں قیدی بنا لیا گیا اور بغداد لایا گیا، جہاں خواجہ جمال الدین بصری نے انہیں خریدا اور ان کی بہترین تعلیم و تربیت کی۔ بعد ازاں، 1232ء میں انہیں دہلی لایا گیا، جہاں سلطنتِ دہلی کے بانی سلطان شمس الدین التتمش نے ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو بھانپ کر انہیں اپنے خاص غلاموں کے دستے ‘چہلگانی’ (چالیس ترک امراء کا گروہ) میں شامل کر لیا۔ اپنی محنت، وفاداری اور عسکری فہم کی بدولت بلبن نے تیزی سے ترقی کے مدارج طے کیے۔

سیاسی عروج اور تخت نشینی

سلطان التتمش کی وفات کے بعد دہلی کی سلطنت شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو گئی۔ بلبن نے مختلف سلاطین کے ادوار میں اہم فوجی اور انتظامی خدمات سرانجام دیں۔ سلطان ناصر الدین محمود (جو کہ بلبن کے داماد بھی تھے) کے دورِ حکومت میں بلبن ‘نائبِ سلطنت’ (وزیر اعظم) کے عہدے پر فائز ہوئے اور بیس سال تک عملاً حکومت کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ اس دوران انہوں نے سلطنت کو اندرونی بغاوتوں اور بیرونی منگول حملوں سے بچایا۔ 1266ء میں سلطان ناصر الدین محمود کی وفات کے بعد، بلبن غیاث الدین بلبن کے لقب سے دہلی کے تخت پر جلوہ افروز ہوئے اور ایک نئے اور مضبوط دور کا آغاز کیا۔

نمایاں کارنامے، ملکی استحکام اور منگول پالیسی

سلطان غیاث الدین بلبن کا شمار تاریخِ اسلام کے انتہائی باوقار، رعب دار اور مصلح حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ تخت نشین ہوتے ہی انہوں نے گرتی ہوئی سلطنت کو سنبھالنے کے لیے ‘لوہے اور خون کی پالیسی’ (Policy of Iron and Blood) اختیار کی۔ انہوں نے امراءِ چہلگانی کے اثر و رسوخ کو ختم کیا تاکہ مرکزیت قائم ہو سکے۔ دربارِ شاہی کی ہیبت بحال کرنے کے لیے انہوں نے ایرانی درباری آداب مثلاً ‘سجدہ’ اور ‘پابوس’ (قدم بوسی) رائج کیے۔ ملکی دفاع کے لیے انہوں نے ایک بہترین جاسوسی نظام قائم کیا اور فوج کو جدید خطوط پر منظم کیا۔ منگولوں کے مسلسل حملوں کو روکنے کے لیے انہوں نے شمال مغربی سرحدوں پر مضبوط قلعے تعمیر کروائے اور وہاں تجربہ کار فوج متعین کی، جس کے نتیجے میں دہلی منگولوں کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہا۔

دینی جھکاؤ، علمی سرپرستی اور وصال

بلبن ذاتی زندگی میں انتہائی متقی اور پابندِ شریعت مسلمان تھے۔ وہ علمائے دین اور صوفیائے کرام کا بے حد احترام کرتے تھے۔ مشہور چشتی بزرگ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ سے ان کی گہری عقیدت تھی۔ ان کے دربار میں علم و ادب کو عروج حاصل ہوا؛ طوطیِ ہند امیر خسرو دہلوی اور امیر حسن سجزی جیسے عظیم شعراء ان کے دربار کی زینت تھے۔ بلبن کو اپنے سب سے بڑے اور لائق بیٹے، شہزادہ محمد (خانِ شہید) سے شدید محبت تھی، جو منگولوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس صدمے نے بلبن کو نڈھال کر دیا اور وہ اسی غم کے باعث بیمار رہنے لگے، یہاں تک کہ 1287ء (686ھ) میں یہ جلیل القدر فرمانروا وفات پا گیا۔ ان کی تدفین دہلی میں کی گئی، جہاں ان کا مقبرہ آج بھی موجود ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ضیاء الدین برنی (تاریخِ فیروز شاہی)
  • یحییٰ بن احمد سرہندی (تاریخِ مبارک شاہی)
  • ابن بطوطہ (رحلہ ابن بطوطہ / عجائب الاسفار)
  • شمس سراج عفیف (تاریخِ فیروز شاہی)
  • منہاج السراج جوزجانی (طبقاتِ ناصری)

مبارک اقوال و ارشادات

سلطنت اور بادشاہت اللہ تعالیٰ کا ایک خاص عطیہ ہے، اور بادشاہ کا دل الٰہی تجلیات کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔

رعایا کے ساتھ عدل و انصاف کرنا بادشاہ کا سب سے پہلا فرض ہے، کیونکہ کفر کے ساتھ حکومت چل سکتی ہے لیکن ناانصافی کے ساتھ نہیں۔

شاہی دربار کا رعب و دبدبہ اور آئینِ جہانبانی کا وقار برقرار رکھنا سلطنت کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان غیاث الدین بلبن

لقب و کنیت: غیاث الدین، الغ خان، خاقانِ اعظم، ظل اللہ (سلطانِ دہلی)
قبیلہ: ترکوں کا معزز قبیلہ 'ایلبر' (Ilbari Turkic Tribe)
سن پیدائش و وفات: 600ھ تا 686ھ / 1200ء تا 1287ء
مقام تدفین: مہرولی، دہلی، ہندوستان (نزد قطب مینار کمپلیکس)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com